Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 05:27 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان دلچسپ مقابلے کا امکان


سیمی فائنل میں رسائی حاصل کرنے کیلئے دونوں ٹیموں نے کسی کمر،عالمی کپ کے اعدادوشمار میں پاکستان کا پلڑا بھاری

ایڈیلیڈ، 19 مارچ (یو این آئی) عالمی کپ کی مشترکہ میزبانی آسٹریلیا کوارٹرفائنل مقابلے میں جمعہ کو جب ایڈیلیڈ میں اترے گا تو اس کا مقصد گھریلو حالات کا فائدہ اٹھا کر پاکستان کو ناک آؤٹ کرنے کا ہوگا جبکہ پاکستان کے پاس 1999 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں ملی شکست کا بدلہ لینے کا مکمل موقع ہوگا۔آسٹریلیا نے ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچ میں انگلینڈ کو شکست دے کر اپنی مہم کی اچھی شروعات کی تھی لیکن اسے روایتی حریف نیوزي لینڈ سے سخت جدوجہد میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔وہیں پاکستان نے گروپ مرحلے میں ہندستان اور ویسٹ انڈیز سے ملی کراری شکست کے بعد شاندار واپسی کرتے ہوئے مسلسل چار میچ جیت کر اپنے ارادے واضح کر دیے ۔گھریلو میدان پر کھیلنے کی وجہ سے آسٹریلیا اس میچ کو جیتنے کی دعویدار ہے لیکن اسے پاکستان سے سخت ٹکر ملنے کا امکان ہے ۔عالمی کپ کے اعداد و شمار بھی تھوڑے پاکستان کے حق میں ہیں ۔ آسٹریلیا اور پاکستان کا عالمی کپ میں سات بار آمنا سامنا ہو چکا ہے جس میں سے چار میں پاکستان نے جیت درج کی جبکہ تین میں آسٹریلیا نے ۔آخری بار 2011 کے ورلڈ کپ میں پاکستان نے آسٹریلیا پر چار وکٹ سے جیت درج کی تھی۔آسٹریلیا نے آخری بار تین میچوں کی ون ڈے سیریز میں متحدہ عرب امارات میں پاکستان کو ہرا دیا تھا لیکن یہاں آسٹریلیا پاکستان کو کم سمجھنے کی بھول نہیں کرے گی۔پاکستان اور آسٹریلیا کے لئے ایک دوسرے کو ہرانا آسان نہیں ہوگا۔آسٹریلوی آل راؤنڈر شین واٹسن کا خیال ہے کہ پاکستان کو ہرانا ایک چیلنج ہے ۔واٹسن نے کھاپنے دن پر وہ حیرت انگیز کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک خطرناک ٹیم ہے خصوصا ایک ناک آؤٹ جیسے میچ میں ۔کارکردگی کی بنیاد پر آسٹریلیا اس ٹورنامنٹ میں اب تک سب سے اچھی ٹیموں میں سے ایک ہے ۔ آسٹریلوی کھلاڑیوں نے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔آسٹریلوی اوپنر ڈیوڈ وارنر اچھی فارم میں چل رہے ہیں۔ انہوں نے 66 کے اوسط سے 264 رنز بنائے ہیں۔وہیں ناک آؤٹ جیسے میچ کے لئے مائیکل کلارک بھی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔آسٹریلیا کے پاس بولنگ میں مشیل اسٹارک اور مچل جانسن جیسے خطرناک گیندباز ہیں۔ا سٹارک اس ٹورنامنٹ میں 16 وکٹ لے کر سرفہرست ہیں۔ دونوں طرح سے گیند کو سوئنگ کرانے کی صلاحیت کی وجہ سے ا سٹارک کا موازنہ پاکستان کے سابق قدآور گیندباز وسیم اکرم سے ہونے لگا ہے ۔
وہیں پاکستان نے صحیح وقت پر اپنی کارکردگی کو بہتر کیا ہے ۔سرفراز احمد نے گروپ مرحلے میں آئرلینڈ کے خلاف سنچری لگائی۔ اگرچہ فاسٹ بولر محمد عرفان کے زخمی ہونے کی وجہ سے ورلڈ کپ سے باہر ھونے سے پاکستان کو تھوڑا جھٹکا لگا ہے ۔پاکستان کے کوچ وقار یونس نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ غلط وقت پر عرفان ٹیم سے باہر ہو گئے ۔یہ بہت بڑا نقصان ہے ۔وہ ہمارے لئے اہم تھے لیکن ہمیں اسی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے ۔ عرفان کے بدلے وہاب ریاض کو گیند بازی اٹیک کی ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے ۔درمیان کے اووروں میں ان کی وکٹ لینے کی صلاحیت پاکستان کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment