Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 12:37 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

تاریخ رقم کرنے کے ارادے سے اتریں گی نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ

 

بھول چکے ہیں 2011عالمی کپ کا تنازعہ :میک کولم
سیمی فائنل کیلئے تیار ہے ٹیم:ڈیولیرس
آکلینڈ، 23 مارچ (یو این آئی) مشترکہ میزبان نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ آکلینڈ میں عالمی کپ کے سیمی فائنل مقابلے کے لئے منگل کو جب میدان پر ایک دوسرے کے خلاف اتریں گے تو ان کا مقصد فائنل میں جگہ بنا کر تاریخ میں اپنا نام درج کرنے کا ہوگا۔نیوزي لینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان ہونے والے سیمی فائنل میں اس بار ایک ٹیم کے لئے تاریخ ضرور بنے گی۔ ان دونوں ٹیموں میں اب تک ایک بھی ٹیم خطابی مقابلے میں نہیں پہنچ پائی اور اس سیمی فائنل میں جو ٹیم جیتے گی اس کا فائنل میں پہنچنے کا خواب پورا ہو جائے گا۔نیوزی لینڈ کی ٹیم عالمی کپ میں اپنا ساتواں سیمی فائنل مقابلہ کھیلے گی جبکہ جنوبی افریقہ چوتھا کھیلے گی۔ لیکن دونوں ٹیموں کا عالمی کپ خطاب جیتنے کا خواب ابھی تک پورا نہیں ہو پایا ہے ۔نیوزی لینڈ کے پاس اس بار گھریلو حمایت کافی زیادہ ہے اور اس نے ٹورنامنٹ میں اب تک ساتوں مقابلے جیتے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں نیوزی لینڈ کی شاندار کارکردگی کو دیکھتے ہوئے سیمی فائنل میں اس کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے ۔نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ عالمی کپ میں اس سے پہلے چھ بار آمنے سامنے آچکی ہیں جس میں سے چار میچ نیوزی لینڈ نے جیتے جبکہ دو جنوبی افریقہ نے ۔جنوبی افریقہ کو گروپ مرحلے میں ہندوستان اور پاکستان کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم ناک آؤٹ کوارٹرفائنل مقابلے میں جنوبی افریقہ نے گزشتہ دو مرتبہ کے رنراپ سری لنکا کو 37.2 اوور میں 133 رن پر آؤٹ کرنے کے بعد 18 اوور میں ہی ایک وکٹ پر 134 رنز بنا کر فتح حاصل کر لی تھی۔2011 ورلڈ کپ کے کوارٹرفائنل میں نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقہ کو 49 رنز سے شکست دی تھی۔نیوزی لینڈ نے عالمی کپ کی بہترین میزبانی کی ہے اور وہ سیمی فائنل مقابلہ جیت کر اس ٹورنامنٹ کو یادگار بنانے کی پوری کوشش کرے گا۔نیوزي لینڈ کو نہ صرف زبردست گھریلو حمایت مل رہی ہے بلکہ اس کے میدان بھی کیوی کھلاڑیوں کو اس قدر راس آ رہے ہیں کہ کیوی کھلاڑیوں نے اپنی طوفانی کارکردگی سے خود کو جنوبی افریقہ کے خلاف ایڈوانٹیج کی پوزیشن میں پہنچا دیا ہے ۔اگرچہ کوارٹرفائنل کے یک طرفہ مقابلوں کے بجائے سیمی فائنل میں دھماکہ خیز مقابلہ ہونے کی توقع ہے ۔دونوں ٹیمیں پوری طاقت کے ساتھ میدان پر اتریں گی۔جنوبی افریقہ کے لئے اچھی بات یہ ہے کہ گزشتہ سال تین ون ڈے میچوں کی سیریز میں اس نے نیوزی لینڈ کو اس کے گھریلو میدان پر شکست دی تھی۔جنوبی افریقہ نے دو میچوں میں جیت درج کی تھی جبکہ تیسرا میچ بے نتیجہ رہا تھا۔نیوزي لینڈ۔جنوبی افریقہ سیمی فائنل میں نیوزي لینڈ کے مارٹن گپٹل اور کپتان برینڈن میک کولم اور جنوبی افریقہ کے ہاشم آملہ اور کپتان اے بی ڈیولیرس کا مقابلہ فائنل کی راہ طے کرے گا۔گپٹل نے کوارٹرفائنل مقابلے میں عالمی کپ تاریخ کی سب سے زیادہ 237 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔گیند بازی میں ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 19 وکٹ لینے والے نیوزی لینڈ کے ٹرینٹ بولٹ اور جنوبی افریقی طوفان ڈیل اسٹین کا مقابلہ فیصلہ کن ثابت ہوگا۔بولٹ کو عالمی کپ میں نیوزی لینڈ کی طرف سے سب سے زیادہ وکٹیں لینے کا ریکارڈ اپنے نام کرنے کے لئے صرف دو وکٹ درکار ہیں اور وہ سیمی فائنل مقابلے میں ایسا کرنا چاہیں گے ۔جیف ایلیوٹ نے سب سے زیادہ 21 وکٹ 1999 ورلڈ کپ میں لئے تھے ۔اسپن شعبے میں نیوزي لینڈ کے لیفٹ آرم اسپنر ڈینیل ویٹوری اور جنوبی افریقہ کے لیگ اسپنر عمران طاہر یکساں 15۔15 وکٹ لے چکے ہیں اور ان کی انگلیوں کا جادو اپنی اپنی ٹیموں کی فائنل کی راہ طے کرے گا۔اگرچہ تیز گیند باز ایڈم ملنے کے پیرمیں چوٹ کے سبب ورلڈ کپ سے باہر ہو جانے کی وجہ سے نیوزی لینڈ کی ٹیم کی تیاریوں کو جھٹکا لگا ہے ۔ایڈن پارک کی باؤنڈري چھوٹی اور وہاں کم اسکور بننے کا امکان ہے ۔یہاں کی پچ پیس اور اچھال کے لئے موزوں ہے ۔نیوزی لینڈ کے کپتان برینڈن میک کولم کو ہوا میں نمی کی وجہ سے یہاں کم سوئنگ ملنے کی امید ہے ۔آکلینڈ میں ہلکی بونداباندي کا امکان ہے ۔سیمی فائنل مقابلے کے لئے ممکنہ ٹیمیں اس طرح ہے :نیوزي لینڈ:مارٹن گپٹل، برینڈن میک کولم (کپتان)، کین ولیم، راس ٹیلر، گرانٹ ایلٹ، کوری اینڈرسن، لیوک روچي (وکٹ کیپر)، ڈینیل ویٹوری، ٹم ساؤدی، میٹ ھینري / کائل ملز اور ٹرینٹ بولٹ۔جنوبی افریقہ : ہاشم آملہ، کوئنٹن ڈی کاک (وکٹ کیپر)، فاف ڈو پلیسس، اے بی ڈیولیرس (کپتان)، ریلے روسوو، ڈیوڈ ملر، جے پی ڈومنی، ڈیل ا سٹین، ورنون فلینڈر / کائل ایبوٹ، مورنے مورکل اور عمران طاہر۔
دوسری جانب جنوبی افریقہ کے کپتان اے بی ڈیولیرس نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف منگل کو ہونے والے عالمی کپ کے سیمی فائنل مقابلے کے لئے ان کی ٹیم مکمل طور پر تیار ہے اور انہیں نہیں لگتا کہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت ہے ۔ڈیولیرس نے کہاکہ مجھے معلوم ہے کہ ٹیم کے کھلاڑی اس مقابلے کے لئے تیار ہیں ۔ٹیم بالکل صحیح وقت پر شاندار فارم میں آئی ہے اور دیکھنا ہوگا کہ میدان پر اترنے کے بعد ہم کیسا محسوس کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں نے گزشتہ چند سال ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ گزارے ہیں اور میں انہیں اچھی طرح سے سمجھتا ہوں۔کبھی کبھی اچھا مظاہرہ کرنے کے لئے کھلاڑیوں کو اکسانا بھی پڑتا ہے ۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ مکمل طور پر تیار ہیں اور انہیں زیادہ پرجوش کئے جانے کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ڈیولیرس نے کہاکہ لیگ مقابلوں میں ہندستان اور پاکستان سے ملی ہار سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور سیمی فائنل میں ہم ان غلطیوں سے بچنے کی کوشش کریں گے ۔
جنوبی افریقہ کے خلاف منگل کو ہونے والے عالمی کپ کے سیمی فائنل مقابلے سے پہلے نیوزی لینڈ کے کپتان برینڈن میک کولم نے سال 2011کے عالمی کپ کوارٹرفائنل میں دونوں ٹیموں کے درمیان تنازعہ کے دوھرائے نہ جانے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب ٹیمیں سمجھدار ہو گئی ہیں۔میک کولم نے کہا کہ چار سال پہلے ہمارا ان کے ساتھ تنازعہ ہوا تھا لیکن ہم اب وہ واقعہ بھول چکے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ ٹیمیں اب سمجھدار ہو گئیں ہیں اور کھیلنے کا طریقہ بھی کافی بدل چکا ہے ۔دیگر ٹیمیں ایسے تنازعہ کو اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہوں گی لیکن ہم اس سے بچتے ہوئے اپنے فطری کھیل کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقی ٹیم کے کھلاڑیوں کے درمیان ڈھاکہ میں سال 2011کے عالمی کپ کوارٹرفائنل مقابلے کے دوران آپس میں جھڑپ ہو گئی تھی جس کے بعد نیوزی لینڈ نے یہ میچ 49 رنز سے جیت لیا تھا۔عالمی کپ میں اپنے ساتوں میچ جیت کر ابھی تک غیر مفتوح رہی نیوزی لینڈ اور چوکرس کے نام سے مشہور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں کسی بھی حال میں سیمي فائنل مقابلہ جیت کر کرکٹ ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار فائنل میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے پورے دم خم کا مظاہرہ کریں گی۔ عالمی کپ میں دونوں ٹیموں کے درمیان چھ میچ ہوئے ہیں جن میں سے چار نیوزی لینڈ تو دو مقابلے جنوبی افریقہ کے کھاتے میں گئے ہیں۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment