Today: Monday, November, 19, 2018 Last Update: 10:47 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

مین آف دی ٹورنامنٹ کی دوڑ ہوئی تیز


نئی دہلی، 21 مارچ (یو این آئی) عالمی کپ کا کوارٹرفائنل مرحلہ مکمل ہو جانے کے بعد مین آف دی ٹورنامنٹ کی دوڑ تیز ہو گئی ہے اور اس کی دعویداری میں کئی کھلاڑی شامل ہیں۔عالمی کپ میں ویلنگٹن میں نیوزی لینڈ کی ویسٹ انڈیز کے خلاف شاندار جیت کے ساتھ کوارٹرفائنل کا دور ہفتہ کو مکمل ہو گیا ۔ مشترکہ میزبان آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اور دفاعی چمپئن ہندستان اور جنوبی افریقہ سیمی فائنل میں پہنچ گئے ہیں جہاں ہندستان کا مقابلہ آسٹریلیا سے 26مارچ کو سڈنی میں اور نیوزی لینڈ کا مقابلہ جنوبی افریقہ سے آکلینڈ میں 24مارچ کو ہوگا۔ٹورنامنٹ میں سیمی فائنل میں پہنچنے والی ٹیموں کے کئی کھلاڑی مین آف دی ٹورنامنٹ کی دوڑ میں شامل ہیں ۔ سال 2011میں ہوئے گزشتہ عالمی کپ میں چمپئن ہندستان کے آل راؤنڈر یوراج سنگھ اپنے آل راؤنڈ کھیل کی بدولت مین آف دی ٹورنامنٹ بنے تھے ۔انہوں نے نو میچوں میں 362رنز بنانے کے علاوہ 15 وکٹ بھی حاصل کئے تھے ۔موجودہ عالمی کپ میں مین آف دی ٹورنامنٹ کے دعویداروں میں نیوزی لینڈ کے ڈبل سنچری بنانے والے مارٹن گپٹل اور فاسٹ بولر ٹرینٹ بولٹ، جنوبی افریقہ کے کپتان اے بی ڈیولیرس، آسٹریلیا کے بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز مشیل اسٹارک، ہندستان کے شکھر دھون اور محمد شمي اور کپتان مہندر سنگھ دھونی اس خطاب کے دعویداروں میں شامل ہیں۔سری لنکا کے کمار سنگاکارا نے مسلسل چار سنچریوں کا عالمی ریکارڈ بنانے سمیت سات میچوں میں 108.20 کے اوسط سے اب تک سب سے زیادہ 541 رنز بنائے لیکن ان کی ٹیم کوارٹرفائنل میں ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکی ہے ۔گپٹل نے ویسٹ انڈیز کے خلاف کوارٹرفائنل میں ناٹ آؤٹ 237رنز کی ریکارڈ اننگز کھیلی ہے اور وہ 83.00 کے اوسط سے 498 رنز بنا کر سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے بازوں میں دوسرے نمبر پر ہیں ۔ زمبابوے کے برینڈن ٹیلر (433) اس میں تیسرے نمبر پر ہیں۔اے بی ڈیولیرس سات میچوں میں 417 رنز کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں جبکہ ہندستان کے شکھر دھون سات میچوں میں 367 رنز کے ساتھ چھٹے اور وراٹ کوہلی 304 رنز کے ساتھ 13 ویں نمبر پر ہیں ۔ سیمی فائنل میں ایک بھی اچھی اننگز ان دونوں بلے بازوں کو اس ایوارڈ کی دوڑ میں آگے پہنچا دے گی۔ہندستانی کپتان مہندر سنگھ دھونی نے اگرچہ سات میچوں میں 172 رنز بنائے ہیں لیکن وکٹ کے پیچھے 15 شکار کر کے وکٹ کیپنگ کے معاملے میں وہ سب سے آگے ہیں۔دو اور کامیاب قدم کپتان دھونی کو اس ایوارڈ کی دوڑ میں چوٹی پر پہنچا سکتے ہیں۔نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر ٹرینٹ بولٹ سات میچوں میں 19 وکٹ لے کر سب سے آگے چل رہے ہیں۔ آسٹریلیا کے اسٹارک 18 وکٹ کے ساتھ دوسرے اور ہندستان کے شمي 17 وکٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ نیوزی لینڈ کے لیفٹ آرم اسپنر ڈینیل ویٹوری اور جنوبی افریقہ کے لیگ اسپنر عمران طاہر بھی 15۔15 وکٹ لے چکے ہیں۔سیمی فائنل میں پہنچنے والی چاروں ٹیموں کے کھلاڑیوں کی میچ فاتح کارکردگی انہیں مین آف دی ٹورنامنٹ کا انعام کی دوڑ میں اہم دعویدار بنا دے گی۔ جو دو ٹیمیں فائنل میں پہنچیں گی ان کھلاڑیوں کے پاس اس ایوارڈ کو حاصل کرنے کا سب سے زیادہ موقع رہے گا۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment