Today: Thursday, November, 15, 2018 Last Update: 03:55 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

فائنل کے ٹکٹ کیلئے کنگاروں سے آج ٹکرائیں گے ہندوستانی شیر

 

امیدوں پر کھری اترے گی آسٹریلوی ٹیم:کلارک
سڈنی میں تاریخ بدلنے اترے گی ٹیم انڈیا
سڈنی، 25 مارچ (یو این آئی) تین ماہ پہلے کی ٹیم انڈیا جس نے آسٹریلوی زمین پر ٹیسٹ اور سہ رخی سیریز میں جیت نہیں دیکھی اور اب کی ٹیم انڈیا جس نے عالمی کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں اپنے سامنے کسی کو جیت نہیں دیکھنے دی،وہ ٹیم اب اسی اعتماد، زبردست فارم اور جارحیت کے ساتھ عالمی کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں جمعرات کو سڈنی کے گراؤنڈ میں مشترکہ میزبان کو ہار کا مزہ چکھانے کے ارادے سے اترے گی۔ ہندستانی ٹیم کا سامنا اسی آسٹریلیائی ٹیم سے ہے جس کے خلاف گزشتہ سیریز میں اسے بے حد مایوس کن نتائج دیکھنا پڑے تھے ۔ اس وقت تک کسی کو شاید ہی یہ یقین رہا ہو کہ عالمی کپ کے آتے ہی کپتان مہندر سنگھ دھونی کے کھلاڑی اس قدر 'چارج' ہو جائیں گے کہ انہیں ہرانا کسی بھی ٹیم کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔ ہندستان نے عالمی کپ میں گروپ مرحلے سے لے کر کوارٹرفائنل تک اپنے ساتوں میچ نہ صرف جیتے ہیں بلکہ ہر حریف ٹیم کو آل آؤٹ کرکے تمام 70 وکٹ لینے کا عالمی ریکارڈ بھی بنایا ہے ۔ بلے باز، گیند باز اور ساتھ ہی اس کا فیلڈنگ شعبہ اس وقت کمال کا ہے ۔لیکن دوسری طرف میزبان آسٹریلیا اس بات کو لے کر حوصلہ افزاہے کہ ٹیم انڈیا نے ٹیسٹ سیریز میں اس کے ہاتھوں 0۔2 اور پھر سہ رخی سیریز میں 0۔3 سے کراری شکست کھائی ہے اور اپنی زمین پر اس نے ہندوستان کو ایک بھی میچ جیتنے نہیں دیا ہے ۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ گھریلو میدان کا آسٹریلیا کو جہاں فائدہ ملے گا وہیں گزشتہ ریکارڈ کو نفسیاتی دباؤ کے طورپربھی وہ ہندوستان پر بنا سکتا ہے ۔لیکن موجودہ ہندستانی ٹیم ایک نئے ہی انداز میں نظر آ رہی ہے جہاں اس کے تیز گیند بازوں کی تکڑی محمد شمی، امیش یادو اور موہت شرما نے گزشتہ 70 میں سے 42 وکٹ لے کر دیگرٹیموں کے حوصلے پست کر دیے ہیں تو وہیں بلے باز شکھر دھون، روہت شرما، سریش رینا، اجنکیا رہانے ، وراٹ کوہلی اور مہندر سنگھ دھونی بھی رن بنانے میں پیچھے نہیں ہیں۔ہندستان اور آسٹریلیا کے سیمی فائنل مقابلے کو کرکٹ پنڈت فی الحال 50۔50 مان رہے ہیں لیکن ٹیم انڈیا کے اب تک ٹورنامنٹ میں آل راؤنڈ کارکردگی سے یقیناًوہ جیت کی دعویدار ہے ۔ تیز گیند بازوں میں شمي (17 وکٹ)، امیش (14) اور موہت (11) وکٹ لے چکے ہیں جبکہ آف اسپنر روی چندرن اشون نے سات میچوں میں 12 وکٹ لئے ہیں۔