Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 01:05 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

سرفراز احمد تیز ترین سنچری بنانے والے دوسرے وکٹ کیپر بلے باز

 

نئی دہلی،24 اکتوبر (یو این آئی)آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں صرف 80 گیندوں میں شاندار سنچری بنانے والے پاکستان کے وکٹ کیپر بلے باز سرفرازاحمد نے عالمی کرکٹ میں تیز ترین سنچری بنانے والے دوسرے وکٹ کیپر بلے باز کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔اس کے ساتھ ہی سرفراز احمد پاکستان کی تاریخ کی چوتھی تیز ترین سنچری بنانے والے بلے باز بن گئے اور اس کے علاوہ بھی ریکارڈز کی کئی فہرستوں میں اپنا نام درج کروا لیا۔ پاکستان کی تاریخ میں تیزترین ٹیسٹ سنچری بنانے کا اعزاز ماجد خان کے پاس ہے جنہوں نے 30 اکتوبر 1976ء کو کراچی میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک یادگار سنچری بنائی تھی۔ اوپنر کی حیثیت سے آنے والے ماجد خان نے پہلے دن کا پہلا سیشن مکمل ہونے سے پہلے تہرے ہندسے کو جا لیا تھا۔ مجموعی طور پر ان کی اننگز 18 چوکوں اور 2 چھکوں سے مزین تھی ، جس میں انہوں نے 112 رنز بنائے۔ماجد خان سے یہ اعزاز آج تک کوئی پاکستانی بلے باز چھین نہیں سکا، یہاں تک کہ ملکی تاریخ کے تیز ترین بلے باز شاہد آفریدی بھی دو بھرپور کوششوں کے باوجود اسے نہیں توڑ سکے۔ شاہد نے 2005ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف برج ٹاؤن میں اور اگلے ہی سال ہندستان کے خلاف لاہور میں 78، 78 گیندوں پر دو دھواں دار سنچریاں بنائیں۔ اب سرفراز احمد کا نمبر آ گیا ہے جنہوں نے سنچری کے لیے 80 گیندیں استعمال کیں اور یوں پاکستان کی طرف سے تیز ترین سنچری بنانے والے وکٹ کیپر بلے باز بھی بن گئے۔ ان سے قبل یہ اعزاز کامران اکمل کے پاس تھا جنہوں نے 2006ء میں ہندستان کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں 81 گیندوں پر سنچری بنائی تھی۔اگر عالمی سطح پر وکٹ کیپر بلے باز کو دیکھا جائے تو سرفراز احمد کی یہ سنچری آسٹریلیا کے ایڈم گلکرسٹ کے بعد کسی بھی وکٹ کیپر کی تیز ترین سنچری ہے ۔ گلی نے 2006ء میں پرتھ کے مقام پر انگلینڈ کے گیندبازوں کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اور صرف 57 گیندوں پر سنچری مکمل کی۔ لیکن یہ جارحانہ اننگز بھی عالمی ریکارڈ کو نہ توڑ سکی جو کرکٹ کی تاریخ کے عظیم بلے بازوں میں سے ایک ویوین رچرڈز کے پاس ہے۔ انہوں نے 1986ء کی مشہور زمانہ بلیک واش سیریز کے سینٹ جانز میں کھیلے گئے پانچویں و آخری ٹیسٹ میں ایک شاہکار باری کھیلی تھی۔ جب ویسٹ انڈیز کو 164 رنز کی برتری حاصل تھی تو ون ڈاؤن آنے والے ویو نے انگلش بالرز کو نانی یاد دلا دی تھی۔ ان کی صرف 56 گیندوں پر ریکارڈ اور ناقابل شکست سنچری کی بدولت ویسٹ انڈیز نے دو وکٹوں پر 246 رنز بنا کر انگلینڈ کو 411 رنز کا ہدف دیا اور اسے صرف 170 رنز پر ڈھیر کرکے مقابلہ 240 رنز سے جیت لیا۔بہرحال، ویوین رچرڈز کی یہ اننگز آج بھی ریکارڈ بک میں سرفہرست جگمگا رہی ہے۔ سرفراز احمد نے مسلسل پانچویں اننگز میں 50 رنز کا ہندسہ عبور کیا ہے۔ حالیہ دور سری لنکا کے پہلے ٹیسٹ میں انہوں نے 55 اور 52 رنز کی اننگز کھیلیں اور پھر کولمبو میں 103 او ر55 رنز باریاں کھیلنے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ اب یہاں دبئی میں انہوں نے پہلی اننگز میں 109 رنز جڑ دیے ہیں اور اگر دوسر ی اننگز میں بھی کم ا ز کم نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے تو ان کا نام ظہیر عباس، محمد یوسف اور مصباح الحق کے ساتھ لکھا جائے گا جنہوں نے تواتر کے ساتھ چھ اننگز میں پچاس یا اس سے زیادہ رنز بنا رکھے ہیں۔ عالمی ریکارڈ اس وقت زمبابوے کے اینڈی فلاور، ویسٹ انڈیز کے ایورٹن ویکس اور شیونرائن چندرپال اور سری لنکا کے کمار سنگاکارا کے پاس ہے، جنہوں نے مسلسل 7 اننگز میں پچاس یا اس سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔ ویسے آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر بھی اسی ریکارڈ کے تعاقب میں ہیں اور وہ اب تک مسلسل 6 مرتبہ 50 یا اس سے زیادہ رنز بنا چکے ہیں۔

تیز ترین ٹیسٹ سنچریاں

ووین رچرڈز (ویسٹ انڈیز)56 گیندوں بمقابلہ انگلینڈ

ایڈم گلکرسٹ (آسٹریلیا)57 گیندوں بمقابلہ انگلینڈ

جیف کریگری (آسٹریلیا)67 گیندیں بمقابلہ جنوبی افریقہ

شیونرائن چندرپال (ویسٹ انڈیز)69گیند بمقابلہ آسٹریلیا

ڈیوڈ وارنر (آسٹریلیا)69 گیندیں بمقابلہ ہندوستان

کرس گیل (ویسٹ انڈیز)70 گیندیں بمقابلہ آسٹریلیا

روئے فریڈرکس(ویسٹ انڈیز)71گیندبمقابلہ آسٹریلیا

ماجد خان (پاکستان)74 گیندیں بمقابلہ نیوزی لینڈ

کپِل دیو (ہندوستان)74 گیندیں بمقابلہ سری لنکا

محمد اظہر الدین (ہندوستان)74گیندیں بمقابلہ جنوبی افریقہ

...


Advertisment

Advertisment