Today: Tuesday, November, 13, 2018 Last Update: 10:54 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

جنوبی افریقہ کا خواب چکنا چور ،نیوزی لینڈ پہلی بارعالمی کپ کے فائنل میں

 

ہار کے اثرات سے باہر نکلنے میں لگے گا وقت:ڈیولیرس

اس میچ کو سب زندگی بھر یاد رکھیں گے :میک کولم

آکلینڈ، 24 مارچ (یو این آئی) تاریخ میں سنہری حروف میں اپنا نام درج کرانے کیلئے سانسوں کو روک دینے والی دلچسپ جنگ میں مشترکہ میزبان نیوزی لینڈ انتہائی ڈرامائی انداز میں جنوبی افریقہ کو آخر چوکرس ثابت کرتے ہوئے محض ایک گیند باقی رہتے ڈک ورتھ لوئیس ضابطے کے تحت منگل کو چار وکٹ سے فتح حاصل کر کے پہلی بار عالمی کپ کے فائنل میں داخل ہوگیا۔جنوبی افریقہ نے بارش سے متاثرہ میچ میں 43 اوور میں پانچ وکٹ پر 281 رن بنائے ۔ نیوزی لینڈ کو جیت کیلئے 43 اوور میں 298 رن کا نظر ثانی ہدف ملا اور اس نے 42.5 اوور میں چھ وکٹ پر 299 رن بنا کر جیت حاصل کر لی۔گرانٹ ایلیٹ (ناٹ آؤٹ 84) نے جیسے ہی ڈیل اسٹین کے آخري اوور کی پانچویں گیند پر لانگ آن کے اوپر سے چھکا مارا نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم اور حامی خوشی سے جھوم اٹھے اور اسٹیڈیم میں جشن کا ماحول ہو گیا۔ نیوزی لینڈ کا فائنل میں ہندستان اور آسٹریلیا کے درمیان جمعرات کو ہونے والے سیمی فائنل کے فاتح سے 29 مارچ کومیلبورن میں مقابلہ ہوگا۔نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ اس سیمی فائنل میں تاریخ میں نام درج کرانے کے ارادے سے اترے تھے کیونکہ دونوں ہی ٹیمیں اب تک ایک بار بھی عالمی کپ فائنل میں نہیں پہنچ سکی تھیں۔ نیوزی لینڈ نے آخر چھ بار سیمی فائنل میں ہارنے کے تعطل سے نجات حاصل کرتے ہوئے ون ڈے تاریخ کا سب سے بڑا خواب پورا کر لیا۔موجودہ ٹورنامنٹ کا یہ اب تک کا سب سے بہترین مقابلہ تھا۔آخر جب میچ کا فیصلہ ہوا تو نیوزی لینڈ کے خیمے میں جشن کا ماحول ہو گیا جبکہ جنوبی افریقہ کے کھلاڑی ایک بار پھر مایوس ہو کر میدان میں گر گئے ۔ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ یقین نہیں کر پا رہے تھے کہ ایک بار پھر ان کے ہاتھ سے بازی نکل گئی ۔آخری اوور ڈالنے والے اسٹین ساکت تھے کہ ان کی تیسری گیند پر لگے چوکے اور پانچویں گیند پر لگے چھکے نے جنوبی افریقہ کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔اس میچ میں نیوزی لینڈ کو جیت دلانے کا کریڈٹ کیوی بلے بازوں کے غضب کے جذبے کو جاتا ہے ۔ جنہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے کامیابی حاصل کی۔مین آف دی میچ اور فاتح چھکا مارنے والے ایلیٹ نے 73 گیندوں پر سات چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے ناٹ آؤٹ 84 رن بنائے ۔کپتان برینڈن میک کولم نے 26 گیندوں میں آٹھ چوکے اور چار چھکے اڑاتے ہوئے 59 رنز اور کوری اینڈرسن نے 57 گیندوں میں چھ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 58 رن بنائے ۔جنوبی افریقہ کی امیدوں پر ایک بار پھر بارش کی مار پڑی۔جنوبی افریقہ نے 38 اوور میں تین وکٹ پر 216 رن بنا لئے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ جنوبی افریقی ٹیم 350 تک جائے گی لیکن تبھی بارش آنے سے کھیل رک گیا۔کھیل جب شروع ہوا تو جنوبی افریقہ کو پانچ اوور اور کھیلنے کو ملے جس میں اس نے اپنے اسکور کو 281 تک پہنچایا۔ سال 1992 میں جنوبی افریقہ انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں فتح کے قریب تھا لیکن بارش کی وجہ سے اس وقت کھیل رکا تھا اور جب کھیل شروع ہوا تو اسے جیت کے لئے ایک گیند میں 22 رن بنانے کا ہدف ملا جو ممکن نہیں تھا۔اس طرح بارش نے 1992 کے 23 سال بعد 2015 میں ایک بار پھر جنوبی افریقہ کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔لیکن تعریف کرنی ہوگی کیوی کپتان میک کولم کی جنہوں نے جارحانہ انداز میں چوکے اور چھکے اڑاتے ہوئے چھ اوور میں ہی نیوزی لینڈ کا اسکور 71رنز پہنچا دیا۔میک کولم ساتویں اوور کی پہلی گیند پر آؤٹ ہوئے ۔اس کے بعد نیوزي لینڈ نے کین ولیم (6) کو 81، مارٹن گپٹل (34) کو 128 اور راس ٹیلر (30) کو 149 کے اسکور پر گنوا دیا۔لیکن اس کے بعد ایلیٹ اور اینڈرسن نے پانچویں وکٹ کیلئے 103رن کی زبردست شراکت کی۔اینڈرسن کا وکٹ 38 ویں اوور کی آخری گیند پر گرا۔اس وقت اسکور 252 رنز تھا۔لیوک روچي آٹھ رن بنا کر 269 کے اسکور پر پویلین لوٹ گئے ۔ میچ اب انتہائی دلچسپ ہو چلا تھا۔اسٹین نے 41 ویں اوور میں روچي کو آؤٹ کرنے کے ساتھ ہی صرف چھ رن دیئے ۔42 ویں اوور میں مورن مورکل کی پانچویں گیند پر چوکا پڑا جبکہ آخری گیند پر ایلیٹ کا کیچ جے پی ڈومنی اور بہار الدین کے ٹکرانے کی وجہ سے چھوٹ گیا۔یہ کیچ چھوٹنا تھا کہ میچ بھی جنوبی افریقہ کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ آخری اوور میں گیند اسٹین کے ہاتھوں میں تھی ۔ان کی تیسری گیند پر ڈینیل ویٹوري نے چوکا اور پانچویں گیند پر ایلیٹ کے چھکے کے ساتھ ہی ٹورنامنٹ کا سب سے زیادہ دلچسپ میچ انتہائی دلچسپ فننش کے ساتھ ختم ہو گیا۔یہ ایسا میچ تھا جس نے آخری گیند تک سب کی سانس تھام رکھی تھیں۔ نیوزی لینڈ نے 299 رنز بنا کر عالمی کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے سب سے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔مورن مورکل نے تین وکٹ لیے لیکن جنوبی افریقہ کو یہ ہار اگلے چار سال تک چوکرس کے طور پرپھر پریشان کرتی رہے گی۔اس سے قبل ابتداء میں خراب کارکردگی سے نجات حاصل کرتے ہوئے فاف ڈویلیس (82) اور کپتان سے بی ڈی ولیئرس (ناٹ آؤٹ 65 رن) کی بہترین نصف سنچریوں کی بدولت جنوبی افریقہ نے منگل کے روز یہاں عالمی کپ سیمی فائنل مقابلے میں نیوزی لینڈ کے خلاف بارش سے متاثرہ میچ میں ترمیم کے بعد 43 اوورز میں پانچ وکٹ پر 281 رن بنائے ۔جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ جنوبی افریقہ کا آغاز اچھا نہیں رہا اور اس کے دونوں سلامی بلے باز ہاشم آملہ (10) اور کوئنٹن ڈی کاک(14) جلد ہی آؤٹ ہوگئے ۔ اس وقت جنوبی افریقہ کا اسکور دو وکٹ پر 31 رن تھا۔ اس کے بعد فاف ڈویلیسس اور روسیو (39) نے میچ کو سنبھالا۔روسیو کوری اینڈرسن کی گیند پر مارٹن گپٹل کو کیچ دے بیٹھے ۔ اس کے بعد ڈویلیسس نے ڈی ویلیئرس کے ساتھ چوتھے وکٹ کے لئے 103 رنوں کی اہم شراکت داری کی۔ ڈی ولیئرس اور ڈویلیسس نے وکٹ پر جمنے کے بعد تیزی سے رن بنائے اور جنوبی افریقہ کو اطمینان بخش اسکور تک پہنچادیا۔ڈوپلیس نے 107 گیندوں پر سات چوکوں اور ایک چھکے کی مد د سے 82 رن کی اننگ کھیلی جبکہ کپتان ڈی ویلئیرس نے آخری اووروں میں جارحانہ انداز میں 45 گیندوں پر آٹھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے ناٹ آؤٹ 65 رن بنائے ۔ ملر نے 49 رن اور روسیو نے 39 رن بنائے۔جنوبی افریقہ جب 38 اوور میں 216 رن پر تھا تب بارش کی وجہ سے میچ روکنا پڑا اس کے بعد 50 اوور کے میچ کو 43 اوورکا کردیا گیا۔ دوبارہ میچ شروع ہوتے ہی اینڈرسن نے ڈوپلیس اور ڈی ویلیئرس کی شراکت داری توڑی۔ ڈوپلیس اینڈرسن کی گیند پر گپٹل کو کیچ دے بیٹھے ۔ڈوپلیس نے 82 رن کی اننگ کھیلی اور تیسرے وکٹ کیلئے روسیو کیساتھ 83 رن اور پھر چوتھے وکٹ کیلئے ڈی ولیئرس کے ساتھ 103 رن جوڑے ۔اس کے بعد میدان پر ملرنے اپنے کپتان کا اچھا ساتھ دیا۔ ملر نے 18 گیندوں کی اپنی جارحانہ اننگز میں 49 رن بنائے ۔ ملر کو اینڈرسن نے اپنا شکار بنایا۔نیوزی لینڈ کے گیند بازوں نے ابتدا میں دو وکٹ لیکرجنوبی افریقہ کو دباؤ میں ڈال دیا تھا۔ زبردست فارم میں چلنے والے ٹرینٹ بولٹ نے دونوں سلامی بلے بازوں کو آؤٹ کیا۔ اس کے ساتھ ہی بولٹ عالمی کپ میں 21 وکٹ لینے لے چکے ہیں جبکہ کسی بھی عالمی کپ میں نیوزی لینڈ کے گیندبازوں کے ذریعہ لئے گئے وکٹ کی سب سے زیادہ تعداد ہے ۔بولٹ نے جیوف ایلیٹ کا ریکارڈ توڑا جنہوں نے 1999کے عالمی کپ میں 20 وکٹ لئے تھے ۔ نیوزی لینڈ کی طرف سے سب سے زیادہ تین وکٹ اینڈرسن نے لئے ۔ انہوں نے چھ اووروں میں 72 رن دئیے ۔ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کے کسی بھی گیند باز کو کوئی کامیابی نہیں ملی۔
دوسری جانب عالمی کپ کی تاریخ میں پہلی بار فائنل میں جگہ بنانے والی نیوزی لینڈ کے کپتان برینڈن میک کولم نے منگل کو یہاں جنوبی افریقہ کے خلاف محض ایک گیند باقی رہتے جیت درج کرنے کے بعد کہا کہ یہ مقابلہ اتنا دلچسپ تھا کہ اسے دیکھنے والے زندگی بھر اسے بھول نہیں پائیں گے ۔کیوی ٹیم کے کپتان اور میچ میں صرف 26 گیندوں میں تابڑ توڑ 59 رن بنانے والے کولم نے میچ کے بعد کہا کہ واقعی یہ میچ کمال کا تھا۔جنوبی افریقہ نے ہمیں سخت چیلنج دیا۔ یہ میچ انتہائی دلچسپ تھا اور کرکٹ کے لیے اچھا ثابت ہو سکتا ہے ۔جو بھی اس میچ سے وابستہ ہوں گے اسے کبھی بھی نہیں بھول پائیں گے ۔میک کولم نے کہا کہ جب میدان پر اے بی ڈیولیرس تھے تو میں سوچ رہا تھا کہ بارش ہوتی رہے کیونکہ مخالف ٹیم کے دو سرکردہ بلے باز اس وقت میدان پر کھڑے تھے ۔لیکن ہم نے جس طرح سے گیند بازی اور فیلڈنگ کی وہ کمال تھا۔اس کے بعد ہم نے بلے بازی بھی اچھی کی۔ہم آخر تک ٹکے رہنا چاہتے تھے ۔گرانٹ الیوٹ نے واقعی غیر معمولی اننگز کھیلی۔پہلی بار عالمی کپ ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچنے پر راحت محسوس کر رہے کپتان نے کہا کہ ہمیں میچ میں اچھا رن ریٹ بنانے کی ضرورت تھی اور ہم تیزی سے رن بنا کر اسی کی کوشش کر رہے تھے ۔جنوبی افریقہ کو بھی ہم کریڈٹ دینا چاہیں گے جنہوں نے میچ میں ہی نہیں پورے ٹورنامنٹ میں کمال کا مظاہرہ کیا۔ہماری زندگی کا یہ سب سے یادگار دن ہے ۔ہم نے اس تجربے کا پورا لطف اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس میچ میں گھریلو ناظرین سے جو حمایت ملی وہ قابل ستائش ہے ۔ہم جس طرح کی کرکٹ کھیل رہے ہیں امید ہے کہ اسی کا تصور حامیوں نے نہیں کیاہوگا۔ ہم جیت کر بہت خوش ہیں۔ ہمیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ فائنل میں ہمارے سامنے کون ہوگا۔ ہندستان یا آسٹریلیا دونوں ہی ٹیمیں مضبوط ہیں ۔ ہمیں نیوزی لینڈ کی نمائندگی کرکے فخر محسوس ہو رہا ہے ۔
وہیں عالمی کپ کے سیمی فائنل میں ایک بار پھر ہار کر باہر ہو جانے سے مایوس نظر جنوبی افریقہ کے کپتان اے بی ڈیولیرس نے منگل کو کہا کہ نیوزی لینڈ سے ملی ہار دل توڑنے والی ہے اور ان کی ٹیم کو اس شکست کے اثرات سے باہر نکلنے میں ابھی وقت لگے گا۔ڈیولیرس نے میچ کے بعد کہا کہ ہم نے اپنی بہترین کارکردگی پیش کی۔ ہمیں کوئی افسوس نہیں ہے ۔ہم سب کچھ میدان میں چھوڑ آئے ہیں لیکن پھر بھی دل کو چوٹ پہنچی ہے ۔اس ہار سے باہر آنے میں وقت لگے گا۔ہم اپنے لئے نہیں کھیل رہے تھے بلکہ اپنے لوگوں کیلئے کھیل رہے تھے ۔مجھے لگتا ہے کہ ہمارے پرستاروں کو ہم پر فخر ہوگا۔کپتان نے کہا کہ ہماری ٹیم میں کئی کھلاڑیوں نے بہترین کارکردگی کی۔ ہمارا کھیل اور کارکردگی خراب نہیں تھی لیکن آخر میں ہار تو ہار ہی ہوتی ہے ۔میں کسی کھلاڑی کی کارکردگی پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔یہ کرکٹ کا سب سے زیادہ دلچسپ مقابلہ تھا۔میں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنے پرجوش شائقین نہیں دیکھے ۔مجھے لگتا ہے کہ بہترین ٹیم فائنل میں پہنچی۔ہم نے بھی اپنا بہترین کھیل پیش کیا لیکن آخر میں ہمیں مایوس ہونا پڑا۔میں فائنل میں پہنچنے والی ٹیموں کو اپنی نیک خواہشات دیتا ہوں۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment