Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 01:24 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

خطاب کا دفاع : بنگالی ٹائیگرز ہندوستان کیلئے آسان ہدف

 

کوارٹر فائنل میں پہنچنے کے بعد اعتماد سے لبریز بنگلہ دیش سے کرسکتی ہے ایک اورالٹ پھیر ،کمزور سمجھنے کی غلطی نہیں کریگا ہندوستان
ملبورن، 18 مارچ (یواین آئی) عالمی کپ میں دھماکہ خیز مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل چھ جیت حاصل کر چکی گزشتہ چمپئن ٹیم انڈیا کے پاس جمعرات کو ملبورن میں ہونے والے دوسرے کوارٹرفاہنل مقابلے میں بنگلہ دیش سے 2007 عالمی کپ کی تلخ شکست کا بدلہ چکانے کا بھرپور موقع رہے گا ۔ہندوستانی کرکٹ ٹیم پول بی میں اب تک ایک میچ بھی نہیں ہاری ہے اور بلے بازی، گیند بازی اور فیلڈنگ کے دم پر اس نے آل راونڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرکے کوارٹرفائنل میں جگہ بنائی ہے ۔ دوسری طرف بنگلہ دیش کی ٹیم بھی کوارٹرفائنل میں جگہ بنا کر اعتماد سے لبریز نظر آ رہی ہے جس نے پہلے کبھی ناک آوٹ میں جگہ نہیں بنائی ہے ۔ لیکن جہاں ایک طرف جیت کی راہ پر سوار ہندوستان اور کمزور سمجھی جانے والی بنگلہ دیش کے درمیان کوارٹرفائنل مقابلہ یک طرفہ مانا جا رہا ہے وہیں دوسری طرف کرکٹ ماہرین بنگلہ کھلاڑیوں کے 'سرپرائز پیکیج 'ثابت ہونے کے امکانات سے بھی انکار نہیں کر رہے ہیں ۔واضح رہے کہ ہندوستان کو 2007 میں ویسٹ انڈیز میں ہوئے عالمی کپ میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں پورٹ آف اسپین میں 17 مارچ کو پانچ وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ہندوستان کی ون ڈے تاریخ میں یہ ہار ہمیشہ تلخ رہی کیونکہ اس ہار نے راہل دراوڑ کی ٹیم انڈیا کو عالمی کپ سے باہر کا راستہ دکھا دیا تھا ۔ بنگلہ دیش نے مسلسل ہندوستان پر اس تاریخی جیت کو اپنے لیے ٹانک سمجھا ہے اور وہ ایک بار پھر اسی الٹ پھیر کو دہرانے کی تیاری میں ہے ۔لیکن اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ٹیم انڈیا اس وقت بہترین فارم میں ہے اور کپتان مہندر سنگھ دھونی کی قیادت میں وراٹ کوہلی، روہت شرما، اجنکیا رہانے ، سریش رینا، شکھر دھون جیسے کمال کے بلے بازوں اور امیش یادو، محمد شمی، موہت شرما اور روی چندرن اشون کے طور پر بہترین گیندبازوں نے موجودہ ٹورنامنٹ میں خطاب کی دعویدار مانی جا رہی ٹیموں کو بھی دھول چٹائی ہے اور بنگلہ دیش کے خلاف بھی وہ جیت کے سلسلے کو جاری رکھنے کی کوشش کرے گی۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں جاری ورلڈ کپ میں ہندوستانی ٹیم اپنے پول بی میں تمام میچ جیت کر چوٹی پر رہی ہے جبکہ بنگلہ دیش کی ٹیم چھ میچوں میں تین جیت کے ساتھ پول اے میں چوتھے نمبر پر رہی ہے ۔دونوں ٹیمیں جب کوارٹرفائنل میں آمنے سامنے ہو ں گی تو تمام ہندوستانی کرکٹ شائقین کے ذہن میں 2007 عالمی کپ کی ہار کی یادیں تازہ ہو جائیں گی اور وہ اس موقع کا انتظار کریں گے جب مہندر سنگھ دھونی کی ٹیم اس شکست کا بدلہ لے کر سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے ساتھ بنگلہ دیش کو عالمی کپ سے باہر کر دے ۔ دھونی 2007 عالمی کپ ٹیم کا حصہ تھے اور اس میچ میں کھاتہ کھولے بغیر آؤٹ ہو گئے تھے ۔سچن تندولکر، سورو گنگولی، وریندر سہواگ، راہل دراوڑ اور یوراج سنگھ جیسے قدآور بلے بازوں سے آراستہ ہندوستانی ٹیم اس میچ میں 191 رن پر آوٹ ہو گئی تھی اور بنگلہ دیش نے پانچ وکٹ پر 192 رن بنا کر ٹورنامنٹ کا بڑا الٹ پھیر کر دیا تھا ۔عالمی کپ کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو اس ہار کا ہمیشہ ذکر ہوتا ہے ۔ہندوستانی ٹیم جس زبردست فارم میں کھیل رہی ہے اس سے یہ تو صاف ہوتا ہے کہ بدلہ چکایا جائے گا ۔ لیکن بنگلہ دیش کی ٹیم نے جس طرح اپنے آخری میچ میں نیوزی لینڈ کو سخت چیلنج دیا تھا اسے دیکھتے ہوئے ہندوستانی کپتان حریف ٹیم کو کسی طرح کمتر سمجھنے کی غلطی نہیں کریں کریں گے ۔ بنگلہ دیش کی طرف سے بلے باز محموداللہ نے ابھی تک کمال کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ موجودہ عالمی کپ میں سب سے زیادہ رن بنانے والے پانچویں بلے باز ہیں ۔ محموداللہ نے پانچ میچوں میں مسلسل دو سنچریوں سمیت 344 رن بنائے ہیں جبکہ ہندوستانی بلے باز دھون ان سے دو مقام پیچھے ہیں جن کے نام چھ میچوں میں 337 رن درج ہیں۔ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رن بنانے میں ہندوستان کے بجائے بنگلہ دیش کے کسی بلے باز کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ 'بنگالی ٹائیگرز' فارم میں ہیں اور انہیں کمزور سمجھنا ہندوستان کے لیے مہنگا ثابت ہوگا ۔ رن بنانے کے معاملے میں مشفق الرحیم، سابق کپتان اور آل راؤنڈر شاکب الحسن حسن کا بھی اہم کردار رہے گا جبکہ ہندوستان کا اوپننگ آرڈر شکھر دھون، روہت، ویراٹ پر انحصار رہے گا ۔ وراٹ نے ایک سنچری سمیت چھ میچوں میں 301 رن بنائے ہیں ۔کپتان دھونی لوآرڈر بلے بازی کے بارے میں فکرمند ہیں جسے اب تک اصل امتحان سے گزرنا نہیں پڑا ہے ۔ زمبابوے کے خلاف دھونی (ناٹ آوٹ 85) اور رائنا نے ناٹ آوٹ سنچری اننگز سے اپنی اہمیت ثابت کی تھی لیکن رویندر جڈیجہ ایک بار پھر فلاپ رہے تھے جو فکر کی بات ہے ۔ہندوستان کا بنگلہ دیش کے خلاف 28 میچوں میں 24 جیت اور تین شکست کا شاندار ریکارڈ ہے ۔دونوں کے درمیان ایک میچ میں نتیجہ نہیں نکلا ہے لیکن اس بات کو بھلایا نہیں جا سکتا ہے کہ بنگلہ دیش کی ان محض تین جیت میں بھی اس نے ہندوستان کے خلاف دو میچ بڑے ٹورنامنٹوں میں جیتے ہیں اس لئے ہندوستان کو زیادہ احتیاط برتنی ہوگی۔2007 عالمی کپ کے علاوہ بنگلہ دیش 2012 ایشیا کپ میں بھی ہندوستان کو شکست دی چکا ہے ۔بنگلہ دیش کے کپتان مشرف مرتضی کو ہندوستانی بلے بازوں کا سامنا کرنے کے لیے اپنے تیز گیند بازوں کو اور بہتر طریقے سے تیار کرنا ہوگا ۔ ہندوستانی کپتان نے بنگلہ دیش کے ساتھ کوارٹر فائنل میچ کے بارے میں کہا تھا کہ ان کی ٹیم اس میچ کو کم نہیں سمجھ رہی ہے اور وہ اس میچ میں بھی دباؤ میں ہوں گے ۔میلبورن ہندوستان کے لیے اس ٹورنامنٹ کا پسندیدہ میدان ہے جہاں اس نے خطاب کے مضبوط دعویدار جنوبی افریقہ کو 130 رن سے بڑی شکست دی تھی ۔ ہندوستان میلبورن میں ایک بار پھر ایسا ہی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اترے گا ۔ میلبورن میں بڑے پیمانے پر ہندوستانی رہتے ہیں اور اس لئے میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں اسے حمایت کی کوئی کمی نہیں ہوگی ۔بنگلہ دیش نے اس میدان پر سری لنکا کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلا تھا اور خراب فیلڈنگ کی وجہ سے اسے سخت تنقید جھیلنی پڑی تھی ۔ اس میچ میں اسے 92 رن سے شکست جھیلنی پڑی تھی ۔ہندوستان کے لیے ایک چیلنج اچانک سے بڑے اور چھوٹے میدانوں پر کھیلنے کا ضرور ہو سکتا ہے ۔ہندوستان نے اپنے گروپ کے آخری دو میچ نیوزی لینڈ میں کھیلے جہاں کے میدان کافی چھوٹے ہیں جبکہ اسے کوارٹرفائنل کیلئے پھر آسٹریلیا لوٹنا پڑا ہے اور میلبورن گراؤنڈ آسٹریلیا کے سب سے بڑے میدانوں میں سے ایک ہے ۔ لیکن ٹیم انڈیا گزشتہ تین ماہ سے آسٹریلیا میں ہے اور اس کی حالات اور میدانوں سے اچھی طرح واقف ہے جو اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment