Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 12:37 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

مسلسل تین سنچریوں کے ساتھ یونس خان نئی بلندیوں کی جانب گامزن

 

ابوظبی،31 اکتوبر (یو این آئی) پاکستان کے اسٹار بلے باز یونس خان نے شاندار بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ا سٹریلیا کے خلاف ابوظبی ٹیسٹ میں نہ صرف ڈبل سنچری بنالی بلکہ ٹیسٹ کیریئر میں اپنے 8ہزار رنز بھی مکمل کرلیے۔یہ ان کی پانچویں ڈبل سنچری ہے۔وہ8 ہزار رنز بنانے والے تیسرے پاکستانی کھلاڑی ہیں۔ 2000ء میں سری لنکاکے خلاف ٹیسٹ کیریئر کا ا غاز کرنے والے یونس خان کا یہ 93واں ٹیسٹ ہے۔اس سے قبل جاوید میانداد اور انضمام الحق بھی 8ہزاررنز بناچکے ہیں۔ یونس خان کاٹیسٹ کی ایک اننگز میں سب سے زیادہ اسکور 313رنز ہے۔یونس خان نے دبئی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچری اسکور کی تھیں۔حیران کن بات یہ ہیکہ چند روز قبل آسٹریلیا واحد ملک تھا، جس کے خلاف یونس خان نے کبھی کوئی سنچری نہیں بنائی تھی لیکن ایک ہی سیریز میں یونس نے اگلی پچھلی تمام کسریں نکال دی ہیں اور ابوظہبی ٹیسٹ کے پہلے دن 111 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیل کر آسٹریلیا کے خلاف مسلسل تیسری سنچری اننگز کھیل ڈالی ہے۔ یونس دبئی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنا کر 40 سال میں آسٹریلیا کے بالرز کے خلاف یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے بلے باز بنے تھے اور اب مسلسل تین اننگز میں آسٹریلیا کے خلاف تین سنچریاں بنانے90 سال بعد پہلے بلے بازبنے ہیں۔ آخری بار آسٹریلیا کے خلاف مسلسل تین اننگز میں سنچریاں بنانے کا بنانے کا اعزاز انگلینڈ کے عظیم بلے باز ہربرٹ اسٹکلف کو حاصل ہوا تھا، جنہوں نے 1924ء کے دور آسٹریلیا میں سڈنی اور ملبورن میں تین سنچری اننگز کھیلی تھیں۔یونس خان سے پہلے پاکستان کے صرف تین بلے باز ایسے گزرے ہیں، جنہوں نے مسلسل تین اننگز میں سنچریاں بنائی ہوں۔ اس فہرست میں پہلا نام ایشیائی بریڈمین ظہیر عباس کا ہے۔ہندستان کے خلاف دورے میں لاہور ٹیسٹ میں 215 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے کے بعد کراچی ٹیسٹ میں پاکستان کی واحد اننگز میں ظہیر نے 186 رنز داغے اور پھر سال نو پر فیصل آباد میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں بھی 168 رنز جڑ ڈالے۔لیکن مزیدار بات یہ ہے کہ اسی سیریز میں ظہیر عباس کا یہ ریکارڈ برابر بھی ہوگیا۔حیدرآباد ٹیسٹ میں مدثر نے 231 رنز کی اننگز کھیلی اور پھر لاہور میں ہونے والے سیریز کے پانچویں ٹیسٹ میں 152 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ سیریز کا آخری ٹیسٹ کراچی میں کھیلا گیا تھا جہاں پاکستان کی واحد اننگز میں مدثر نذر نے 152 رنز بنائے اور یوں ظہیر عباس کے ساتھ قومی ریکارڈ کے حامل ہوگئے، اور آج بھی ہیں۔

مسلسل سنچری اننگز کھیلنے والے پاکستانی بلے باز

ظہیر عباس بمقابلہ ہندوستان 215، 166،168

مدثر نظر بمقابلہ ہندوستان 231، 152 ناٹ آؤٹ، 152

محمد یوسف بمقابلہ ویسٹ انڈیز 191، 102، 124

یونس خان بمقابلہ آسٹریلیا 106، ناٹ آؤٹ 103، 213اس کے بعد 23 سالوں تک پاکستان کا کوئی بلے باز اس تواتر کے ساتھ سنچری اننگز نہیں کھیل پایا یہاں تک کہ رنز بنانے کی مشین محمد یوسف کا بلا چلا۔ 2006ء میں ویسٹ انڈیز کے دور پاکستان میں یوسف نے مسلسل تین بار تہرے ہندسے کی اننگز کھیلیں۔ ملتان میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں محمد یوسف نے 191 رنز کی شاندار باری کھیلی۔ 344 گیندوں اور 22 چوکوں پر محیط اس اننگز کے بعد یوسف نے کراچی میں ہونے والے اگلے ٹیسٹ میں دو سنچریاں جڑ کر پاکستان کو سیریز میں دوصفر سے جیت دلا دی۔ یوسف نے کراچی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 102 اور دوسری میں 124 رنز بنائے اور میچ کے ساتھ ساتھ سیریز کے بھی بہترین کھلاڑی قرار پائے۔لیکن ان تینوں بلے بازوں کو کارناموں میں ایک قدر مشترک ہے کہ انہوں نے اپنے وقت کی کمزور ٹیموں کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر رنز کے انبار لگائے، لیکن یونس کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے اپنے وقت کی بہترین ٹیم، آسٹریلیا، کے خلاف اور انتہائی ناسازگار حالات میں یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ ناسازگار اس لیے کہ پاکستان پے در پے شکستوں سے دوچار تھا۔ دور سری لنکا میں ٹیم ون ڈے اور ٹیسٹ تمام سیریز ہاری اور پھر آسٹریلیا کے خلاف بھی ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ مقابلوں کی سیریز کے تمام میچوں میں شکست کھانے کے بعد جدوجہد جدوجہد کرتی دکھائی دے رہی تھی۔ پھر خود یونس خان بھی ٹیم انتظامیہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے رویے سے سخت نالاں تھے۔ لیکن انہوں نے اس کا غصہ بالکل درست جگہ پر نکالا، یعنی آسٹریلیا کے گیندبازوں پر پہلے دبئی ٹیسٹ میں 106 اور 103 رنز کی اننگز کھیل کر پاکستان کی جیت میں مرکزی کردار ادا کیا اور اب ابوظہبی میں بھی سلسلے کو وہیں سے جوڑ دیا، جہاں سے ٹوٹا تھا۔اس وقت مسلسل سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا عالمی ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے سر ایورٹن ویکس کے پاس ہے جنہوں نے 1948ء میں تواتر کے ساتھ پانچ اننگز میں سنچریاں اسکور کی تھیں۔ انہوں نے پہلے انگلینڈ کے خلاف141 رنز بنائے اور پھر ہندستان کے دورے پر جا کر میزبان گیندبازوں کے ہوش ٹھکانے لگا دیے۔ دہلی میں 128، بمبئی میں 194 اور کلکتہ میں 162 اور 101 رنز کی اننگز کھیل کر ایسا ریکارڈ بنا ڈالا کہ جس کی آج تک کوئی ہم سری بھی نہیں کرپایا۔

مسلسل سنچری اننگز کھیلنے والے بلے باز

ایورٹن ویکس (ویسٹ انڈیز )مسلسل پانچ سنچریاں

جیکس فنگٹن (آسٹریلیا)، مسلسل چار سنچریاں

ایلن میلویل (جنوبی افریقہ) مسلسل چار سنچریاں

راہل دراوڑ (ہندوستان)تین سنچریاں

بہرحال، اپنے کیریئر کی 27 ویں سنچری کے ساتھ ہی یونس خان عظیم آل راؤنڈر سر گیری سوبرز کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں اور اب سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والوں میں مائیکل کلارک اور گریم اسمتھ کے برابر کھڑے ہیں۔ انہیں عظیم بلے باز سر ڈان بریڈمین کے برابر پہنچنے کے لیے مزید دو سنچری اننگز کی ضرورت ہے ۔

...


Advertisment

Advertisment