Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 05:00 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

آئی سی سی کی مخصوص خطے کے گیندبازوں کو نشانہ بنانے کی تردید

 

دبئی، 20 اکتوبر (یواین آئی) آئی سی سی نے جاری کردہ اعلامیہ میں ایسے شبہات کا تردید کی ہے کہ اس کارروائی میں کسی مخصوص خطے کے کھلاڑیوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے اور کہا کہ امپائروں کی توجہ صرف اور صرف کھلاڑی کے بالنگ ایکشن پر ہے۔بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے غیر قانونی بالنگ ایکشن کے خلاف حال ہی میں تازہ کارروائی کا آغاز کیا اور یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے بجائے کارڈف، برسبین اور چنئی میں واقع تین نئے مراکز میں بالنگ ایکشن کی جانچ کروائی۔ جس کے نتیجے میں جانچ کے مراحل سے گزرنے والے اب تک تمام پانچوں گیندباز پابندی کا نشانہ بنے ہیں۔آئی سی سی نے یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے طریقوں کو نقل کرنے یا اس کی ملکیت دانش کا غلط استعمال کرنے کے الزامات کو بھی مسترد کیا جس کے بارے میں یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے نئے ضابطے بناتے ہوئے ہماری ملکیت دانش کی خلاف ورزی کی۔جولائی میں نئے ضابطوں کے لاگو ہونے کے بعد سے اب تک جانچ کے مراحل سے گزرنے والے تمام پانچ بالرز پر پابندی عائد ہوئی ہے جن میں پاکستان کے سعید اجمل بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی میں ان کے ہم وطن محمد حفیظ اور ویسٹ انڈیز کے سنیل نرائن بھی شکوک کی زد میں آئے۔بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے غیر قانونی بالنگ ایکشن کے خلاف اپنی حالیہ کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جانچ کا طریقہ کار بالکل درست ہے۔20 سالوں تک غیر قانونی بالنگ ایکشن کی جانچ کرنے والے دنیا کے واحد ادارے یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا نے اس ہفتے آئی سی سی کے حالیہ طریقہ کار پر اعتراض کیا تھا جس کی وجہ سے ایک روزہ درجہ بندی کے نمبر ایک گیندباز سعید اجمل سمیت کئی بالرز کو پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔آئی سی سی کا کہنا ہے کہ غیر قانونی بالنگ ایکشن کا طریقہ بالکل سیدھا ہے۔ امپائر مشتبہ غیر قانونی بالنگ ایکشن کے حامل گیندباز کو آئی سی سی کو رپورٹ کرتے ہیں اور پھر وہ بالر آئی سی سی کے منظور شدہ کسی بھی مقام پر جانچ کے مراحل سے گزرتا ہے۔ یہاں آئی سی سی نے دو تبدیلیاں کی ہیں ایک تو جانچ کے مراکز تبدیل کردیے ہیں اور دوسرا بالنگ ایکشن کی قانونی حیثیت جانچنے کے لیے ضابطوں کو بدلا گیا ہے۔ آئی سی سی نے مارچ 2014ء میں یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کی جانب سے اپنی خدمات سے دستبردار ہونے کے بعد نئے مقامات کو چنا ہے اور اب تک برسبین، کارڈف اور چنئی میں تین مراکز کو جانچ کا اختیار دیا گیا ہے۔

...


Advertisment

Advertisment