پچھلی سیریز میں آؤٹ آف فارم دکھائی دے رہے اوپننگ بلے باز دھون بھی فارم میں ہیں اور انہوں نے اب تک ہندستان کی جانب سے سب سے زیادہ 367 رن بنائے ہیں جبکہ وراٹ (304) اور روہت (296) رنز بنا چکے ہیں۔آل راؤنڈر سریش رینا نے گزشتہ کچھ میچوں میں کمال کا مظاہرہ کیا ہے اور ایک سنچری سمیت 277 رن بنائے ہیں۔رن بنانے اور میچ کو منزل تک پہنچانے میں دھونی کا بھی تعاون رہا ہے اور انہوں نے اہم موقعوں پر رن بنا کر میچ جتایا ہے ۔سڈنی کی پچ کو دیکھیں تو میچ میں اس کا اہم کردار مانا جا رہا ہے اور ایسے میں اگر توقع کے مطابق یہ پچ سست رہی تو اسپنروں کے لیے مددگار اس پچ پر آف اسپنر اشون کی اہم ذمہ داری رہے گی اور ہندستان کے لیے یہ فائدہ مند ہو گا۔اس کے برعکس آسٹریلوی ٹیم کے پاس کوئی اچھا اسپنر موجود نہیں ہے جو میچ میں ان کے لیے گلے کی ہڈی بن سکے ۔اگرچہ ہندستان کی طرح ابھی تک گھریلو ٹیم آسٹریلیا بھی اپنے تیز گیند بازوں پر ہی انحصار کر رہی ہے ۔مشیل جانسن، جوش ہیزل وڈ اور مشیل اسٹارک کے طور پر آسٹریلوی اٹیک اس کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جا رہا ہے ۔اسٹارک ہندستانی فاسٹ بولر شمي کے (17 وکٹ) سے آگے ہیں اور وہ چھ میچوں میں 18 وکٹ لے کر ٹیم کے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے بولر ہیں جبکہ ٹیم کے سب سے مہلک تیز گیند باز مانے جانے والے جانسن نے اب تک صرف 10 وکٹ ہی نکالے ہیں اور وہ توقع کے مطابق کامیاب نہیں رہے ہیں۔آسٹریلیا کے بلے بازی آرڈر میں بھی کچھ خامی ضرور نظر آتی ہے ۔کپتان مائیکل کلارک نے اب تک پانچ میچوں میں صرف 135 رنز ہی بنائے ہیں جبکہ بریڈ ہیڈن نے صرف 119 اور شین واٹسن نے پانچ میچوں میں 178 رنز ہی بنائے ہیں ۔ہندستان اور آسٹریلیا عالمی کپ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ کامیاب ٹیموں میں سے رہی ہیں جس میں دونوں کل نو بار سیمی فائنل میں پہنچ چکی ہیں۔ آسٹریلیا نے اس میں سے چار بار سال 1987، 1999، 2003 اور 2007 جبکہ ہندوستان نے 1983 اور 2011 میں ورلڈ کپ خطاب اپنے نام کئے ۔سوال یہی ہے کہ اب کی بار فائنل کا ٹکٹ کسے ملے گا جو خطاب کیلئے نیوزي لینڈ سے کھیلے گا۔ہندوستان نے چار سال پہلے 28 سالوں کے طویل وقفے کے بعد دھونی کی ہی کپتانی میں خطاب پر قبضہ کیا تھا اور اب ایک بار پھر دھونی اپنے بلے بازکھلاڑیوں کے ساتھ اس خطاب کے دفاع میں اترے ہیں۔دنیا کی نمبر ایک ٹیم آسٹریلیا اور نمبر دو ٹیم ہندستان کے درمیان مقابلہ یقیناًسخت ہوگا۔آسٹریلوی ٹیم ابھی سے ہندوستان کو پچھلے نتائج نہ بھولنے کا مشورہ دے رہی ہے لیکن وہیں کپتان دھونی کا خیال ہے کہ انہیں گزشتہ ریکارڈ یا اعداد و شمار سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ۔اگرچہ ہندوستان پر دباؤ ضرور ہوگا جس نے گھریلو ٹیم کے خلاف اس کی زمین پر اب تک کوئی میچ نہیں جیتا ہے ۔ٹیم انڈیا اگرچہ اچھی فارم میں ہے لیکن اس کے بلے بازوں کی شارٹ پچ گیندوں کو کھیلنے کی پریشانی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔نیٹ پریکٹس کے دوران رینا سے لے کر دیگر بلے بازوں کو خاص طور پر شارٹ پچ گیندوں کا سامنا کرنے کے لیے تیاری اس بات کی تصدیق کرتی ہے تو آسٹریلیا پہلے ہی اسے اپنا ہتھیار مان کر بیٹھا ہے اور میچ میں شارٹ پچ گیندوں سے ٹیم انڈیا کا استقبال کرنے کے لئے تیار ہے ۔لیکن ہندوستانی گیند باز بھی آسٹریلوی بلے بازوں کی کمزوریوں کو پہچانتے ہیں اور اچھی بات یہ ہے کہ تین ماہ کا طویل دورہ اب ہندستان کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے کھلاڑی آسٹریلیا کی پچوں اور ان کے مزاج کو اچھی طرح سے سمجھ چکے ہیں۔میزبان کا بلے بازی آرڈر بہت مضبوط نہ ہو لیکن گلین میکسویل (301) نے سب سے زیادہ رنز بنائے جبکہ ڈیوڈ وارنر اور کپتان اسٹیون اسمتھ بڑا اسکور بنانے میں ہمیشہ کامیاب ثابت ہوتے ہیں۔سڈنی کرکٹ گراؤنڈ پر آسٹریلیا کا جیت کا اچھا ریکارڈ رہا ہے اور اس نے ہندستان کے خلاف اس میدان پر 13 ون ڈے میچوں میں سات سال پہلے صرف ایک میچ ہی ہارا جبکہ تین سالوں میں بھی اس نے کسی دوسرے ٹیم سے سڈنی میں کوئی میچ نہیں گنوایا ہے ۔گھریلو ٹیم کے لیے یہ ریکارڈ جوش بڑھانے والے ہو سکتے ہیں لیکن یہ عالمی کپ ہے اور اس میں دباؤ پر قابوکرنے والی ٹیم کو ہی جیت ملے گی۔آسٹریلیا پر گھر میں کھیلنے اور جیتنے کا جہاں دباؤ رہے گا وہیں غیر ملک میں بھی مل رہی بے پناہ حمایت سے ٹیم انڈیا کے حوصلے بلند ہیں۔ آسٹریلوی ٹیم میں ہیزل وڈ کی جگہ پیٹ کمنس کو لیے جانے کا امکان ہے جبکہ دھونی بغیر تبدیلی کے آخری الیون کو اتاریں گے ۔
دوسری جانب اپنا خطاب بچانے سے دو قدم دور مہندر سنگھ دھونی کی ٹیم انڈیا جب جمعرات کو میزبان آسٹریلیا کے خلاف عالمی کپ کے سیمی فائنل میں اترے گی تو اس کے سامنے جیت کے لیے سڈنی کی تاریخ تبدیل کرنے کا سخت چیلنج ہوگا۔سڈنی وہ میدان ہے جہاں آسٹریلیا کا دبدبہ چلتا ہے اور اس میدان پر آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے 13میچوں میں ہندستان نے صرف ایک میچ جیتا ہے ۔ہندوستان کو یہ جیت 2008میں سہ رخی سیریز کے پہلے فائنل میں ملی تھی۔ہندستان کا سڈنی میں یہ ریکارڈ کسی مقام پر سب سے زیادہ خراب ریکارڈ ہے جہاں دونوں ٹیموں نے دو سے زیادہ ون ڈے کھیلے ہیں۔ہندستان کا آسٹریلیا کی زمین پر آسٹریلیا کے خلاف 10۔30کا جیت ہار کا ریکارڈ ہے ۔ہندوستان کو آسٹریلیا کے خلاف آسٹریلیا میں آخری فتح ایڈیلیڈ اوول میں 2012میں ملی تھی۔عالمی کپ کے سیمی فائنل اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو آسٹریلیا نے جو چھ سیمی فائنل کھیلے ہیں ان میں وہ ایک میں بھی نہیں ہارا ہے ۔واحد سیمی فائنل جو آسٹریلیا نہیں جیت پایا تھا وہ 1999 کے ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹائی رہا میچ تھا۔جہاں تک ہندوستان کی بات ہے تو اس نے پانچ سیمی فائنل کھیلے ہیں اور تین جیتے ہیں۔ہندستان نے 2003میں کینیا اور 2011میں پاکستان کو شکست دی تھی۔اس کے علاوہ 1983میں انگلینڈ کو بھی ہرا چکا ہے ۔عالمی کپ کے ناک آؤٹ دور میں ہندوستان کا آسٹریلیا کے خلاف 1۔1کا ریکارڈ ہے ۔ہندوستان 2003کے فائنل میں آسٹریلیا سے ہارا تھا جبکہ اس نے 2011کے کوارٹرفائنل میں آسٹریلیا کو شکست دی تھی۔سڈنی میں گزشتہ 10ون ڈے میں آسٹریلیا کا 8۔2کا زبردست ریکارڈ ہے ۔اسے یہ دونوں شکست سری لنکا سے ملی تھیں۔ ان 10 میچوں میں جنوبی افریقہ، ہندستان ، ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کی ٹیمیں آسٹریلیا سے ہار چکی ہیں۔
دریں اثناء آسٹریلیا کے کپتان مائیکل کلارک نے کہا ہے کہ انہیں پورا بھروسہ ہے کہ دفاعی چمپئن ہندوستان کے خلاف جمعرات کو ہونے والے سیمی فائنل میچ میں ان کی ٹیم اپنے ملک کے کرکٹ کے شائقین کی امیدوں پر کھری اترے گی۔کلارک نے کہا کہ آسٹریلیا دنیا کی نمبر ایک ٹیم ہے اس لئے ظاہر طور پر ہم سے امیدیں وابستہ ہیں اور ہمیں سیمی فائنل میں اس پر کھرا اترنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ہمیں پتہ ہے کہ دباؤ میں کیسی کارکردگی کرنا ہے اور پاکستان کے خلاف کوارٹرفائنل مقابلے میں ٹیم کے کھلاڑیوں نے اس کی شاندار مثال بھی پیش کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی ٹیم میں ایک طرف تو میرے علاوہ شین واٹسن اور مچل جانسن جیسے کھلاڑی ہیں جنہیں عالمی کپ میں کھیلنے اور چیمپئن بننے کا تجربہ ہے وہیں دوسری طرف جوش سے بھرے ہوئے بالکل نڈر نوجوان کھلاڑی ہیں جن میں غضب کی صلاحیت ہے ۔ہماری ٹیم انتہائی متوازن ہے اس لئے ہم سیمی فائنل مقابلے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں۔کلارک نے کہا کہ اس مقابلے کو ہم ایک عام میچ کی ہی طرح لے رہے ہیں۔زیادہ سے زیادہ وکٹ لینا اور زیادہ سے زیادہ رن بنانا ہی ہماری اہم حکمت عملی ہوگی۔گزشتہ کچھ وقت سے ہم اپنی تیاری میں تسلسل کے ساتھ ہی کارکردگی کو بہتر کر رہے ہیں اور یہی ہمارے لئے جیت کی نمایاں خصوصیت ہے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment