Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 11:01 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

واپسی کیلئے آخر کیا کروں: پیوش چاولہ

 

موہالی، 22 اکتوبر (یو این آئی) ہندوستان کی 2011 میں عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کا حصہ رہنے والے لیگ اسپنر پیوش چاولہ نے حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ بین الاقوامی کرکٹ کھیلنا شروع کرنے کے سات برس بعد بھی قومی ٹیم میں ان کی جگہ یقینی نہیں ہوسکی ہے۔نارتھ زون کے خلاف دلیپ ٹرافی سیمی فائنل میں سنٹرل زون کی کمان سنبھالنے والے چاولہ بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مجھے موقع کیوں نہیں مل رہا۔ میں نے عالمی کپ میں اچھی کارکردگی پیش کی لیکن اس کے بعد مجھے ٹیم سے باہر کردیا گیا۔ اس کے بعد انگلینڈ کے خلاف بالکل سپاٹ وکٹ پرکھیلتے ہوئے میں نے چار وکٹ لئیاس کے بعد بھی مجھے ٹیم میں جگہ نہیں ملی۔چاولہ نے آخری ون ڈے تین برس قبل 2011 کے عالمی کپ میں کھیلا تھا۔ 2012 کے بعد سے انہوں نے ٹیسٹ میچ اور ٹوئنٹی۔20 میچ بھی نہیں کھیلا ہے۔ اس کے باوجود وہ کبھی سلیکٹروں کے پاس نہیں گئے۔پیوش چاولہ نے کہا کہ میں اس طرح کا آدمی نہیں ہوں۔ مجھے بس یہ پتہ ہے کہ مجھے اچھی کارکردگی پیش کرنی ہے۔ اگر میں مسلسل اچھی کارکردگی پیش کرسکا تو مجھے اس کا پھل بھی ملے گا ۔ اب میں یہی امید کررہا ہوں کہ آئندہ وقت میں چیزیں بہتر ہوجائیں ۔ انہیں ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز کے لئے بھی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ چاولہ نے کہاکہ موجودہ حالات میں اچھی کارکردگی پیش کرنا ہی سب سے بہتر ہے۔ ابھی میری پوری توجہ دلیپ ٹرافی میں بہتر کارکردگی پیش کرنے اور بطور کپتان سنٹرل زون کے کھلاڑیوں سے بہترین کارکردگی کروانے پر مرکوز ہے۔گھریلو کرکٹ میں بلے سے اچھی کارکردگی نہ پیش کرپانے کی وجہ سے بھی چاولہ کی تنقید کی جاتی رہی ہے۔سال 13۔2012 کے رنجی ٹرافی ٹورنامنٹ میں انہوں نے پانچ میچوں میں 50ء58 کی اوسط سے دس وکٹ لئے تھے جبکہ سات اننگز میں 66ء56 کی اوسط سے 340 رن بنائے اور گزشتہ سیزن میں انہوں نے 87ء49 کی اوسط سے 16 وکٹ لئے جبکہ بلے بازی میں انہوں نے ایک سنچری کے ساتھ مجموعی طورپر 275 رن بنائے۔ان تنقیدوں کا جواب دیتے ہوئے چاولہ نے کہاکہ سب سے پہلے تو یہ اچھی بات نہیں ہے کہ میں بلے اور گیند سے بہترین کارکردگی پیش کررہا ہوں۔ اس کے بعد گھریلو کرکٹ میں پچ اسپنروں کے موزوں نہیں ہوتی ۔ یہاں تیز گیند بازوں کو ہی سب سے زیادہ وکٹ ملے ہیں۔ اس لئے اسپنروں کی کارکردگی پر انگلی اٹھانے سے پہلے ان سب باتوں پر بھی نظر ڈالنی چاہئے ۔

...


Advertisment

Advertisment