Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 12:38 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

میرا ہدف عالمی کپ کیلئے ٹیم انڈیا میں جگہ بنانا :ہربھجن

 

مشتبہ ایکشن والے گیند باز ہربھجن سے سیکھیں : رچرڈسن

نئی دہلی۔ 26 نومبر (یو این آئی) حال ہی میں وجے ہزارے ٹرافی میں رنراپ رہنے والی پنجاب ٹیم کے اسٹار کھلاڑی ہربھجن سنگھ نے اپنی گھریلو کارکردگی پر خوشی کا اظہا رکرتے ہوئے کہاکہ ان کا ہدف آئندہ عالمی کپ کے لئے ٹیم انڈیا میں جگہ بنانا ہے۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ایک پرموشنل پروگرام میں یہاں شرکت کرنے آئے ہربھجن سنگھ نے کہاکہ میرا ہدف عالمی کپ ہے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہونے والے عالمی کپ میں ٹیم کا حصہ بننا اہم ہوگا۔ ایک کھلاڑی کے لئے عالمی کپ بہت بڑا ٹورنامنٹ ہے اور میری امیدیں ابھی زندہ ہیں۔سال 2011 میں عالمی کپ جیتنے والی ہندوستانی ٹیم کا حصہ رہنے والے ہربھجن سنگھ نے کہا کہ ہر صبح جب میں اٹھتا ہوں تو مثبت رہتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ میں ٹیم کا حصہ بننے جارہا ہوں ۔ میں پھر سے ہندوستان کے لئے اچھا کرنے کے لئے خود کو حوصلہ دیتا ہوں۔ ظاہر ہے میں آئندہ ہر میچ میں اچھی کارکردگی پیش کرکے ہندوستانی ٹیم میں پھر سے جگہ بنانے کی جانب دیکھ رہا ہوں۔
پنجاب کی طرف سے قومی ون ڈے ٹورنامنٹ میں اپنی کارکردگی کے بارے میں بھجی نے کہاکہ میں اپنی گیند بازی کی کوششوں سے خوش ہوں کہ میں نے ٹیم کو وجے ہزار یکے فائنل تک پہنچایا۔ مجھے فخر ہے کہ پنجاب کے کھلاڑیوں نے اچھی کارکردگی پیش کی۔ یہ تھوڑا افسوسناک ہے کہ ہم ٹرافی نہیں اٹھا سکے۔ ہم کوشش کریں گے کہ اگلی مرتبہ زیادہ بہتر تیاری کے ساتھ آئیں اور ٹرافی جیتیں۔۔101 ٹیسٹ اور 229 ون ڈے میچ کھیل چکے ہربھجن نے ہندوستانی ٹیم کے آسٹریلیائی دورے کے بارے میں کہاکہ آسٹریلیا میں کھیلنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے کہ آپ مثبت طریقے سے کھیلیں لیکن جتنا میں آسٹریلیائی ٹیم کو جانتا ہوں وہ نہایت خطرناک ٹیم ہے خاص کر اپنی سرزمیں پر۔ انہیں شکست دینے کے لئے آپ کو جارح ہونے کی ضرورت ہے۔سال 08۔2007 میں آسٹریلیا ئی دورے کے دوران 147منکی گیٹ148 معاملے میں شامل رہنے والے ہربھجن سنگھ کہا کہ جارح ہونے کا مطلب غلط الفاظ کا استعمال کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ جارح سے میرا مطلب کچھ غلط کرنے سے نہیں ہے جیسا آپ کھیلتے ہیں اس سے آپ کی جارحیت نظر آتی ہے۔

دوسری جانب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے چیف ایکزیکیوٹیو افسر رچرڈسن نے آف اسپنر ہربھجن سنگھ کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ مشتبہ گیند بازی کی شکایتوں کا سامنا کرنے والے کھلاڑیوں کو ہندوستانی کرکٹر سے سبق لینا چاہئے۔بھجی کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے رچرڈسن نے کہاکہ کیریر میں دو مرتبہ مشتبہ گیندبازی ایکشن کی شکایت کے باوجود ہندوستانی کرکٹر اپنے ایکشن میں بہتری لائے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حالیہ مشتبہ گیند بازی ایکشن کے خلاف مہم چلانے کے پیچھے ایسے کھلاڑیوں کے انتخاب کو روکنا ہے جن کی گیند بازی مشکوک ہے۔مشتبہ گیندبازی ایکشن کے معاملوں سے نپٹنے کے بارے میں جون میں آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی کی میٹنگ میں بات چیت کی گئی۔ میٹنگ میں تمام اراکین نے متفقہ طورپر مشتبہ گیند بازی ایکشن کا پتہ لگانے کے لئے استعمال کئے جانے والے غیرمناسب طریقے کے بارے میں آواز اٹھائی ۔آئی سی سی کے تشہیری پروگرام سے علیحدہ یہاں رچرڈسن نے کہاکہ ہم ایک ایسی صورتحال میں پہنچ گئے تھے جہاں زیادہ تر گیند باز ضابطوں کو توڑ رہے تھے اور پھر کرکٹ کمیٹی نے اس پر کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔

رچرڈسن نے کہاکہ مجھے لگتا ہے کہ جن گیند بازوں پرمشتبہ گیند بازی کی وجہ سیپابندی لگائی گئی ہے وہ اپنے ایکشن پر مشق کرکے بہتری لارہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹیم تک یہ پیغام بھی گیا کہ مشتبہ گیندبازی ایکشن والے کھلاڑیوں کو منتخب نہ کریں بلکہ ان کا انتخاب کیا جائے جن کا ایکشن ٹھیک ہے۔اس معاملے پر آئی سی سی کے سخت موقف کے بعد آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں نمبر ایک گیندباز سعید اجمل، سہاگ غازی، سچترا سینیانائکے، پراستر اتسیا اور کین ولیمسن کو مشتبہ گیندبازی ایکشن کی وجہ سے پابندی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔رچرڈسن نے امید ظاہر کی کہ گیند بازہربھجن سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ہندوستانی آف اسپنر کیگیند بازی ایکشن کی شکایت 1998 میں کی گئی جس کے بعد وہ اپنے ایکشن میں بہتری لائے اور دوسری بار 2004 میں ان کے ایکشن کی شکایت کی گئی۔پروگرام میں شرکت کرنے کے لئے آئے ہربھجن نے کہاکہ نہ صرف ایک بار بلکہ دو بار میرے ایکشن پر سوال اٹھے۔ آئی سی سی نے کچھ ضابطے بنائے جو گیند باز انہیں توڑتے ہیں ان کو دیکھنے کے لئے لوگ ہیں۔ وہ کسی کوکرکٹ کھیلنے سے منع نہیں کررہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ پہلے اسکول جاکر آئی سی سی کے ضابطوں کے مطابق گیندبازی کرنا سیکھو۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment