Today: Tuesday, November, 13, 2018 Last Update: 10:31 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

گیندبازوں کیلئے موجودہ قوانین میں تبدیلی کے حق میں ہیں دھونی

 

ہمارے تیز گیند بازوں کو کم سے کم گھریلو میچز کھیلنے چاہئیں:دھونی

میلبورن27مارچ(آئی این ایس انڈیا)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چار فیلڈروں کے اصول کے نقادرہے ہندوستانی کپتان مہندر سنگھ دھونی کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین میں تبدیلی ہونی چاہئے کیونکہ یہ بلے بازوں کے حق میں ہے۔تیز گیندبازی آل راؤنڈر کی غیرموجودگی میں کل آسٹریلیا کے خلاف ورلڈ کپ سیمی فائنل میں شکست کے دوران دھونی کو جدوجہد کرتے دیکھا گیا جب ان کے پانچویں بالر بائیں ہاتھ کے اسپنر روندر جڈیجہ رنز روکنے میں ناکام رہے۔دھونی بار بار واضح کرتے آئے ہیں کہ 30گز کے دائرے کے باہر چار سے زیادہ فیلڈروں کو کھڑا نہیں کرنے کے قوانین سے ہندوستانی گیند بازی متاثر ہوئی ہے۔ہندوستانی کپتان نے کہا کہ یہ میرا ذاتی نظریہ ہے، میں چاہتا ہوں کہ اس میں تبدیلی ہو،کرکٹ کی تاریخ میں ہم نے ون ڈے میچوں میں ڈبل سنچری نہیں دیکھی اور اب تین سال میں تین ڈبل سنچریاں،اصل میں6بن گئی ہیں۔ہندوستان کی جانب سے اب تک چار ڈبل سنچری بنی ہیں جس میں روہت شرما نے دو جبکہ سچن تندولکر اور وریندر سہواگ نے ایک ایک ڈبل سنچری بنائی ہے،اس کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے کرس گیل اور نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل نے بھی ایک ایک ڈبل سنچری لگائی ہے۔دھونی نے آئی سی سی کے اس اصول پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ کہہ سکتے ہیں کہ اضافی فیلڈنگ کے اندر آنے سے زیادہ خالی گیندیں پھینکی جا رہی ہیں،اگر ایسا ہے تو فیلڈروں کو باہر رکھنے کے اختیارات کی جگہ آپ کو تمام 11کو گھیرے کے اندر رکھ سکتے ہو جس سے کہ زیادہ خالی گیند ہوں۔اپنی جارحانہ بلے بازی کے لئے پہچانے جانے والے دھونی نہیں چاہتے کہ ون ڈے کرکٹ چوکوں اور چھکوں کا کھیل بن جائے کیونکہ اس سے یہ بورنگ ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہوگا50اوور کے میچ کو ٹی 20کی طرح نہیں بنانا چاہئے کیونکہ بہت سارے چھکے اور چوکے بھی اسے کافی بورنگ بنا دیں گے۔ہندوستانی کپتان نے کہا کہ ون ڈے کرکٹ کا اہم پہلو یہ ہے کہ آپ 15ویں اوور سے تقریبا 35ویں اوور تک کیسے کھیلتے ہو کیونکہ پہلے 10اور آخری کے 10ٹی 20کی طرح ہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ون ڈے کرکٹ کا اصل امتحان یہ ہے کہ آپ درمیان کے اووروں میں کیسے بلے بازی کرتے ہو۔
وہیں ورلڈ کپ میں ہندوستان کرکٹ کے لئے سب سے مثبت چیز اس کے تیز گیند بازوں کی کارکردگی رہی اور کپتان مہندر سنگھ دھونی کاماننا ہے کہ امیش یادو، محمد سمیع اور موہت شرما تینوں کو گھریلو مقابلوں میں کھیلنے کے لئے مجبور نہیں کرنا چاہئے جس سے کہ یہ یقین ہو سکے کہ وہ تھکے نہیں ۔ہندوستانی گیند بازوں نے مخالف ٹیموں کے جو 72وکٹ حاصل کئے اس میں سے 48یادو(18وکٹ)، سمیع(17وکٹ)اور موہت(13وکٹ)نے حاصل کئے،ان تینوں نے اپنی رفتار، اچھال اورکنٹرول سے سب کو حیران کیا۔یہ تینوں گیندباز صرف کل آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائنل میں ہی اچھا مظاہرہ نہیں کر پائے جس میں ٹیم کو 95رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔دھونی کا خیال ہے کہ بی سی سی آئی کو ان اہم گیندبازوں کو احتیاط کے ساتھ نکھارنا چاہئے اور متعلقہ ریاستوں ایسوسی ایشن کو ان پر رنجی ٹرافی میں کھیلنے کے لئے دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔جب یہ پوچھاگیا کہ کس طرح موجودہ کھلاڑیوں کو نکھارا اور بچایا جا سکتا ہے؟۔ دھونی نے کہا کہ گزشتہ کچھ وقت سے ہمارے فریم ورک میں یہ مسئلہ ہے،تیز گیند باز کے بین الاقوامی دورہ مکمل کرکے لوٹنے پر مقامی ریاستی یونین اسے گھریلو کرکٹ میں بالنگ کے لئے کہتاہے،انہیں کتنے اوور پھینکنے کو کہا جا رہا ہے اس پر نظر نہیں رکھی جاتی اور نہ ہی توازن رکھاجاتا ہے۔کئی مواقع پر سمیع یا یادو سے ان کی متعلقہ ریاستی یونین بنگال اور ودربھ رنجی ٹرافی، وجے ہزارے ٹرافی یا سید مشتاق علی ٹرافی میں کھیلنے کی اپیل کرتے ہیں اور کبھی کبھی حکم بھی دیتے ہیں۔دھونی نے کہا کہ اگر تیز گیند باز گھریلو میچ کھیلنے سے انکار کر دیتا ہے تومقامی یونین ناراض ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اب تم ہندوستان کے لئے کھیل رہے ہو تو اس کا مطلب ہوا کہ ہمارے لئے نہیں کھیلوگے،یہیں مسئلہ ہے۔ہندوستانی کپتان نے بی سی سی آئی سے اپیل کی کہ وہ اس گیند بازی یونٹ پر قریب سے نظر رکھے کیونکہ وہ مستقبل کے غیر ملکی دوروں پر ہندوستان کی کامیابی میں اہم ہوں گے۔دھونی نے کہا کہ اگر ہم ہندوستانی کرکٹ کے مفاد کو دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تیز گیند بازوں کی ترقی پر نظر رکھنی ہوگی کہ وہ کتنے اوور پھینک رہے ہیں اور ان پر کتنا بوجھ ہے، ساتھ ہی ہمارے گیندبازوں کو ہندوستانی گھریلو کرکٹ میں زیادہ میچ نہیں کھیلنے چاہئے،انہیں بیچ بیچ میں میچ کھیلنے چاہئے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment