Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 08:53 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

مفادات کے ٹکراؤ پر شری نواسن جواب دہ : سپریم کورٹ

 

نئی دہلی، 24 نومبر (یواین آئی) سپریم کورٹ نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل ۔6) میں بدعنوانی کے معاملے پر مدگل کمیٹی کی جانچ رپورٹ پر پیر کو سماعت کے دوران بی سی سی آئی کے صدر این شری نواسن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مفادات کے ٹکراؤ پر ان کی جوابدہی بنتی ہے اور وہ اس معاملے میں خود کو الگ نہیں کر سکتے۔جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر اور جسٹس ایم ایف ابراہیم خلیف اللہ کی بینچ نے آئی پی ایل چھ میں فکسنگ اور سٹے بازی کے معاملے پر تحقیقات کر رہی ریٹائرڈ جج مکل مدگل کی صدارت والی تین رکنی تفتیشی ٹیم کی رپورٹ پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ جینٹل مین کا کھیل ہے اور اسے اسی جذبہ کے ساتھ کھیلا جانا چاہیئے۔ اگر آپ بی سی سی آئی اور آئی پی ایل کے اس کھیل میں فکسنگ جیسی چیزوں کو ہونے دیں گے تو آپ کرکٹ کو ہی تباہ کریں گے ۔عدالت نے بورڈ کے کام کاج سے علیحدہ کئے گئے این شری نواسن سے کہا کہ ان کی ٹیم کے کچھ لوگ سٹے بازی میں ملوث تھے اور اس لئے ان کی جوابدہی بنتی ہے۔سپریم کورٹ نے شری نواسن سے کہا کہ آپ کو مفادات کے ٹکراؤ کے سوالات کا جواب دینا ہوگا کیونکہ آپ بی سی سی آئی کے صدر بھی ہیں اور آئی پی ایل کی ٹیم کے مالک بھی ہیں ، جس کے افسر بدعنوانی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ایسے میں آپ اس معاملے سے خود کو الگ نہیں کر سکتے ہیں ۔بینچ نے کہا کہ آپ بی سی سی آئی اور آئی پی ایل کے درمیان فرق نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ آئی پی ایل تو اسی کا حصہ ہے۔ ٹیم میں حصہ داری ہونے سے ہی مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔ بی سی سی آئی کے صدر کے طور پر آپ کے اوپر ہی ٹورنامنٹ کو چلانے کی ذمہ داری ہے۔ لیکن خود ہی ٹیم کے مالک ہونے سے سوال پیدا ہوتے ہیں اور اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ۔معاملے کی اگلی سماعت منگل تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔اگرچہ بی سی سی آئی کے وکیل نے عدالت میں دلیل پیش کی کہ بمبئی ہائی کورٹ پہلے ہی مفادات کے ٹکراؤ کے معاملے سے انکار کر چکی ہے۔ خیال رہے کہ شری نواسن نے سپریم کورٹ سے ایک بار پھر صدر بننے کی اجازت مانگی ہے۔ شری نواسن نے کہا تھا کہ مدگل رپورٹ میں ان کے خلاف بدعنوانی میں ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔ اس لئے ان کو ایک بار پھر اہم کردار نبھانے کی اجازت دی جائے۔شری نواسن کو آئی پی ایل چھ معاملے کی تفتیش مکمل ہونے تک سپریم کورٹ نے بی سی سی آئی کے کام کاج سے دور رہنے کے لئے کہا تھا۔ ایسے میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے سربراہ کے عہدے پر قابض شری نواسن کے لئے ایک بار پھر دنیا کے سب سے امیر کرکٹ بورڈ کے سربراہ کے عہدے کو حاصل کرنے کی توقعات کو گہرا جھٹکا لگا ہے۔سپریم عدالت نے ساتھ ہی کہا کہ بی سی سی آئی کے کچھ لوگوں کے پاس ٹیمیں ہیں۔ اس سے یہ ان کے لئے آپس میں فائدے کا سودا ہو گیا ہے۔ لیکن اگر لوگوں کو پتہ چلے کہ میچ فکس ہے تو اسٹیڈیم میں کون اسے دیکھنے آئے گا۔ ہندوستان میں کرکٹ کو مذہب کی طرح تصور کیا جاتا ہے اور اس کا پتہ تب چلتا ہے جب ایڈن گارڈن میں ایک لاکھ لوگ ایک ساتھ ٹیم کی جیت پر خوشی مناتے ہیں ۔ عدالت نے کرکٹ سے بدعنوانی ہٹانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کرکٹ کو بدعنوانی سے بچایا جائے ۔مدگل رپورٹ نے شری نواسن کو فکسنگ یا سٹے بازی میں ملوث ہونے کا مجرم نہیں پایا تھا۔ لیکن رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ بی سی سی آئی کے کچھ حکام اور شری نواسن کو اس بات کی اطلاع تھی کہ کچھ کھلاڑی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment