Today: Tuesday, November, 13, 2018 Last Update: 09:59 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

دنیا چھوڑنے سے پہلیایتھلیٹکس میں اولمپک گولڈ دیکھنا چاہتا ہوں

 

ڈوپنگ کے مجرم کھلاڑیوں کے کوچ کو بھی معطل کرنا ضروری:ملکھا

نئی دہلی یکم اپریل(آئی این ایس انڈیا)اپنے زمانے کے اسٹار کھلاڑی ملکھا سنگھ نے کھیلوں میں ڈوپنگ کو کینسر قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ صرف محدود دوائیاں لینے والے کھلاڑی ہی نہیں بلکہ اس کے کوچ اور متعلقہ ڈاکٹر کو بھی معطل کیا جانا چاہیے۔اڑن سکھ نے آج یہاں ملکھا شیورفٹ فٹنس پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ڈوپنگ کھیلوں میں کینسر کی طرح ہے،حکومت اور کھیل ایسوسی ایشن کو اس پر سخت رویہ اپنانا چاہئے،کھلاڑی ہی نہیں کوچ اور ڈاکٹروں کو بھی معطل کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ سب ان کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ہندوستان کے کئی کھلاڑی گزشتہ چند سالوں میں ڈوپنگ میں پکڑے جاتے ہیں۔کیرل میں حالیہ قومی کھیلوں کے دوران بھی چند کھلاڑی ممنوعہ دوائیوں کے استعمال کے مجرم پائے گئے تھے۔ملکھا نے اس کے ساتھ ہی کہا کہ اگر ملک آزادی کی 6 دہائی سے بھی زیادہ کے بعد دوسرا ملکھا تیار نہیں کر پایا ہے تو اس کیلئے کافی حد تک ہندوستانی ایتھلیٹکس یونین بھی مجرم ہے جو کہ اپنے کام کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری آبادی 120کروڑ سے زیادہ ہے لیکن ہم گزشتہ 60سال سے دوسرا ملکھا پیدا نہیں کر پائے،اس سے مجھے دکھ ہوتا ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے کھلاڑی، ہمارے کوچ اور ہماری ایسوسی ایشن سنجیدہ نہیں ہیں۔روم اولمپکس 1964میں معمولی فرق سے تمغے سے چوکنے والے 86سالہ ملکھا نے کہاکہ میں چاہتا ہوں کہ میں جو نہیں کر پایا وہ کوئی اور کرے،میں ہندوستان کو اولمپک میں ایتھلیٹکس میں طلائی تمغہ جیتتے ہوئے دیکھنے کیلئے زندہ رہنا چاہتا ہوں۔ ملکھا نے حال میں انڈیا اوپن کا خطاب جیتنے والی دنیا کی نمبر ایک کھلاڑی بیڈمنٹن کھلاڑی سائنا نہوال کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے کھلاڑیوں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بیڈمنٹن میں سائنا نہوال بہت اچھا مظاہرہ کررہی ہے،ہم نے باکسنگ، کشتی، نشانہ بازی میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ہمارے پاس آج بھی ایتھلیٹکس میں کوئی ایسا کھلاڑی نہیں ہے جو اولمپکس میں تمغہ جیت سکے ۔اس عظیم کھلاڑی نے ملکھا شیورفٹ پروگرام کے بارے میں بتایا کہ یہ ملک کے بچوں کو صحت مند اور پوری طرح فٹ سے بنانے سے منسلک ہے،تبھی ہم باصلاحیت کھلاڑی تیار کر سکتے ہیں۔ ملکھا اس موقع پر اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے جذباتی بھی ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ اپنی زندگی میں میں صرف تین بار رویا۔پہلے 1947میں تقسیم کے وقت جب میں نے اپنے سامنے اپنے والدین اور بھائی بہنوں کا قتل ہوتے ہوئے دیکھا۔دوسرا جب میں روم اولمپک میں تمغہ سے چکا اور تیسرا جب میں نے خود پر بنی فلم’’بھاگ ملکھا بھاگ ‘‘دیکھی۔اس فلم نے میری عمر دس سال بڑھا دی۔

 

...


Advertisment

Advertisment