Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 10:55 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

انضمام الحق کو آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کی جیت کا یقین

 

لاہور ، 20 اکتوبر (یو این آئی) آسٹریلیا کے ہاتھوں ون ڈے اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی سیریز میں کلین سویپ کے بعد اب پاکستانی کرکٹ ٹیم عالمی نمبر دو کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ کے میدان میں اتر رہی ہے۔ پہلا ٹیسٹ بدھ سے دبئی اسپورٹس سٹی اسٹیڈیم میں شروع ہو گا۔ سابق کپتان انضمام الحق کے مطابق پاکستانی کرکٹ ٹیم فائٹ بیک کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ لاہور میں ایک انٹریو میں انضمام نے کہا کہ ون ڈے میں مایوس کن کارکردگی کے بعد پاکستانی ٹیم سے ٹیسٹ سیریز میں توقعات کم ہیں مگر ٹیم کو فائٹ بیک کرنا ہوگی کیونکہ عالمی کپ سے پہلے ایک بڑی سیریز جیت کر ٹیم اور کپتان مصباح اپنا کھویا ہوا اعتماد بحال کر سکتے ہیں۔ انضمام کے مطابق انہیں پاکستانی ٹیم کے ایک روزہ سیریز ہارنے پراس لیے بھی زیادہ حیرت اور دکھ ہوا کہ انہوں نے آسٹریلیا کی اس سے زیادہ کمزور ٹیم کبھی نہ دیکھی تھی۔ صف اول کے گیند بازوں کے زخمی ہونے پر پاکستان کا بالنگ اٹیک نو آموز راحت علی، محمد طلحہ، ذولفقار بابر اور لیگ اسپنر یاسر شاہ پر مشتمل ہو گا۔ ان گیند بازوں کی مجموعی ٹیسٹ وکٹوں کی تعداد صرف اکتیس ہے۔ انضمام کے بقول آسٹریلیا کی بیٹنگ ماضی کی طرح مضبوط نہیں رہی۔ اگر پاکستانی بیٹنگ ون ڈے میں بڑا اسکور نہیں کر سکی تو آسٹریلیا کے بیٹسمین بھی ایسا نہیں کر پائے۔ اس لیے اگر ٹیم انتظامیہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرے تو ٹیسٹ میچ میں یہی گیند بازبیس وکٹیں لے سکتے ہیں۔ ہمارے پاس اچھے اسپنرز ہیں لیکن ٹیم میں روز تبدیلیاں نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔ سلیکشن کا معیار بہتر کرنا ہوگا۔ عالمی کپ کے لیے پندرہ کھلاڑیوں کا انتخاب کر لیا جانا چاہیے اور انہی پر سلیکٹرز کواعتماد رکھ کر کھلانا ہوگا۔ کرکٹرز اگر بڑے نہ ہوں تو بھی اعتماد کرنے سے وہ نتائج دے سکتے ہیں۔پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف آخری ٹیسٹ سیریز بیس برس پہلے ڈرامائی انداز میں اس وقت جیتی تھی جب کراچی ٹیسٹ میں انضمام الحق نے مشتاق احمد کے ہمراہ آخری وکٹ کی شراکت میں میک گرا اور شین وارن کے سامنے چھپن رنز بنا کر ناممکن کو ممکن کر دیا۔ انضمام نے اس دن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ناقابل یقین لمحہ تھا، میں نے مشتاق کو کہا تھا کہ آپ نے آوٹ نہیں ہونا میں رنز بنا لوں گا۔ میں شین وارن کی آخری گیند پر اسٹمپ ہوجاتا لیکن خدا کا کرنا یہ ہوا کہ گیند ہیلی کو نظر ہی نہ آئی یا نہ جانے کیا ہوا بائی کا چوکا ہوا اور ہم جیت گئے۔ دنیا کی بہترین ٹیم کے خلاف وہ جیت زبردست تھی۔آسٹریلوی کرکٹرز ٹیسٹ کرکٹ میں مخالفین کو زبانی اور جسمانی حربوں سے بھی ہراساں کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ماضی میں للی کی میانداد کو پرتھ میں کک ہو یا تھامسن کا لاہور ٹیسٹ میں آپے سے باہر ہونا جانا آج تک کوئی نہیں بھلا سکا۔ البتہ انضمام نے کہا کہ آسٹریلوی سلیجنگ سے نمٹنا کوئی بڑی بات نہیں۔ جاوید بھائی نے تو ہمیشہ للی کو اچھا جواب دیا ،ہمارے کھلاڑی بھی ان سے کم نہیں ہاں البتہ نئے کھلاڑیوں کو ٹیم مینجمنٹ سے مدد درکار ہوگی۔مشکل دور سے گزر رہے کپتان مصباح الحق کے ہاتھ مضبوط کرنے اب یونس خان، اظہر علی اور محمد حفیظ بھی امارات جا پہنچے ہیں۔ اس بارے میں انضمام نے کہا کہ ہمارے بلے باز رنز کا تعاقب کر رہے ہیں بہتر ہوگا کہ بلے باز وکٹ پر قیام کرنے کی کوشش کریں رنز خود بخود بنیں گے۔آسٹریلوی ٹیم گز شتہ ہفتے شارجہ میں پاکستان اے کے خلاف اسپن اور ریورس سوئنگ کی تاب نہ لا کر چار روز میچ 153رنز سے ہار چکی ہے۔ کپتان مائیکل کلارک اور اوپنر کرس راجرز اس میچ میں بری طرح ناکام رہے۔ اسی لیے پاکستانی مینجر معین خان کو یقین ہے کہ ان کی آسٹریلیا کے سامنے ترنوالہ ثابت نہیں ہو گی۔ معین کے مطابق بہتری میں وقت لگے گا مگر جیت ہار سے قطع نظر پاکستانی ٹیم آسٹریلوی گیند بازی کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔دوسری جانب آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک کا کہنا کہ ریورس سوئنگ اور اسپن کا کردار اس سیریز میں فیصلہ کن ہوگا۔ٹیسٹ درجہ ملنے کے بعد ابتدائی بیس برسوں میں پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف صرف پانچ ٹیسٹ کھیلنے کو ملے مگر ستر اور اسی کے عشروں میں دونوں ممالک کی طویل وقفے کی کرکٹ میں رشک ورقابت عروج پر رہی اور سات برس میں چھ ٹیسٹ سیریز کا انعقاد کیا گیا۔

...


Advertisment

Advertisment