Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 04:54 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

اہم موقع پر ریت کا ڈھیر ثابت ہوئے ہندوستانی شیر

 

ہندستان کا عالمی کپ کا خطاب بچانے کا خواب چکنا چور،95رنوں کی شکست کے ساتھ عالمی کپ سے ہوئے باہر،اسٹیون اسمتھ پھر بنے راہ کا روڑہ ،شاندار سنچری لگاکر کنگاروں کو دیا جیت کا تحفہ،موجودہ عالمی کپ میں پہلی بار نہیں چلا گیندبازوں کا جادو

سڈنی، 26 مارچ (یو این آئی) کپتان مہندر سنگھ دھونی جیسے ہی رن آؤٹ ہوئے ویسے ہی کروڑوں ہندوستانیوں کے منہ سے ایک آہ نکلی اور ہندستان کا ورلڈ کپ خطاب بچانے کا خواب ٹوٹ گیا۔مشترکہ میزبان آسٹریلیا نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں ہی شعبوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چمپئن ہندستان کو جمعرات کو سیمی فائنل میں 95 رنز سے ناک آؤٹ کرکے فائنل میں جگہ بنا لی جہاں اس کا مقابلہ دوسرے میزبان نیوزی لینڈ سے 29 مارچ کو میلبورن میں ہوگا۔آسٹریلیا نے اسٹیون اسمتھ (105) کی شاندار سنچری اور اوپنر آرون فنچ کی 81 رنز کی بہترین اننگز سے مقررہ 50 اوور میں سات وکٹ پر 328 رن کا بڑا اسکور بنانے کے بعد دفاعی چمپئن ہندوستان کو 46.5 اوور میں 233 رن پر نمٹا دیا۔ہندستان کا ورلڈ کپ میں جیت کا سلسلہ سیمی فائنل میں بلے بازوں کے مایوس کن کارکردگی سے تھم گیا۔شکھر دھون (45)، روہت شرما (34)، اجنکیا رہانے (44) اور کپتان دھونی (65) ہندوستان کو فائنل کی منزل تک نہیں لے جا سکے ۔مشترکہ میزبان آسٹریلیا نے سیمی فائنل میں ملے تمام موقعوں کو پوری طرح فائدہ اٹھایاجبکہ ہندستانی ٹیم فیصلہ کن موقعوں پر پھسل گئی۔وراٹ کوہلی کا ایک رن بنا کر اور سریش رینا کو سات رن بنا کر آؤٹ ہونا ہندستان کے لئے گہرا جھٹکا رہا۔دھونی نے یک طرفہ کوشش کرتے ہوئے 65 گیندوں میں تین چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 65 رنز بنائے لیکن جیسے ہی وہ 231 کے اسکور پر رن [؟][؟]آؤٹ ہوئے ہندوستان کی رہی سہی امید ختم ہو گئیں۔ہندستان عالمی کپ میں گزشتہ 11 میچوں سے مسلسل غیر مفتوح چلا آ رہا تھا۔اس نے گزشتہ سات میچوں میں تمام حریف ٹیموں کو آل آؤٹ کیا تھا لیکن سیمی فائنل میں وہ آسٹریلیا کو آل آؤٹ نہیں کر پایا اور بالآخر یہی ہندستان کی شکست کا سبب بنا۔ہندوستان نے جب ہدف کا تعاقب کرنا شروع کیا تو امید تھی کہ اس کے بلے باز بڑے ہدف کو بھی حاصل کر سکیں گے ۔لیکن ہندوستان 76 رن کے مضبوط آغاز کا فائدہ نہیں اٹھا پائے ۔ کچھ بلے بازوں نے جمنے کے بعد اپنے وکٹ گنوائے جبکہ وراٹ نے لاپرواہی کے ساتھ شاٹ کھیل کر اپنا وکٹ گنوایا۔ہندستان کی جیت کے لئے ملک بھر میں ہون، یگیہ اور پرارتھنا کی گئی تھیں اور اس کے سیمی فائنل کو لے کر ملک بھر میں جیسے جنون کا ماحول تھا لیکن ٹاپ چار بلے بازوں کے 108 رن تک پویلین لوٹ جانے کے بعد یہ جذبہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہوتا چلا گیا۔روہت اور شکھر نے پہلے وکٹ کے لئے 12.5 اوور میں 76 رنز جوڑے لیکن اس کے بعد 108 رن تک جاتے جاتے ہندوستان نے چار وکٹ گنوا دیئے ۔شکھرنے جوش ہیزل وڈ کی گیند پر بڑاشاٹ کھیلنے کی کوشش میں گلین میکسویل کو کیچ دیا۔وراٹ آنے کے ساتھ ہی مشیل جانسن پر اونچا شاٹ کھیل بیٹھے اور وکٹ کیپر بریڈ ہیڈن نے آسان کیچ پکڑ لیا۔جانسن نے روہت کو بولڈ کیا اور رینا جیمز فاکنر کی گیند پر وکٹ کے پیچھے کیچ آوٹ ہوئے ۔شکھر نے چھ چوکے اور ایک چھکا اور روہت نے ایک چوکا اور دو چھکے لگائے ۔رہانے اور رائنا نے پانچویں وکٹ کے لئے 70 رن کی ساجھے داری کی لیکن رہانے مشیل اسٹارک کی گیند پر وکٹ کے پیچھے لپکے گئے اور اس کے ساتھ ہی ہندستان کی امیدیں بھی ختم ہو گئیں۔ہندوستان پر رنز کی رفتار کا دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا تھا۔دھونی نے رویندر جڈیجہ (16) کے ساتھ اسکور کو 208 تک پہنچایا لیکن صورتحال ہاتھ سے نکل چکی تھی۔جڈیجہ رن آؤٹ ہو گئے جبکہ 231 کے اسکور پر دھونی بھی رن آؤٹ ہو گئے ۔دھونی نے 65 گیندوں میں تین چوکے اور دو چھکے لگائے ۔دھونی کا وکٹ گرنے کے دو رن بعد ہی پوری ہندستانی اننگز 233رنز پر سمٹ گئی۔ جیمزفاکنر نے مسلسل گیندوں پر روی چندرن اشون اور موہت شرما کو آؤٹ کیا جبکہ اسٹارک نے امیش یادو کو بولڈ کرکے آسٹریلوی شائقین کو جشن منانے کا موقع دے دیا۔ہندستانی حامیوں کا نیلا سمندر اور جذبہ بھی آسٹریلیا کو فائنل میں پہنچنے سے نہیں روک پایا۔ہندوستانی ٹیم سڈنی کے میدان پر تاریخ نہیں بدل سکی اور اس میدان پر اسے آسٹریلیا سے 14 مقابلوں میں 13 ویں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
آسٹریلیا اننگز میں شاندار سنچری بنانے والے اسٹیون اسمتھ کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔جیمز فاکنر نے 59 رن پر تین وکٹ پر، جانسن نے 50 رن پر دو وکٹ، اسٹارک نے 28 رن پر دو وکٹ اور ہیزل وڈ نے 41 رن پر ایک وکٹ لے کر کروڑوں ہندستانی شائقین کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ۔چار بار کا چمپئن آسٹریلیا اس کے ساتھ ہی ساتویں بار عالمی کپ کے فائنل میں پہنچ گیا جہاں اس کا 29 مارچ کو پہلی بار عالمی کپ کے فائنل میں پہنچنے والی نیوزی لینڈ کے ساتھ میلبورن میں مقابلہ ہوگا۔اس سے قبل اسٹیون اسمتھ (105 رن) اور آرون فنچ (81) کے درمیان دوسرے وکٹ کے لیے 182 رنز کی بڑی رفاقت کی بدولت آسٹریلیا نے کسی ہوئی گیند بازی اور اچھی فیلڈنگ کے باوجود ہندستان کے خلاف یہاں جمعرات کو عالمی کپ کے سیمی فائنل میں سات وکٹوں کے نقصان پر 328 رن کا مضبوط اسکور بنا لیا تھا۔آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا اور 50 اوورز میں سات وکٹ پر 328 رن کا مضبوط اسکور بنایا۔ٹیسٹ کپتان اسٹیون اسمتھ ایک بار پھر اہم ثابت ہوئے اور انہوں نے 105 رن کی سنچری اننگز کھیل کر ٹیم کو لڑنے کے قابل حالت میں پہنچایا جبکہ اوپنر آرون فنچ نے 81 رنز کی اننگز کھیلی اور ٹیم کو اچھی شروعات دلائی۔دوسرے وکٹ کے لیے فنچ اور اسمتھ نے 182 رنز کی بہترین رفاقت نبھائی ۔ عالمی کپ ناک آؤٹ میں یہ دوسری سب سے بڑی رفاقت ہے ۔اس سے پہلے سال 1999 میں پاکستان کے سعید انور اور واسطي نے نیوزی لینڈ کے خلاف 194 رنز کی سب سے بڑی شراکت کی تھی۔ہندوستان نے شروع شروع میں آسٹریلوی بلے بازوں کو رن بنانے سے کچھ روکا لیکن آخری اوورز میں شین واٹسن نے تابڑ توڑ 28 رن بنائے ۔ واٹسن کو اگرچہ گیند بازوں نے پھر دیر تک نہیں ٹکنے دیا اور 47 ویں اوور میں موہت نے اجنکیا رہانے کے ہاتھوں باؤنڈري کے پاس کیچ کرکے پویلین بھیج دیا۔اس کے بعد مچل جانسن میدان پر آئے اور انہوں نے صرف نو گیندوں میں ناٹ آؤٹ 27 رنز بنا ڈالے ۔انہوں نے مسلسل تین چوکے لگائے ۔ہندوستانی گیند بازوں نے شروع شروع میں کسی ہوئی گیند بازی سے ایک وقت 34 اوور تک آسٹریلیا کو 200 کے اندر رکھا لیکن پھر آخری نو اوورز میں 74 رنز پڑ گئے جو ہندوستان کو کافی مہنگا پڑا۔ہندستان کی جانب سے امیش یادو نے نو اوورز میں 72 رنز دے کر چار وکٹ لیے ۔ عالمی کپ ناک آؤٹ میں وہ چار وکٹ لینے والے پہلے بولر ہیں۔ لیکن ان کی گیند بازی کچھ مہنگی رہی۔موہت شرما نے 10 اوورز میں 75 رنز دے کر دو وکٹ اور روی چندرن اشون نے 10 اوورز میں 42 رنز پر ایک وکٹ لیا۔میچ میں سڈنی کی پچ کا اہم کردار مانا جا رہا تھا اور صبح یہ بلے بازی پچ دکھائی دی لیکن آسٹریلوی بلے بازوں کو شروع شروع میں یہاں رنز بنانے میں کچھ پریشانی ضرور ہوئی۔لیکن اسمتھ اور فنچ نے ٹک کر رن بنائے اور ٹیم کو بہتر حالت میں پہنچایا۔فنچ نے 116 گیندوں میں سات چوکے اور ایک چھکا لگا کر 81 رنز جبکہ اسمتھ نے 93 گیندوں میں 11 چوکے اور دو چھکے لگا کر 105 رنز کی اننگز کھیلی۔انہوں نے 89 گیندوں میں اپنی سنچری مکمل کی۔یہ ان کے ون ڈے کیریئر کی چوتھی سنچری ہے ۔ہندوستان کو جہاں پہلی کامیابی صرف 15 کے اسکور پر ڈیوڈ وارنر (12) کے طور پر ملی وہیں دوسرا وکٹ نکالنے میں اسے کافی انتظار کرنا پڑا اور 34 ویں اوور میں جا کر امیش نے اسمتھ کو روہت شرما کے ہاتھوں کیچ کراکر پویلین بھیجا اور فنچ کے ساتھ ان کی ریکارڈ شراکت پر بریک لگایا۔ہندوستان نے درمیانے اوورز میں میچ میں واپسی کی اور اچھے اکونومي ریٹ سے رنز دیے لیکن آخری 10 اوورز میں میچ کا رخ بدل گیا اور نوویں نمبر پر کھیلنے اترے جانسن نے 300 کے اسٹرائک ریٹ سے صرف نو گیندوں میں چار چوکے اور ایک چھکا لگا کر ناٹ آؤٹ 27 رن بنائے ۔بریڈ ہیڈن اور جانسن نے مل کر آٹھویں وکٹ کے لیے صرف 2.1 اوور میں 30 رن کی بے حد مفید ناٹ آؤٹ ساجھے داری کی۔آسٹریلیا کی جانب سے گلین میکسویل نے 23 رن، شین واٹسن نے 28، کپتان مائیکل کلارک نے 10 اور جیمز فاکنر نے 21 رنز بنا کر اسکور 300کے پار پہنچانے میں مدد کی۔آسٹریلیا کا ہندستان کے خلاف سات وکٹ پر 328 رن کا اسکور ورلڈ کپ سیمی فائنل مقابلے میں کسی ٹیم کا سب سے بڑا اسکور ہے ۔اس سے پہلے نیوزی لینڈ نے اسی عالمی کپ کے پہلے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کے خلاف 299 رن کا بڑا اسکور بنایا تھا۔میچ میں ایک وقت جہاں ہندوستان کی گرفت دکھ رہی تھی وہیں آسٹریلیا نے آخری اوورز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔اس سے پہلے آسٹریلیا نے 34 سے 44 ویں اوور تک اپنے چار وکٹ گنواکر صرف 61 رن جوڑے تھے اور اس وقت تک ہندوستانی گیند بازوں اور فیلڈرو ں نے میچ کو مضبوطی سے اپنے حق میں رکھا تھا۔لیکن آخری وقت میں جہاں وراٹ نے ایک آسان کیچ ہاتھ میں آنے کے بعد اسے ٹپکایا تو وہیں چند گیندبازوں کے آخری وقت میں لینتھ بولنگ نے کچھ مسئلہ کھڑا کیا۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment