Today: Wednesday, September, 19, 2018 Last Update: 09:47 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

شکیب الحسن دس وکٹ اور سنچری بنانے والے دنیا کے تیسرے آل راونڈر

 

نئی دہلی ، 98 نومبر (یو این آئی) کھلنا کے شیخ ابوناصر اسٹیڈیم میں بنگلہ دیشی آل راؤنڈر شکیب الحسن نے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیتے ہوئے بنگلہ دیش کو نہ صرف زمبابوے کے خلاف دوسرا ٹیسٹ بلکہ ساتھ ساتھ سیریز میں بھی جیت دلا دی۔ شکیب، جو انضباطی مسائل کی وجہ سے طویل پابندی کے بعد اسی سیریز کے ذریعے بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آئے، نے آتے ہی اپنی حقیقی اہمیت ظاہر کردی ہے۔ کھلنا ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 137 رنز بنانے کے بعد شکیب نے دونوں اننگز میں پانچ، پانچ زمبابوین بلے بازوں کو آؤٹ کیا اور یوں ایک ہی ٹیسٹ میں سنچری اور 10 یا زائد وکٹیں حاصل کرنے والے تاریخ کے محض تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔اب شکیب الحسن کا نام تاریخ کے دو عظیم آل راؤنڈر ایان بوتھم اور عمران خان کے ساتھ لکھا جاچکا ہے، جنہوں نے ہندستان کے خلاف یہی سنگ میل عبور کیا تھا۔تاریخ میں پہلی بار ایک ہی ٹیسٹ میں سنچری کے ساتھ 10 یا زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا انوکھا کارنامہ ایان بوتھم نے انجام دیا تھا۔ فروری 1980ء میں ہندستان کے خلاف کھیلے گئے مشہور گولڈن جوبلی ٹیسٹ میں بوتھم نے 114 رنز بنانے کے علاوہ 13 وکٹیں بھی حاصل کیں، جو آج بھی کسی بھی ٹیسٹ میں بہترین آل راؤنڈ کارکردگی ہے۔ بوتھم نے ہندستان کی پہلی اننگز میں عظیم سنیل گواسکر سمیت 6 ہندستانی بلے بازوں کو آؤٹ کیا اور پھر انگلینڈ کی واحد اننگز میں 114 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے۔ اس اننگز کی اہمیت کا اندازہ لگائیں کہ بوتھم کے بعد سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز وکٹ کیپر باب ٹیلر تھے، جنہوں نے 43 رنز بنائے جبکہ پوری ٹیم 296 رنز پر آؤٹ ہوئی۔ صرف 54 رنز کے خسارے کے بعد ہندستان کے پاس میچ میں واپس آنے کا بھرپور موقع تھا لیکن بوتھم کی شاندار بالنگ کے سامنے میزبان بلے بازوں کی ایک نہ چلی۔ اس مرتبہ بوتھم نے صرف 48 رنز دے کر 7 بلے بازوں کو آؤٹ کیا اور ہندستان صرف 149 رنز پر آل آؤٹ ہوگیا۔ انگلینڈ کو صرف 96 رنز کا ہدف ملا جو اس نے بغیر کسی نقصان کے باآسانی حاصل کرلیا۔اس کے تقریباً تین سال بعد عمران خان نے ہندستان کے خلاف فیصل آباد کے مشہور ٹیسٹ میں اپنی بالنگ اور بیٹنگ کے جوہر دکھائے۔ یہ بحیثیت کپتان عمران خان کی محض تیسری سیریز تھی اور پاکستان نے چند ماہ قبل ہی آسٹریلیا کو تاریخی کلین سویپ شکست سے دوچار کیا تھا۔فیصل آباد میں کھیلے گئے سیریز کے تیسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستان کو ایکصفر کی برتری حاصل تھی اور یہاں عمران خان نے ہندستان کی بیٹنگ اور بالنگ پر کاری ضرب لگاتے ہوئے پاکستان کی برتری کو دوگنا کیا۔ عمران نے پہلی اننگز میں سنیل گواسکر اور دلیپ وینگسرکر سمیت ہندستان کے 6 بلے بازوں کو ٹھکانے لگایا اور پھر شاندار بیٹنگ مظاہرے کے دوران 117 رنز سے اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ 652 رنز کی اننگز میں عمران سمیت پاکستان کے چار بلے بازوں نے سنچریاں بنائیں جن میں عمران کے علاوہ جاوید میانداد ، ظہیر عباس اور سلیم ملک بھی شامل تھے۔ 280 رنز کے خسارے کے بعد دوسری اننگز میں ہندستان ایک مرتبہ پھر عمران خان کے رحم و کرم پر نظر آیا۔ سنیل گواسکر کی ناٹ آؤٹ سنچری اور مہندر امرناتھ کے 78 رنز کے علاوہ کوئی عمران خان، سرفراز نواز اور سکندر بخت کی مثلث کے سامنے نہ ٹھہر سکا اور پوری ٹیم 286 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ عمران خان نے 5 وکٹیں حاصل کرکے میچ میں اپنی وکٹوں کی تعداد 11 کی اور یوں ایان بوتھم کے بعد ہی ایک میچ میں سنچری کے علاوہ 10یا زائد وکٹیں حاصل کرنے والے دوسرے کھلاڑی بن گئے۔اب تقریباً 32 سال کے بعد شکیب الحسن پہلے کھلاڑی بنے ہیں جنہیں یہ مقام ملا ہے۔ گو کہ یہ کارنامہ عمران خان اور ایان بوتھم کے مقابلے میں کچھ اہمیت نہیں رکھتا لیکن کم از کم ریکارڈ بک میں تو ان دو عظیم ناموں کے ساتھ شکیب نے اپنا نام ضرور لکھوا لیا ہے۔

عالمی کرکٹ میں دس وکٹ اور سنچری بنانے والے آل راونڈر

1۔ ایان باتھم بمقابلہ ہندوستان 114 رن 13 وکٹ

2۔عمران خان بقابلہ ہندوستان 117 رن 11 وکٹ

3۔ شکیب الحسن بمقابلہ زمبابوے 137 رن 10 وکٹ

 

محمد عامر کی کرکٹ میں واپسی کی امید روشن ، فیصلہ آج

لاہور، 8 نومبر (یو این آئی) اسپاٹ فکسنگ کے جرم میں سزا کاٹنے والے اور پابندی کے شکار پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر کی دنیائے کرکٹ میں ڈرامائی واپسی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ کرکٹ کا بین الاقوامی منتظم ادارہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) متوقع طور پر اتوار کے دن اپنے انسداد بدعنوانی کوڈ میں تبدیلی کرتے ہوئے ایسے پابندیوں کے شکار کھلاڑیوں کو اپنی سزا ختم ہونے سے قبل ہی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی سی سی کی چیف ایگزیکٹو کمیٹی اس تبدیلی کی منظوری دے چکی ہے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہے کہ پابندی کے شکار کھلاڑی اپنی سزا کے خاتمے سے کتنا عرصہ قبل ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے قابل ہوں گے۔ اگرچہ اس تبدیلی کے نتیجے میں پابندیوں کے شکار تمام کرکٹرز کی ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی ممکن ہو سکے گی لیکن یہ بائیس سالہ محمد عامر کے لیے سب سے زیادہ اہم پیشرفت ہو گی، جو 2010ء میں اسپاٹ فکسنگ کا حصہ بننے کی وجہ سے اب تک کرکٹ کی دنیا سے باہر ہیں۔ محمد عامر کی پابندی سمتبر 2015ء میں ختم ہو گی۔ آئی سی سی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار سے دبئی میں شروع ہونے بورڈ ممبرز کے دو روزہ اجلاس میں ایگزیکٹو کمیٹی کی سفارشات بشمول انسداد بدعنوانی کوڈ میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ آئی سی سی اینٹی ڈوپنگ کوڈ اور متنازعہ بولنگ ایکشن جیسے موضوعات پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ یاد رہے کہ پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کے دورہ انگلینڈ کے دوران لارڈز ٹیسٹ میں محمد عامر کے علاوہ اس وقت کے ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولر محمد آصف بھی کرکٹ کے اس تاریک ترین باب میں قصوروار قرار دیے گئے تھے۔ 2011ء میں آئی سی سی کے انسداد بدعنوانی ٹریبیونل کے سربراہ مائیکل بیلوف نے اس جرم کی پاداش میں محمد عامر کو پانچ، سلمان بٹ کو دس جبکہ محمد آصف کو سات برس تک کرکٹ سے دور کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس پابندی کے نتیجے میں یہ کھلاڑی ہر سطح پر کرکٹ کھیلنے سے محروم ہو گئے تھے۔ ان تینوں نے اس جرم کے لیے انگلینڈ میں سزائیں بھی کاٹی تھیں۔

...


Advertisment

Advertisment