Today: Wednesday, September, 19, 2018 Last Update: 09:47 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

گزشتہ تین برسوں کے دوران خاتون کھلاڑیوں کے جنسی استحصال کے چھ معاملے درج کئے گئے : وزارت کھیل

 

نئی دہلی 26 نومبر (یو این آئی) مرکزی وزارت کھیل نے اعتراف کیا ہے کہ مختلف ٹورنامنٹوں اور تربیت کے دوران خواتین کھلاڑیوں کے جنسی استحصال کے معاملے سامنے آ رہے ہیں جنہیں روکنے کے لیے حکومت نے علاقائی سطح پر کمیٹیاں قائم کی ہیں۔وزیر کھیل سرباننند سونووال نے پارلیمنٹ میں خواتین کھلاڑیوں کے جنسی استحصال کے معاملہ سامنے آنے کے تعلق سے سوال کے جواب میں اعتراف کیا کہ ایسے معاملے سامنے آئے ہیں لیکن اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (سائی)نے ایسے معاملات کے تصفیہ کے لیے علاقائی سطح پر کمیٹیاں قائم کی ہیں۔مسٹر سونووال نے گزشتہ تین برسوں کے دوران خواتین کھلاڑیوں کے جنسی استحصال کے تعلق سے تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اس مدت میں چھ معاملے درج ہوئے ہیں جن میں مناسب کارروائی بھی کی گئی ہے۔ ان میں سے ویٹ لفٹنگ میں دو، فٹ بال میں ایک، ایتھلیٹ میں دو اور کشتی میں ایک معاملہ درج کیا گیا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ان تمام جنسی استحصال کے معاملات میں خواتین کھلاڑیوں کے ساتھ ظلم و ستم کرنے والے ان کے انسٹرکٹر ہی ہیں۔ ملزم انسٹرکٹروں میں رمیش پراشر( شتی)، وائی کے سنگھ (ہیوی ویٹ)، بجرنگ لال (فٹبال)، ستویر سنگھ ( شتی) کے بی سنگھ (ایتھلیٹ)، او چاؤبا( ایتھلیٹ) شامل ہیں ۔سائی نے انسٹرکٹروں کے خلاف تفتیشی کمیٹی قائم کرنے کے علاوہ کچھ پر جرمانہ لگانے تک کی کارروائی کی ہے۔خواتین کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے کئے گئے اقدامات کے بارے میں مسٹر سونووال نیبتایا کہ سر ار نے خواتین کھلاڑیوں کی کھیل کے مقام یا دوروں کے دوران سیکورٹی کو یقینی بنانے کے علاوہ ان کی سہولیات میں بہتری کے لیے بھی اقدامات کئے ہیں۔ اس کے علاوہ شکایات کے تصفیہ کے لیے خواتین مشیر کی صدارت میں کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جس میں کھلاڑیوں سے متعلق معلومات کو پوری طرح خفیہ رکھا جاتا ہے ۔ کھیلوں کے وزیر نے مزید کہا کہ خواتین کھلاڑیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے ہدایات بھی جاری کی ہیں جس میں مجرم کھلاڑی کے خلاف سخت کارروائی سمیت جرمانہ لگانے تک کا انتظام ہے۔

...


Advertisment

Advertisment