Today: Thursday, September, 20, 2018 Last Update: 02:18 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

مصباح کا ایک اور سنگ میل، ملک کیلئے سب سے زیادہ ٹسٹ جیتنے والے کپتان

 

لاہور،14 نومبر (یو این آئی)پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ اختتام پذیر پہلے ٹسٹ میچ میں شاندار جیت کے ساتھ ملک کے لئے سب سے زیادہ ٹسٹ میچ جیتنے والے کپتان کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔آسٹریلیا کے خلاف کلین سویپ فتح کے بعد مصباح الحق کی ٹیسٹ فتوحات کی تعداد 14 ہوچکی تھی، اور وہ عمران خان اور جاوید میانداد کے برابر آ گئے تھے۔ اب نیوزی لینڈ کے خلاف جیت نے اس کو 15 تک پہنچا دیا ہے یعنی وہ کسی بھی پاکستانی کپتان کے مقابلے میں سب سے زیادہ ٹیسٹ جیتنے والے قائد بن گئے ہیں۔مصباح الحق نے 2010ء میں اس وقت پاکستان کی قیادت کا کانٹوں بھرا تاج پہنا تھا، جب سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی پابندیوں کی زد میں آ رہے تھے۔ لیکن مصباح کے ٹھنڈے مزاج، دھیمے لہجے اور مضبوط اعصاب نے پاکستان کو صرف چار سالوں میں عالمی درجہ بندی میں تیسرے درجے پر پہنچا دیا ہے اور اس دوران کئی ایسے تاریخی کارنامے بھی انجام دیے، جن تک آج تک کوئی پاکستانی کپتان نہیں پہنچ سکا۔مصباح الحق سے پہلے سب سے زیادہ فتوحات حاصل کرنے والے پاکستانی کپتان عمران خان کا قائدانہ عہد کل 10 سال پر محیط تھا۔ انہوں نے 1982ء میں پاکستان کی قیادت سنبھالی تھی اور پھر 1992ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ انہیں سب سے زیادہ ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی قیادت کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انہوں نے بحیثیت قائد 48 مقابلے کھیلے اور 14 میں فتوحات حاصل کیں جن میں آسٹریلیا کے خلاف کلین سویپ اور پھر ہندستان کے خلاف 1983ء اور 1987ء کی تاریخی فتوحات بھی شامل ہیں۔ میانداد کو 34 میچوں میں پاکستان کی قیادت کا شرف حاصل ہوا، جن میں انہوں نے بھی 14 ہی فتوحات حاصل کیں۔ 1992ء کے دور انگلینڈ کی جیت ان کے قائدانہ عہد کا سب سے شاندار لمحہ تھی۔مصباح الحق نے اپنے کیریئر میں عمران اور جاوید دونوں سے کم ٹیسٹ مقابلے کھیلے ہیں اور اس سے بھی کم مقابلوں میں قیادت کی لیکن فتوحات دونوں سے زیادہ پائیں۔ اس کی ایک وجہ تو شاید دورجدید میں فیصلہ کن ٹیسٹ مقابلوں کی تعداد میں اضافہ ہونا ہے۔ اب شاذونادر ہی ایسا کوئی ٹیسٹ دیکھنے کو ملتا ہے جو بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہو۔ پھر بھی جیت تو جیت ہی ہوتی ہے۔ مصباح نے 32 مقابلوں میں پاکستان کی قیادت کی اور 15 جیتے۔ اس میں نیوزی لینڈ کے خلاف 2011ء میں اوائل میں حاصل کی پہلی جیت سے لے کر اب ابوظہبی میں اسی ٹیم کے خلاف حاصل کی گئی حالیہ فتح بھی شامل ہے۔ اس دوران مصباح الیون نے تین سرفہرست ٹیموں کے خلاف بھی شاندار کارکردگی دکھائی۔ 2012ء میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کلین سویپ فتوحات حاصل کیں اور جنوبی افریقہ کے خلاف دو مرتبہ ٹیسٹ سیریز برابر کھیلیں۔پھر اس دوران مصباح کی انفرادی کارکردگی بھی بہت عمدہ رہی۔ انہوں نے کپتان کی حیثیت سے 32 ٹیسٹ میچوں میں 6309 کے اوسط کے ساتھ 2650 رنز بنائے ہیں۔مصباح نے جتنے ممالک کے خلاف پاکستان کی قیادت کی، سب کے خلاف کم از کم ایک ٹیسٹ مقابلہ ضرور جیتا ہے اور یہ تمام کارنامے انہوں نے اپنے ملک سے باہر انجام دیے ہیں کیونکہ پاکستان میں پچھلے ساڑھے 5 سالوں سے کوئی بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیلی جارہی۔ جنوبی افریقہ ہو یا آسٹریلیا، انگلینڈ ہو یا نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز ہو یا سری لنکا، جو بھی ٹیم پاکستان کے مقابل آئی اسے کم از کم ایک مرتبہ شکست کا ذائقہ ضرور چکھنا پڑا ہے۔ ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک میں صرف ہندستان ایسا ملک ہے جو ابھی تک پاکستان سے کوئی ٹیسٹ نہیں ہارا۔

پاکستان کے تاریخ کے کامیاب ترین کپتان :

مصباح الحق: 32 ٹسٹ، پندرہ فتح،9 شکست اور آٹھ ڈرا

عمران خان : 48 ٹسٹ، چودہ فتح، آٹھ شکست، 26 ڈرا

جاوید میاں داد:34 ٹسٹ، چودہ فتح، چھ شکست، چودہ ڈرا

انضمام الحق:31 ٹسٹ، 11 فتح، گیارہ شکست، 9 ڈرا

وسیم اکرم:25 ٹسٹ، 12 فتح،آٹھ شکست، پانچ ڈرا

 

...


Advertisment

Advertisment