Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 11:25 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

کامیابی اور ناکامی کا فرق سمجھتا ہوں :وراٹ

 

دھرم شالہ، 18 اکتوبر (یو این آئی) گزشتہ طویل عرصے سے آؤٹ آف فارم ہونے کی وجہ سے تنقید کا شکار بلے باز وراٹ کوہلی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنی مین آف دی میچ اننگز کے بعد کہا کہ وہ اس اننگز کا جشن نہیں منائیں گے کیونکہ انہیں اب کامیابی اور ناکامی کے درمیان کا فرق سمجھ آ چکا ہے۔ وراٹ نے پانچ میچوں کی سیریز کے دو میچ منسوخ ہونے کے بعد ہندوستان کے 2۔1 سے سیریز جیتنے پر خوشی ظاہر کی۔ انہوں نے چوتھے اور آخری ون ڈے میں جمعہ کو 127 رن کی مین آف دی میچ اننگز کھیلنے کے بعد ا کہ میں اس اننگز سے بہت پر جوش نہیں ہوں۔ میں نے گزشتہ دو ماہ میں آؤٹ آف فارم رہتے ہوئے بہت کچھ سیکھ لیا ہے ۔ کوہلی نے ا کہ میں اب جتنا ہو سکے احتیاط برتنا چاہتا ہوں۔ کامیابی اور ناکامی کے درمیان فرق وقت کے ساتھ ساتھ مجھے سمجھ آ گیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میچ جسمانی نہیں بلکہ دماغی کھیل ہوتا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ میں اسی طرح خود کو برقرار رکھ پاؤں گاساتھ ہی مجھے خود میں کچھ تبدیلی بھی کرنی ہوں گی۔ سرکردہ بلے باز نے گزشتہ عرصے سے چلی آ رہی خراب فارم کے بارے میں کہا کہ دہلی میں جب میں نے پہلا رن بنایا تو لگا کہ میں نے ہندستان کے لیے ہی پہلا رن بنایا۔ گزشتہ چارپانچ برسوں میں میں نے جیسا کرکٹ کھیلا ہے لوگ مجھ سے ہر بار ہی ڈھیر سارے رنز کی امید کرتے ہیں۔ لیکن ضروری ہے کہ ان باتوں سے الگ مثبت رہا جائے اور میں اپنا وقت لے کر بغیر دباؤ کے کھیلنا چاہتا تھا ۔وراٹ نے ا کہ میں ان کھلاڑیوں میں سے ہوں جو میچ کے پہلے ہی صورت حال کو دیکھ لیتا ہوں۔ میں پہلے ہی سوچ لیتا ہوں کہ اس گیند باز کو میں اس طرح سے کھیلوں گا اور اگلے ہی دن میں پورے اعتماد سے کھیلتا ہوں۔ یہی حکمت عملی میرے لیے کام کرتی ہے ۔ انہوں نے ا کہ میچ میں میں نے سریش رینا کے ساتھ اچھی شراکت ادا کی۔ اس سے پہلے ہم نے ہوبارٹ میں 337 کے بڑے اسکور کا پیچھا کرنے کے لئے بھی بڑی شراکت کی تھی۔ ہماری حکمت عملی تھی کہ میں، رینا اور کپتان مہندر سنگھ دھونی مڈل آرڈر کو سنبھالیں گے اور دیر تک بلے بازی کریں گے ۔ ہندستان نے یہ میچ 59 رنز سے جیت لیا۔ دہلی کے بلے باز نے عالمی کپ سے متعلق ا کہ میں صرف اتنی ہی امید کرتا ہوں کہ اس فارم کو عالمی کپ میں بھی جاری رکھ سکوں ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہمارے لئے یہ ایک ہتھیار کی طرح ہو گا جبکہ حریف ٹیموں کیلئے خطرناک ثابت ہوگا ۔

 

...


Advertisment

Advertisment