Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 01:28 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

قسمت سے جو کووچ کی جھولی میں آیا خطاب

 

لندن ،17 نومبر (یو این آئی) عالمی نمبر ایک کھلاڑی سربیا کے نووا جو ووچ بہترین فارم میں چلنے والے راجر فیڈرر کے خطابی جنگ کے ایک رات پہلے ٹورنامنٹ سے ہٹ جانے کے بعد بغیر پسینہ ب ائے سال کے آخری ٹورنامنٹ اے ٹی پی ٹور فائنلس میں مسلسل تیسری بار چیمپئن بن گئے۔ اپنے تمام گروپ میچ جیت کر نمبر ایک کے تاج کو بچانے کے بعد جو ووچ اور فیڈرر کے درمیان خطابی جنگ طے تھی۔ لیکن ایک دن پہلے دو گھنٹے 48 منٹ تک چلے مقابلہ میں ہم وطن اسٹنسلاس واورن ا کو شکست دینے والے 33 سالہ فیڈرر نے 17 ہزار شائقین سے بھرے لندن کے اوٹو میدان میں خطابی مقابلے سے ہٹنے کا فیصلہ سنایا۔ اسی کے ساتھ جو ووچ بغیر کسی محنت کے مسلسل تیسرے سال اے ٹی پی ٹور فائنلس کا خطاب گھر لے گئے ۔ آئیون لینڈل کے 1987 کے بعد جو ووچ پہلے کھلاڑی ہیں جنہوں نے سال کا آخری ٹورنامنٹ مسلسل تین بار جیتا ہے۔دنیا کے دوسرے نمبر کے کھلاڑی راجر فیڈرر ٹورنامنٹ میں ساتویں بار خطاب کے دعویدار تھے۔ لیکن انہوں نے میدان میں مقابلے کو دیکھنے آئے ہزاروں شائقین سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں آپ سب سے معافی مانگنا چاہتا ہوں کیونکہ میں میچ کے لیے پوری طرح فٹ نہیں ہوں ۔ میری پیٹھ میں بہت درد ہے اور میں کھیلنے کے قابل نہیں ہوں۔ 17 بار کے گرینڈ سلیم چیمپئن نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ میری پریشانی کو سمجھیں گے۔ میں نجی طور پر آکر آپ سب سے معافی مانگنا چاہتا تھا تاکہ آپ کو بتا سکوں کہ میں کیوں نہیں کھیل رہا ہوں۔فیڈرر کے ساتھ مقابلے کے بغیر مسلسل تیسری بار چیمپئن بننے کی کامیابی حاصل کرنے والے سرفہرست کھلاڑی جو کووچ حالانکہ اس جیت سے بہت حوصلہ افزا نہیں نظر آئے اور انہوں نے مسکراتے چہرے کے ساتھ ٹرافی اور 192 لاکھ ڈالر کا چیک قبول کیا۔27 سالہ جو ووچ نے کہاکہ میں اس طرح سے خطاب نہیں جیتنا چاہتا تھا۔ میں راجر کیلئے درد محسوس کر رہا ہوں۔ میں گزشتہ 10 برسوں سے ٹینس کھیل رہا ہوں اور جانتا ہوں کہ راجر اور رافیل نڈال ہمیشہ ہی اپنا 100 فیصد مظاہرہ کرتے ہیں اور میرے لیے ہمیشہ بڑا چیلنج ہیں۔ اگر راجر کھیل سکتے تو ضرور کھیلتے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment