Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 10:45 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

سری نواسن کے دفاع میں بی سی سی آئی نے دائر کیا حلف نامہ

 

بورڈ صدر کی ذمہ داری ادا کرنے کی اجازت دی جائے : شری نواسن

نئی دہلی، 21 نومبر (یو این آئی) ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے این شری نواسن پر کھلاڑیوں کے ضابطے کی خلاف ورزی کے باوجود کارروائی نہیں رنے کے مدگل کمیٹی کے الزامات پر صفائی دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کیا ہے۔آئی پی ایل چھ معاملے کی تحقیقات کر نے والی ریٹائرڈ جج مکل مدگل کمیٹی نے سپریم کورٹ میں دائر اپنی رپورٹ میں بورڈ کی سرگرمیوں سے الگ کئے گئے صدر کو فکسنگ اور سٹے بازی کے الزامات میں کلین چٹ دی تھی لیکن کمیٹی نے شری نواسن اور بورڈ کے چار دیگر افسران پر کچھ کھلاڑیوں کے مشتبہ سرگرمیوں میں شامل ہونے کی اطلاع کے باوجود کارروائی نہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔بی سی سی آئی نے سپریم کورٹ میں دائر اپنے حلف نامے میں شری نواسن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں ذکر کئے گئے تینوں کھلاڑیوں کی زبانی طور پر سرزنش کی گئی تھی۔ اس وقت کے بورڈ صدر ششانک منوہر نے بھی کھلاڑیوں کی صفائی پر اطمینان ظاہر کیا تھا۔حلف نامے میں بی سی سی آئی کے صدر سنجے پٹیل نے بتایاکہ 18 نومبر کو بی سی سی آئی نے مدگل کمیٹی کی رپورٹ پر تفصیلی بحث کی تھی۔ اڑیسہ کرکٹ ایسوسی ایشن کے نمائندے رنجیب بسوال جو اس وقت موجود تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کھلاڑیوں کی زبانی طور پر سرزنش کی گئی اور اس وقت کے بورڈ صدر ششانک منوہر نے بھی کھلاڑیوں کی صفائی پر اطمینان ظاہر کیا تھا۔بسوال اس دوران ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے منیجر تھے ۔واضح رہے کہ تین نومبر کو مدگل رپورٹ کو سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا تھا۔ اس میں شری نواسن کو147 انڈی ویجوئل 13 کے طور پر ذکر کیا گیا تھا اور کہا گیا کہ یہ شخص اور بورڈ کے چار دیگر افسروں نے147 انڈی ویجوئل 148 کے قوانین کی خلاف ورزی کی اطلاعات کے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔رپورٹ میں انڈی ویجوئل تین قصوروار کھلاڑیوں اور انڈی ویجوئل 13 شری نواسن کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔اس رپورٹ کو جانچ کے دائرے میں آئے لوگوں کے ساتھ اشتراک کیا گیا تھا جس میں آئی سی سی چیف شری نواسن کو فکسنگ یا سٹے بازی جیسی کسی سرگرمی میں ملوث نہیں پایا گیا۔ لیکن آئی پی ایل سی ای او سندر رمن ،چنئی سپر کنگس کے افسران گروناتھ میئپن اور راجستھان رائلس کے شریک مالک راج کندرا پر بدعنوانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 24 نومبر کو ہوگی۔

دوسری جانب ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ بی سی سی آئی کے صدر این شری نواسن نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ انہیں بورڈ کے صدر کے عہدہ کی ذمہ داری ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ شری نواسن نے کہا کہ جسٹس مْکل مدگل کمیٹی کے ذریعہ انڈین پریمیر لیگ کے چھٹے ایڈیشن میں فکسنگ اور سٹے بازی کے الزامات سے بری کئے جانے کے بعد انہیں بورڈ کے صدر کی ذمہ داری ادا کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جسٹس مکل مدگل کمیٹی نے فکسنگ اور سٹے بازی کے الزامات سے مجھے بری کردیا ہے۔ اس لئے انہیں اپنا فرض نبھانا چاہئے۔ اس سے قبل ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے این شری نواسن پر کھلاڑیوں کے ضابطے کی خلاف ورزی کے باوجود کارروائی نہیں رنے کے مدگل کمیٹی کے الزامات پر صفائی دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کیا ہے۔آئی پی ایل چھ معاملے کی تحقیقات کر نے والی ریٹائرڈ جج مکل مدگل کمیٹی نے سپریم کورٹ میں دائر اپنی رپورٹ میں بورڈ کی سرگرمیوں سے الگ کئے گئے صدر کو فکسنگ اور سٹے بازی کے الزامات میں کلین چٹ دی تھی لیکن کمیٹی نے شری نواسن اور بورڈ کے چار دیگر افسران پر کچھ کھلاڑیوں کے مشتبہ سرگرمیوں میں شامل ہونے کی اطلاع کے باوجود کارروائی نہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔بی سی سی آئی نے سپریم کورٹ میں دائر اپنے حلف نامے میں شری نواسن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں ذکر کئے گئے تینوں کھلاڑیوں کی زبانی طور پر سرزنش کی گئی تھی۔ اس وقت کے بورڈ صدر ششانک منوہر نے بھی کھلاڑیوں کی صفائی پر اطمینان ظاہر کیا تھا۔حلف نامے میں بی سی سی آئی کے صدر سنجے پٹیل نے بتایاکہ 18 نومبر کو بی سی سی آئی نے مدگل کمیٹی کی رپورٹ پر تفصیلی بحث کی تھی۔ اڑیسہ کرکٹ ایسوسی ایشن کے نمائندے رنجیب بسوال جو اس وقت موجود تھے۔مسٹر پٹیل نے مزید بتایا کہ کھلاڑیوں کی زبانی طور پر سرزنش کی گئی اور اس وقت کے بورڈ صدر ششانک منوہر نے بھی کھلاڑیوں کی صفائی پر اطمینان ظاہر کیا تھا۔بسوال اس دوران ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے منیجر تھے ۔واضح رہے کہ تین نومبر کو مدگل رپورٹ کو سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا تھا۔ اس میں شری نواسن کو147 انڈی ویجوئل 13 کے طور پر ذکر کیا گیا تھا اور کہا گیا کہ یہ شخص اور بورڈ کے چار دیگر افسروں نے147 انڈی ویجوئل 148 کے قوانین کی خلاف ورزی کی اطلاعات کے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔رپورٹ میں انڈی ویجوئل تین قصوروار کھلاڑیوں اور انڈی ویجوئل 13 شری نواسن کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔اس رپورٹ کو جانچ کے دائرے میں آئے لوگوں کے ساتھ اشتراک کیا گیا تھا جس میں آئی سی سی چیف شری نواسن کو فکسنگ یا سٹے بازی جیسی کسی سرگرمی میں ملوث نہیں پایا گیا۔ لیکن آئی پی ایل سی ای او سندر رمن ،چنئی سپر کنگس کے افسران گروناتھ میئپن اور راجستھان رائلس کے شریک مالک راج کندرا پر بدعنوانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 24 نومبر کو ہوگی۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment