Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 05:12 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

اے بی ، آملہ ٹیم انڈیا کو جیت سے نہ روک سکے

نئی دہلی، 7 دسمبر (یو این آئی) ہندوستانی گیند بازوں کے سامنے آخر دنیا کی نمبر ایک ٹیم جنوبی افریقہ کافی کوشش کرنے کے باوجود ٹیم انڈیا کی جیت کو نہیں ٹال سکی اور بالآخر مہمان ٹیم کے بلے بازوں کا صبر جواب دے گیا جس سے ہندوستان نے چوتھے میچ کے آخری دن پیر کو 337 رن کے بھاری بھرکم فرق سے جیت درج کرکے چار میچوں کی فریڈم ٹیسٹ سیریز تین صفر سے اپنے نام کر لی۔جنوبی افریقہ کی ٹیم چائے کے وقفہ تک پانچ وکٹ پر 136 رن بنا کر ٹکی ہوئی تھی لیکن چائے کے وقفہ کے بعد اس نے اپنے باقی پانچ وکٹ صرف سات رن جوڑ کر گنوا دیے اور پوری ٹیم 143 اعشاریہ 1اووروں میں 143 رن بنا کر ڈھیر ہو گئی جس کے ساتھ ہی ہندوستان نے اپنی جیت کے انتظار کو بھی ختم کر دیا۔صفر دو سے پہلے ہی سیریز گنوا چکی جنوبی افریقہ کی ٹیم ہر حال میں اپنے چوتھے اور آخری ٹیسٹ میں شکست سے بچنا چاہتی تھی۔ وہ چار میچوں کی سیریز کے آخری ٹیسٹ کو بھلے ہی پانچویں اور آخری دن تک لے جانے میں کامیاب رہی لیکن آف اسپنر روی چندرن اشون (پانچ وکٹ)، رویندر جڈیجہ (دو وکٹ) اور امیش یادو (تین وکٹ) کی زبردست بولنگ کے سامنے اس نے چائے کے وقفہ کے بعد گھٹنے ٹیک دئے اور پوری ٹیم سات رن کے وقفہ میں ڈھیر ہو گئی۔کل کے ناٹ آ¶ٹ بلے باز اے بی ڈی ویلیئر نے میچ بچانے کی بھرپور کوشش کی اور 297 گیندوں میں 43 رن کی سب سے بڑی اننگز کھیلی۔ انہوں نے صبر سے کھیلتے ہوئے اننگز میں چھ چوکے بھی لگائے ۔ اس سے پہلے ہاشم آملہ نے بھی 244 گیندوں میں تین چوکے لگا کر 25 رن کی اننگز کھیلی تھی۔ پلیسس (10 رن)، ولاس (13)، کائل ایبوٹ (صفر)، ڈین پیئٹ (ایک)، مورن مورکل (دو) رن بنا کر آ¶ٹ ہوئے ۔ اشون نے مورکل کو بولڈ کر جیت کی خانہ پوری کی۔جنوبی افریقہ نے چائے کے وقفہ کے فوراً بعد ڈین ولاس کا وکٹ گنوایا۔ وہ چھٹے بلے باز کے طور پر 136 کے اسکور پرتیز گیندباز امیش یادو کا شکار بنے ۔ لیکن اس کے فوراً بعد اسی اسکور پر اشون نے ڈی ویلیئرس کو ساتویں بلے باز کے طور پر آ¶ٹ کرکے پویلین بھیج دیا۔ ڈی ویلیئرس صرف ایک ہی گیند کھیل سکے تھے کہ ہندوستانی آف اسپنر نے انہیں جڈیجہ کے ہاتھوں کیچ کراکے مہمان ٹیم کا سب سے اہم وکٹ حاصل کیا۔ڈی ویلیئرس سب سے زیادہ 345 منٹ کریز پر ڈٹے رہے اورانہوں نے 297 گیندوں کا سامنا کیا۔ اس سے پہلے صبح کے سیشن میں کپتان ہاشم آملہ کو رویندر جڈیجہ نے اپنا شکار بنا کر ٹیم کا سب سے اہم وکٹ لیا تھا۔ آملہ میدان پر جمے رہنے کے معاملے میں دوسرے نمبر پر رہے جنہوں نے 288 منٹ کریز پر رہ کر سب سے کم 10.24 کے اسٹرائک ریٹ سے 244 گیندوں میں 25 رنز بنائے ۔جنوبی افریقہ کے بہترین بلے باز ڈی ویلیئرس کے آ¶ٹ ہونے کے بعد گویا مہمان ٹیم نے میدان پر ڈٹے رہنے کی جو قسم کھائی تھی وہ بھی ٹوٹ گئی اور باقی بلے بازوں نے آیا رام گیا رام کی طرز پر اپنے وکٹ آسانی سے دے دیئے ۔ ایبوٹ سات گیندیں کھیل کر 10 منٹ کریز پر رہے اور کھاتہ کھولے بغیر یادو کی گیند پر بولڈ ہو گئے ۔ وہ آٹھویں بلے باز کے طور پر آ¶ٹ ہوئے ۔اس کے بعد پیئٹ کو یادو نے وکٹ کیپر ردھمان ساہا کے ہاتھوں کیچ کراکے نواں وکٹ لیا اور اشون نے مورکل کو دو رن پر بولڈ کر کے دن کا اپنا تیسرا اور کل پانچواں وکٹ لیا اور جنوبی افریقہ کی ختم نہ ہوتی دکھائی دے رہی اننگز کو سمیٹ دیا۔نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم کے بلے بازوں کواپنی کی گیندوں سے پریشان کرنے والے آف اسپنر اشون نے آخری میچ میں بھی کمال کیا اور 49.1 اوور میں 61 رن دے کر پانچ وکٹ لئے ۔ یادو نے 21 اوور میں 0.42 کی زبردست اکونومی ریٹ سے نو رن دے کر تین وکٹ حاصل کئے جبکہ جڈیجہ نے 46 اوور میں 26 رن پر دو وکٹ لئے ۔ اشون کو سیریز میں ان کی بہترین کارکردگی کے لئے مین آف دی سیریز جبکہ رہانے کو آخری ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچری بنانے کے لئے مین آف دی میچ قرار دیاا گیا۔
اس سے پہلے جنوبی افریقہ نے لنچ تک تین وکٹ پر 94 رن بنائے تھے اور چائے کے وقفہ تک ٹیم نے مزید 42 رن کا اضافہ کرکے اپنے دو وکٹ گنوائے اور 138 اوور میں پانچ وکٹ پر 136 رن بنائے ۔ تاہم چائے کے وقفہ کے بعد پوری ٹیم سات رن کے اندر اندر 143 رن پر ہی ڈھیر ہو گئی۔لنچ تک ڈی ویلیئرس کے ساتھ مضبوطی سے ڈٹے ہوئے بلے باز فاف ڈو پلیسس لنچ کے بعد 36 گیندوں میں آٹھ رن اور جوڑکر جڈیجہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے اور چوتھے بلے باز کے طور پر پویلین لوٹ گئے ۔ جڈیجہ کا یہ دن کا دوسرا وکٹ تھا۔ اس سے پہلے انہوں نے صبح کے سیشن میں کپتان ہاشم آملہ کو آ¶ٹ کیا تھا۔ پلیسس نے 97 گیندوں میں ایک چوکا لگا کر 10 رن بنائے ۔پلیسس کے بعد میدان پر آئے جے پی ڈومنی 12 گیندیں کھیل کر بغیر کوئی رن بنائے صفر پر اشون کا شکار ہو گئے اور پانچویں بلے باز کے طور پر 112 کے اسکور پر آ¶ٹ ہوئے ۔ اشون نے ڈومنی کو ایل بی ڈبلیو کیا۔ اشون کا یہ دن کا پہلا وکٹ تھا۔ میچ کے آخری دن ہندوستان کے لیے جنوبی افریقہ کے بلے بازوں کا وکٹ لینا ایک چیلنج بنا ہوا تھا تو وہیں مہمان ٹیم کے کھلاڑی سستی کے ساتھ دن کا کھیل اسی طرح ختم کرکے شکست سے بچنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے ۔ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان چار ٹسٹ میچوں کی سیریز کا یہ پہلا میچ ہے جو پانچویں دن تک کھیلا گیا جبکہ اس سے پہلے موہالی اور ناگپور کے میچ تین دن کے اندر ہی ہندوستان نے نمٹا دیے تھے ۔ لیکن دہلی میں جنوبی افریقہ نے اپنی طے شدہ حکمت عملی کے تحت میچ کو پانچویں دن تک لے جانے میں کامیابی حاصل کی لیکن بالآخر دن کا کھیل ختم ہونے سے کچھ وقت پہلے پوری ٹیم ڈھیر ہو گئی اور ہندوستان کی جیت کو نہیں ٹال سکی۔اس انتہائی دلچسپ میچ میں جنوبی افریقہ نے پانچویں دن کا آغاز کل کے 72 رن پر دو وکٹ سے آگے کیا تھا۔ اس وقت کپتان آملہ (207 گیندوں میں ناٹ آ¶ٹ 23) اور ڈی ویلیئرس (91 گیندوں میں 11 رن) پر ناٹ آ¶ٹ تھے ۔ جنوبی افریقہ نے کل ایک رن فی اوور کی شرح سے 72 اوور میں یہ رن بنائے تھے اور صبح بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ آملہ نے اسی طرح اپنی اننگز کو آگے بڑھایا اور 37 گیندیں کھیلی جن میں انہوں نے دو رن بنائے اور کل 244 گیندوں میں 25 رن بنا کر آ¶ٹ ہوئے ۔جنوبی افریقہ کے کپتان نے ڈ¸ ویلیرس کے ساتھ 42.1 اوور میں تیسرے وکٹ کے لئے 27 رن کی ساجھے داری کی۔ آملہ کا وکٹ تیسرے بلے باز کے طور پر 76 کے اسکور پر گرا۔ لیکن اس کے بعد ڈی ویلیئرس اور پلیسس نے مورچہ سنبھالا۔ پلیسس نے 97 گیندوں میں ایک چوکا لگا کر 10 رن بنائے اور ڈی ویلیئرس کے ساتھ چوتھے وکٹ کے لئے 35.1 اوور میں 35 رن کی شراکت بھی کی۔اس سے پہلے ہندوستان نے اتوار کو میچ کے چوتھے دن اپنی دوسری اننگز پانچ وکٹ پر 267 رن بنا کر ڈکلیئرکر دی تھی اور جنوبی افریقہ کو جیت کے لیے 481 رن کا ہدف دیا تھا۔ ہندوستان کی جانب سے جنوبی افریقہ کو ملا یہ اب تک کا سب سے بڑا مقصد بھی ہے ۔ہندوستان کی جانب سے آف اسپنر روی چندرن اشون نے جنوبی افریقہ کے کل دو اوپننگ وکٹ ڈین الگر (چار) اور تومبا باوما (34) کو آ¶ٹ کیا جبکہ آخری دن ڈی ویلیرس، ڈومنی اور مورکل کو آ¶ٹ کیا۔ جڈیجہ نے آملہ اور پلیسس کے وکٹ لئے جبکہ امیش کے ہاتھ ولاس، ایبوٹ اور پیئٹ کے وکٹ لگے ۔
 
...


Advertisment

Advertisment