Today: Wednesday, September, 26, 2018 Last Update: 09:52 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

ہند۔ ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز میں برتری کی جنگ آج

 

اچھال بھری پچ پر ویسٹ انڈیز کے خلاف جیت کا تسلسل جاری رکھنا چاہے گی ٹیم انڈیا،امت مشرا کی جگہ ایشانت کی ہوسکتی ہے واپسی ، چائنا مین کو کرنا پڑیگا مزید انتظار، کوہلی کی فارم میں واپسی خوش آئند

دھرم شالہ ،16 اکتوبر (یو این آئی) خراب شروعات کے بعد تال میں واپس آئی ہندوستانی کرکٹ ٹیم جب جمعہ کو یہاں خوبصورت وادیوں سے گھرے اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کا چوتھا ون ڈے کھیلنے اترے گی تو اس کے پاس جیت کے ساتھ سیریز میں مضبوط برتری بنانے کا موقع ہوگا ۔ پانچ میچوں کی سیریز کا تیسرا ون ڈے منسوخ ہونے کی وجہ سے سیریز اب چار میچوں کی ہو چکی ہے جس میں دونوں ٹیمیں 1۔1 کی برابری پر ہیں۔ ایسے میں ہندستان کے لیے فتح کے ساتھ سیریز میں سبقت بنانا ضروری ہے۔ اکشرپٹیل کے نئے چہرے کے علاوہ کپتان مہندر سنگھ دھونی کی قیادت والی ٹیم انڈیا بغیر کسی تبدیلی کے اتر رہی ہے اور گزشتہ میچوں کی کوتاہی اور طاقت سے وہ اچھی طرح واقف ہے۔ اس لئے ہماچل پردیش کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹیم سے اور بہتر مظاہرہ کی امید کی جا سکتی ہے۔ ہندستان نے دہلی کے کوٹلہ میدان پر سیریز کا دوسرا میچ مہمان ٹیم سے 48 رنز سے جیت کر سیریز میں برابری کی تھی۔ لیکن اس جیت کے لیے گیند بازوں کو ہی کریڈٹ دیا جانا چاہیے کیونکہ میچ میں بلے بازوں کا مظاہرہ تسلی بخش نہیں رہا۔ اوپنر روہت شرما کی غیر موجودگی میں اجن یا رہانے اور شکھر دھون کی جوڑی نے اپنی کارکردگی سے مایوس کیا۔ لیکن اس میچ میں ایک مثبت اشارہ نائب کپتان وراٹ کوہلی کی بلے بازی میں واپسی رہی جنہوں نے گزشتہ طویل عرصے کی خراب فارم اور تنقید کے درمیان 62 رنز کی بہترین اننگز کھیلی ۔مڈل آرڈر کے بلے باز وراٹ جیسے باصلاحیت کھلاڑی سے ایک بار پھر اسی طرح کے مظاہرے کی امید ہوگی۔ آئی سی سی ورلڈ کپ 2015 میں ویسے بھی کافی وقت نہیں بچا ہے اور وراٹ کے لئے اس سے پہلے ویسٹ انڈیز کے خلاف موجودہ سریز کسی ٹیسٹ سے کم نہیں ہے۔بلے بازی کی بات کریں تو پہلے ون ڈے میں تو ہندستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے 321 کے بڑے اسکور کے سامنے صرف 197 کے اسکور پر لڑھ گئی تھی۔ اس میچ میں وراٹ نے صرف 02 رن اور سریش رینا صفر پر آؤٹ گئے تھے۔ حالانکہ آل راؤنڈر رینا ٹیم کے بہترین کھلاڑی ہیں اور دوسرے میچ میں انہوں نے 62 رنز کی اننگز کھیلی۔ لیکن رینا، دھون، رہانے اور وراٹ جیسے ٹیم کے اہم بلے بازوں کو اب اپنے مظاہرے میں تسلسل لانے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ دو میچوں میں دھونی نے 3450 کے اوسط سے 69 رنز بنائے ہیں تو اوپنر رہانے نے 18 کے اوسط سے 36 اور امباتی رایڈو نے 32 رن ہی بنائے ہیں۔ ویسٹ انڈیز جیسی مضبوط ٹیم کے سامنے بلے بازوں کو جیت درج کرنے کے لئے بورڈ پر بڑا اسکور بنانا ہوگا تاکہ گیند بازوں کے لئے اس کا دفاع کرنا ناممکن نہ ہو۔ دوسرے ونڈے میں ناٹ آؤٹ 51 رن کی اہم اننگز کھیلنے والے کپتان دھونی کے لیے اگرچہ دھرم شالہ میں الگ حکمت عملی کے ساتھ اترنا ضروری ہو گا۔ اس میدان پر 2013 میں ون ڈے منعقد کیا گیا تھا جبکہ اس کے علاوہ صرف آئی پی ایل کے میچ کھیلے گئے ہیں۔ اس لئے دونوں ٹیموں کے لیے یہ میدان کافی مختلف ہو گا۔ وادیوں سے گھرے ہونے کی وجہ اسٹیڈیم میں ا وس کا بھی اہم کردار ہو گا۔ سیریز کے برابری پر ہونے کی وجہ سے دھونی کے لیے تجربہ کار کھلاڑیوں پر بھروسہ کرنا غلطی بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔قریب 4780 فٹ کی اونچائی پر بنے اسٹیڈیم میں درجہ حرارت سرد ہو گا اور اس سے تیز گیند بازوں کو یہاں کافی فائدہ مل سکتا ہے۔گزشتہ میچوں میں اپنے کھیل سے متاثر کرنے والے اور ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کرنے والے فاسٹ بولر محمد شمی ،امیش یادو اور بھونیشور کمار اس لحاظ سے چوتھے ون ڈے میں اہم ثابت ہوں گے۔ شمی نے 1275 کے اوسط اور 551 کے ا ونومی ریٹ سے سب سے زیادہ آٹھ وکٹ لئے ہیں۔ انہوں نے دونوں میچوں میں اپنے کھیل میں تسلسل دکھایاہے اور تیز گیند بازوں کے لیے اہم اس میدان پر دھونی کو ان سے ایک بار پھر کمال کی امید ہوگی۔ اگرچہ بہترین کھیل سے ٹیم انڈیا میں اپنی جگہ پکی کرنے والے نوجوان تیز گیند باز بھونیشور فی الحال کچھ آؤٹ آف فارم چل رہے ہیں اور انہوں نے اب تک ایک بھی وکٹ نہیں لیا ہے۔ اس اسٹیڈیم کے کیوریٹر سنیل چوہان نے کہا ہے کہ انہوں نے یہاں تیز پچ تیار کی ہے اور یہاں گیند میں سوئنگ ہوگی۔ اگر بارش ہو جاتی ہے تو تیز گیند بازوں کو گیند سے اور سوئنگ مل سکتی ہے۔ اس لئے امید کی جاسکتی ہے کہ میرٹھ کے بھووی واپسی کر کے ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں کا امتحان لیں گے۔ اس کے علاوہ اسپنر امت مشرا، آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ، پارٹ ٹائمر گیندباز رائنا اور امیش یادو پر بھی مخالف ٹیم کو رن بنانے سے روکنے کے لیے ذمہ داری ہوگی۔ حریف ٹیم ویسٹ انڈیز کے پاس مارلون سیمؤیلس، ڈیون اسمتھ، دنیش رام دین اورکیرون پولارڈ کے طور پر کافی اچھے بلے باز ہیں۔ سیریز میں سب سے زیادہ رن بنانے والے سیمؤیلس(126) ایک بار پھر بڑی اننگز کھیل سکتے ہیں۔ اگرچہ ٹیم کی ادائیگی کو لے کر چل رہا اپنے کرکٹ بورڈ سے تنازعہ کہیں نہ کہیں ذہنی دباؤ ڈال کر مظاہرے کو متاثر کر سکتا ہے۔ لیکن کیریبین کھلاڑی کافی مضبوط ہیں اور ان کی پوری کوشش رہے گی کہ وہ چوتھا مقابلہ جیت کر ہندستان کو دباؤ میں لا دیں۔ دونوں ٹیمیں اس وقت برابری پر ہیں اور اس لئے دباؤ دونوں پر ہی ہوگا۔ ویسٹ انڈیز کے پاس روی رامپال، سیمؤیلس، جیروم ٹیلر، ڈیون براوو اور آل راؤنڈر ڈیرن سیمی کے طور پر اچھے گیندباز بھی موجود ہیں جو پہلے ون ڈے کی طرح ہندستان کو کم اسکور پر روک سکتے ہیں۔

...


Advertisment

Advertisment