Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 02:47 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

کارکردگی کے تسلسل پر خصوصی توجہ دے رہا ہوں:شمی

 

نئی دہلی، 06 نومبر (یو این آئی) ہندوستانی تیز گیند باز محمد شمی نے کہا ہے کہ آئی سی سی کی سال کی بہترین ون ڈے ٹیم میں جگہ ملنا ان کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے لیکن ان کا مقصد اپنے مظاہرے میں تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔شمی کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) کی بدھ کو اعلان سال کی بہترین ون ڈے ٹیم میں کپتان مہندر سنگھ دھونی اور وراٹ کوہلی کے ساتھ جگہ ملی ہے۔ اس بے مثال کامیابی کے اگلے دن شمی نے دارالحکومت میں جمعرات کو سردار پٹیل اسکول میں ڈئیرڈیولس اسکول کپ کے سردار پٹیل اسکول بمقابلہ جامعہ میچ کے موقع پر اخباری نمائندوں کے ساتھ بات چیت کی ۔ اس سال ون ڈے کرکٹ میں 16 میچوں میں 38 وکٹ لے کر سب سے آگے چلنے والے شمی نے آئی سی سی ون ڈے ٹیم میں جگہ ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کافی اچھا لگ رہا ہے۔ آئی سی سی ون ڈے ٹیم میں منتخب کیا جانا میرے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ لیکن یہ اعزاز ملنے کے بعد مجھ پر ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ میں اپنے کھیل اور مظاہرے میں تسلسل برقرار رکھوں ۔ یہ پوچھنے پر کہ آئی سی سی ٹیسٹ ٹیم میں کسی ہندوستانی کو جگہ نہیں ملی ہے۔ شمی نے کہا کہ ونڈے ہو یا ٹیسٹ ایسی باتوں سے زیادہ فرق نہیں پڑتا ہے۔ ہمارے لئے مظاہرے کی اہمیت ہے ، ون ڈے میں ہم نے مسلسل اچھا مظاہرہ کیا ہے اور ٹیسٹ میچوں میں ہمیں ایسا ہی مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم ٹیسٹ میچوں میں اپنے مظاہرے میں جلد ہی کافی بہتری کریں گے اور آگے آئی سی سی ٹیسٹ ٹیم میں کئی ہندستانی دیکھنے کو ملیں گے ۔اپنی چوٹ سے نجات حاصل کرنے والے شمی نے کہا کہ وہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں اگلے سال ہونے والے عالمی کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے سخت محنت کر رہے ہیں۔ انہوں نیکہا کہ میں اپنی فٹنس پر کافی محنت کر رہا ہوں اور ساتھ ہی ڈیتھ اوورز کی بولنگ میں سدھار پر بھی لگا ہوں۔ ون ڈے میں ڈیتھ اوورز کی بولنگ کافی اہم ہوتی ہے اور مجھے اس میں زیادہ تیزی لانا ہے ۔نو ٹسٹ میچوں میں 32 وکٹ اور 36 ون ڈے میں 68 وکٹ حاصل کرنے والے شمی نے ساتھ ہی کہا کہ اگلا ورلڈ کپ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی پچوں پر ہونا ہے جہاں تیز گیند بازوں کو خاصی مدد ملتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی فٹنس کو مضبوط کرنے کے لیے بنگلور جا رہے ہیں جہاں وہ ریہیبی لٹیشن کے عمل سے گزریں گے۔اپنے کیریئر کے دوران کسی خاص بلے باز کو آؤٹ کرنے کے بارے میں پوچھنے پر شمی نے کہا کہ مجھے ایسا تو کوئی بلے باز یاد نہیں آتا ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ غیر ملکی زمین پر جب آپ اچھا مظاہرہ کرتے ہیں اور آپ ٹیم کو جیت دلاتے ہیں تو وہی سب سے زیادہ اہم بات ہوتی ہے ۔

...


Advertisment

Advertisment