Today: Monday, November, 19, 2018 Last Update: 11:44 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

بدعنوانی ضابطوں میں نرمی سمیت آئی سی سی نے کئے اہم فیصلے

 

دبئی ،10 نومبر(یو این آئی)انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے اپنے انسداد بدعنوانی کے قوانین میں ترمیم کے ذریعے پابندی کے شکار کھلاڑیو ں کو قبل از وقت ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ اہم فیصلے کئے ہیں ۔جس کے تحت پاکستان کے نوجوان تیز بالر محمد عامر جلد ہی مقامی کرکٹ میں کھیلتے نظر آئیں گے۔آئی سی سی کا بورڈ اجلاس 9 اور 10 نومبر کو دبئی میں قائم صدر دفاتر میں ہوا، جس کی صدارت چیئرمین سوامی نرائن شری نواسن نے کی۔ اجلاس میں صدر کے عہدے کے لیے نجم سیٹھی کی نامزدگی کی منظوری بھی دی گئی اور ساتھ ساتھ آئی سی سی ٹورنامنٹس کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق آئی سی سی نے اپنے اینٹی کرپشن اور اینٹی ڈوپنگ ضابطوں اور ضابطہ اخلاق میں تبدیلیاں کی ہیں۔ جن میں سب سے اہم پابندی کے شکار کھلاڑیوں کو پابندی کے خاتمے سے پہلے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دینا ہے، لیکن یہ اجازت پابندی کے دوران کھلاڑی کے رویے اور اخلاق پر منحصر ہوگی۔ یوں ممکنہ طور پر پاکستان کے محمد عامر اگلے سال اگست میں پانچ سالہ پابندی کے خاتمے سے قبل ہی ڈومیسٹک کرکٹ کھیل سکیں گے۔ علاوہ ازیں اجلاس میں آئی سی سی نے صدارت کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے نجم سیٹھی کی نامزدگی کو منظور کرلیا ہے۔ اب 2015ء کے سالانہ اجلاس میں نجم سیٹھی کی نامزدگی کی توثیق کی جائے گی جس کے بعد وہ بنگلہ دیش کے مصطفیٰ کمال کی جگہ ایک سال کے عرصے کے لیے عہدہ سنبھالیں گے۔اجلاس میں عالمی کپ 2015ء کے لیے انعامی رقم میں 20 فیصد اضافے کی منظوری بھی دی گئی جو اب 10 ملین امریکی ڈالرز تک جا پہنچی ہے۔ اس میں سے فائنل جیتنے والی ٹیم کے لیے 37 لاکھ 50 ہزار ڈالرز رکھے گئے ہیں جبکہ فائنل میں شکست کھانے والے کے لیے 17 لاکھ 50 ہزار ڈالرز کی حقدار ٹھہرے گی۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ٹیم بغیر کسی مقابلے میں شکست کھائے عالمی چیمپئن بنتی ہے تو وہ 40 لاکھ 20 ہزار ڈالرز تک حاصل کرسکتی ہے جبکہ صرف ایک مقابلے میں شکست کے ساتھ عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کی جیب میں 39 لاکھ 75 ہزار کی خطیر رقم جائے گی ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 30 ستمبر 2015ء تک جو آٹھ ٹیمیں عالمی درجہ بندی میں سرفہرست ہوں گی، وہی 2017ء میں انگلینڈ میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی کھیلنے کی اہل ہوں گی جبکہ ورلڈ کپ 2019ء میں براہ راست جگہ پانے کے لیے 30 ستمبر 2017ء کی تاریخ رکھی گئی ہے۔ مذکورہ تاریخ تک درجہ بندی کی سرفہرست 8 ٹیمیں براہ راست اگلے عالمی کپ میں کھیلیں گی جبکہ بقیہ دو ٹیموں کا انتخاب کوالیفائنگ راؤنڈ کے ذریعے کیا جائے گا جو 2018ء میں بنگلہ دیش میں کھیلا جائے گا۔غیر قانونی بالنگ ایکشن کے خلاف حالیہ کارروائی کی بھرپور تائید کرتے ہوئے اجلاس میں کہا گیا کہ مشتبہ بالنگ ایکشن کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا اور ڈومیسٹک سطح پر ناقص بالنگ ایکشن کے حامل باؤلرز پر نظر رکھنے اور انہیں درست کرنے کے لیے مقامی بورڈز کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔علاوہ ازیں سیمی فائنل کی شکست خوردہ ٹیموں کے لیے 6 لاکھ ڈالرز اور کوارٹر فائنل سے باہر ہونے والی ٹیموں کے لیے 3 لاکھ ڈالرز رکھے گئے ہیں۔ گروپ مرحلے کا ہر مقابلہ جیتنے پر ٹیم کو 45 ہزار ڈالرز ملیں گے جبکہ اس مرحلے پر باہر ہونے والی تمام 6 ٹیموں کو 35، 35 ہزار ڈالرز کے ساتھ رخصت کیا جائے گا۔آئی سی سی نے ورلڈ کپ 2015ء میں بھی فیصلوں پر نظرثانی کے نظام (ڈی آر ایس) کا استعمال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹورنامنٹ کے حوالے سے آئی سی سی کا مزید کہنا ہے کہ ناک آؤٹ مرحلے کے تمام مقابلوں کے لیے ایک اضافی دن بھی رکھا گیا ہے البتہ میچ ٹائی ہونے کی صورت میں سپر اوور نہیں ہوگا بلکہ کوارٹر فائنل اور سیمی فائنل کے برابر ہونے کی صورت میں گروپ مرحلے میں بہتر پوزیشن کی مالک ٹیم آگے جائے گی۔ فائنل کے ٹائی ہونے یا میچ کا کوئی نتیجہ نہ نکل پانے کی صورت میں دونوں ٹیمیں عالمی چمپئن قرار پائیں گی۔

...


Advertisment

Advertisment