Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 10:55 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

کپتان اور سلیکٹروں کی حکمت عملی الگ الگ :سابق کپتان اجے جڈیجہ نے دھونی پر سادھا نشانہ

 

ہندستان کو آسٹریلیا میں 20 وکٹ لینے والے گیند باز چا ئیے :گواسکر

پاکستان سے کوئی امید نہیں: سہیل

عالمی کپ میں ٹیم کا مکمل انحصار بلے بازی پر : گانگولی

نئی دہلی 18 اکتوبر (یو این آئی) کپتان مہندر سنگھ دھونی کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا نے والے ہندوستانی آل راؤنڈر اجے جڈیجہ نے ہفتہ کو یہاں کہا کہ موجودہ ٹیم میں صرف دھونی ہی ایسے کھلاڑی نظر آ رہے ہیں جن کی عالمی کپ میں جگہ یقینی ہے لیکن باقی ٹیم کا کچھ پتہ نہیں ہے۔جڈیجہ نیوز چینل آج تک کی کانفرنس’’سلام کرکٹ‘‘میں کیا ہندوستان اپنا خطاب بچا سکے گا ، کی میٹنگ میں آخری لمحات میں پہنچے۔ لیکن آتے ہی انہوں نے ایسا یار ر ڈالا کہ وہاں موجود سابق کپتان سورو گنگولی ، سابق آل راؤنڈر مدن لال اور پاکستان کے سابق کپتان عامر سہیل حیران رہ گئے۔ گزشتہ کچھ وقت میں دھونی کی حکمت عملی کی مسلسل تنقید کرنے والے جڈیجا نے ایک بار پھر کیپٹن کول پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا عالمی کپ میں کپتان تو موجود رہیں گے لیکن باقی ٹیم کا پتہ نہیں ہے۔ مزید یہ کہ مجھے تو موجودہ ٹیم میں عالمی کپ جیتنے کی صلاحیت نظر نہیں آتی ہے ۔ہندوستان کے سابق کپتان جڈیجہ نے ساتھ ہی کہا کہ سیلکٹر اور دھونی مختلف سمت میں چل رہے ہیں ۔ سیلکٹر اپنی طرف سے فیصلے کرتے ہیں تو دھونی اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ آئی پی ایل میں اپنی چنئی ٹیم کو دھونی اپنے حساب سے چلاتے ہیں لیکن قومی ٹیم میں ایسا نہیں ہو تا ہے۔ کہیں نہ کہیں سلیکٹر اور کپتان کے درمیان بڑا فاصلہ نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی ٹیم کی سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ اس میں ایک نہیں بلکہ پانچ پانچ لیڈر ہیں۔ روی شاستری کچھ کرتے ہیں، ڈنکن فلیچر کچھ کرتے ہیں، دھونی کچھ کرتے ہیں تو سلیکٹر کچھ کرتے ہیں۔ کسی بھی ٹیم میں ایک لیڈر ہونا چاہیے۔ پانچ لیڈر ہوں گے تو ٹیم کیسے جیتے گی ۔سابق آل راونڈر نے ٹیم کے انتخاب پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جو اچھی گیند بازی کرتا ہے اسے باہر بیٹھا دیتے ہیں۔ ہمارے پاس میچ ونر کھلاڑی نہیں ہیں ۔ اگر ٹیم میں سہواگ، گوتم، یوراج اور ہربھجن جیسے کھلاڑی ہوتے تو میں دعوی کر سکتا تھا۔ لیکن موجودہ ٹیم کو دیکھتے ہوئے میں کوئی دعوی نہیں کر سکتا ۔جڈیجہ نے ساتھ ہی کہا کہ عالمی کپ اب زیادہ دور نہیں ہے اور موقع دینے کا وقت بھی ختم ہو چکا ہے۔ جو ٹیم منتخب کرنی ہے اسے ابھی طے کر لیا جانا چاہیے اور کپتان دھونی کے حساب سے ہی چلنا چاہیئے ۔اس درمیان لیفٹ آرم اسپنر مرلی کارتک نے جڈیجہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں ہو نے والی تبدیلی اچھا اشارہ نہیں ہے۔ جو کھلاڑی ایک سیریز میں اچھا کرتے ہیں انہیں اگلی سیریز میں باہر بیٹھا دیا جاتا ہے۔ عالمی کپ نزدیک ہیں اور اس طرح کی الٹ پھیر ٹیم کے مفاد میں نہیں ۔

سابق ہندوستانی کپتان اور عظیم اوپنر سنیل گواسکر کا خیال ہے کہ مہندر سنگھ دھونی کی ٹیم کو اگر اس سال کے آخر میں آسٹریلیا کے دورے میں ٹیسٹ سیریز میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو انہیں ایسے گیند باز چاہئیں جو ایک میچ میں 20 وکٹ لے سکیں۔ گواسکر نے چینل آج تک کی کانفرنس سلام کرکٹ میں آسٹریلیا میں ہندوستان، اجلاس میں سابق آسٹریلوی کپتان اسٹیو وا سے بحث میں ا کہ ہندستان اپنی تاریخ میں آسٹریلیا میں کبھی ٹیسٹ سیریز نہیں جیت پایا ہے۔ ہندستان کو اگر آسٹریلیا میں ٹیسٹ سیریز جیتنی ہے تو اسے ایسے گیند باز چاہئیں جو ایک میچ میں 20 وکٹ لے سکیں ۔ گواسکر نے ساتھ ہی ا کہ چند ایک میچوں میں تو آپ 20 وکٹ لے سکتے ہیں لیکن مسلسل میچوں میں نہیں۔ دراصل ہندستان کے ساتھ مسئلہ ہے کہ اس کے پاس ایسے گیند باز نہیں ہیں جو لمبے اسپیل ڈال سکیں۔ ٹیسٹ سیریز کے لیے طویل فارمیٹ کو ذہن میں رکھ کر ٹیم نہیں چنی جاتی ہے اور ٹیم میں ایسے کھلاڑی شامل کیے جاتے ہیں جن میں پانچ دن کھیلنے کا مادہ نہیں ہوتا ہے ۔ اسٹیو و نے بھی ا کہ آیندہ آسٹریلوی دورہ ٹیم انڈیا کے لیے ایک بار پھر سخت چیلنج ہوگا۔ گزشتہ کچھ برسوں میں غیر ملکی زمین پر ہندستان کا مظاہرہ اچھا نہیں رہا۔

سابق پاکستانی کپتان عامر سہیل نے سنیچر کو واضح الفاظ میں کہا کہ موجودہ پاکستانی ٹیم اتنی کمزور ہے کہ اس سے ورلڈ کپ میں کوئی امید نہیں ہے۔سہیل نے یہاں نیوز چینل آج تک کی کانفرنس’’ سلام کرکٹ‘‘ میں ورلڈ کپ کے حوالے سے منعقد میٹنگ میں کہاگر میں ایمانداری سے کہوں تو موجودہ پاکستانی ٹیم اتنی مضبوط نظر نہیں آرہی کہ اس سے عالمی کپ جیتنے کی امید کی جا سکے ۔انہوں نے کہاکہ پا کستانی ٹیم میں بہترین کھلاڑی نہیں ہے ان کا بیک اپ بہت کمزور ہے اور وہی کھل کر بار بار ٹیم میں نظر آتے ہیں ۔ایسے کھلاڑیوں سے آپ عالمی کپ جیتنے کی امید کیسے کر سکتے ہیں ۔عالمی کپ کے تین سب سے مضبوط دعویداروں کے بارے میں پوچھنے پر سہیل نے کہا کہ جنوبی افریقہ اور میزبان آسٹریلیا دونوں ہی مضبوط ٹیم ہیں جبکہ گزشتہ چمپئن ہندوستان کو میں خطاب کے دعویداروں میں تیسرے نمبر پر رکھتا ہوں لیکن پاکستانی ٹیم سے مجھے کوئی امید نہیں ہے ۔

ملک کے کامیاب ترین کپتانوں میں سے ایک سوربھ گنگولی کا خیال ہے کہ 2015 میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی زمین پر ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ میں ہندستان کی خطاب بچانے کی امیدوں کا دارومدار بلے بازوں پر رہے گا ۔گنگولی نے ہفتہ کو یہاں نیوز چینل آج تک کی کانفرنس سلام کرکٹ میں یا ہندستان اپنا خطاب بچا سکے گا، کے اجلاس میں ہندستان کے امکانات پر کہا کہ ہم ہمیشہ سے اپنے بلے بازوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ بلے بازی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے اور اگر ہمیں اپنا خطاب برقرار رکھنا ہے تو بلے بازوں کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہندوستان کو 2003 عالمی کپ کے فائنل تک لے جانے والے گنگولی نے کہا کہ گیندبازی کبھی ہماری طاقت نہیں رہی ہے۔ ہم ون ڈے میں زیادہ تر میچ اپنی بلے بازی کی بدولت ہی جیتتے ہیں۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی تیز پچوں پر ہندستانی تیز گیندبازوں کو کہیں بہتر کھیل پیش کرنا ہوگا ۔ہندستان کی امیدوں میں سپر ا سٹار بلے باز وراٹ کوہلی کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے گنگولی نے کہا کہ وراٹ نے جب اپنا کریئر شروع کیا تھا تو وہ سچن تندولکر جیسے بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلے تھے۔ گزشتہ کئی برسوں میں جس طرح کی انہوں نے بلے بازی کی ہے اور جس تیزی کے ساتھ انہوں نے ون ڈے میں 20 سنچری پوری کی ہیں اس سے وراٹ سے امیدیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ ہندوستان کو عالمی کپ جتانے میں اس بلے باز کا کردار اہم رہے گا۔ سابق کپتان نے کہایہ صحیح ہے کہ وراٹ انگلینڈ میں اچھا مظاہرہ نہیں کر پائے۔ لیکن ان میں صلاحیت ہے کہ وہ واپسی کر سکتے ہیں اور دہلی میں نصف سنچری اور دھرم شالہ میں سنچری بنا کر انہوں دکھایا ہے کہ ان میں ٹیم کو اکیلے اپنے طور پر جتانے کا دم خم ہے ۔ہندوستانی گیند بازی پر گنگولی نے کہا کہ موجودہ تیز گیند بازوں کے پاس ابھی اتنا تجربہ نہیں ہے کہ وہ ظہیر خان کی برابری پر پہنچ سکیں۔ ان گیند بازوں کو ابھی وقت دینے کی ضرورت ہے اور انہیں ڈیتھ اوورز کی اپنی گیند بازی میں بھی سدھار کرنا ہوگا۔ ویسے ڈیتھ اوورز کی بولنگ ہندستان کی ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک کا بھی مسئلہ ہے ۔ ٹیم انڈیا کے اسپن اٹیک کے لیے گنگولی نے کہا کہ لیگ اسپنر امت مشرا کو دھرم شالہ ون ڈے میں باہر نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے دہلی میں کافی اچھی گیند بازی کی۔ لیفٹ آرم اسپنر اکشر پٹیل کو موقع دینا اچھا قدم تھا۔ مشرا کو عالمی کپ کی ٹیم ضرور ہونا چاہیے کیونکہ آسٹریلیا میں کلائی کے اسپنر زیادہ کامیاب ہوتے ہیں ۔ گنگولی کے ساتھ اس اجلاس میں موجود سابق آل راؤنڈر مدن لال نے کہا کہ آف اسپنر روی چندرن اشون کو عالمی کپ میں کھلانا چاہیے جو نچلے آرڈر میں رنز بھی بنا سکتے ہیں۔ اشون کے ساتھ آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ کا کردار بھی اہم رہے گا۔ گنگولی نے کہا کہ عالمی کپ جیسا ٹورنامنٹ بھاری دباؤ والا ہوتا ہے اور ٹیم کے ہر کھلاڑی کو ایسا دباؤ برداشت کرنا سیکھنا ہوگا ۔ ویسے کپتان مہندر سنگھ دھونی دباؤ میں مہارت رکھتے ہیں اور وہ اپنی ٹیم کے ساتھیوں کو دباؤ سے نکالنے کا کام کر سکتے ہیں ۔

...


Advertisment

Advertisment