Today: Wednesday, September, 26, 2018 Last Update: 10:36 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

چوکرس جنوبی افریقہ کے سامنے لنکن ٹائیگرز کا چیلنج

 

جنوبی افریقہ اور گزشتہ دو مرتبہ کی رنراپ سری لنکا عالمی کپ کے پہلے کوارٹرفائنل میںآمنے سامنے ہوں گے
سڈنی، 17 مارچ (یو این آئی) چوکرس' جنوبی افریقہ اور گزشتہ دو مرتبہ کا رنراپ سری لنکا عالمی کپ کے پہلے کوارٹرفائنل میں بدھ کو جب آمنے سامنے ہوں گے تو جنوبی افریقی کپتان اے بی ڈیولیرس اور سری لنکا کے رنز مشین کمار سنگاکارا کے بلوں کی دھار میچ کا فیصلہ کرے گی۔جنوبی افریقہ خطاب کا مضبوط دعوے دار مانا جا رہا ہے لیکن گروپ مرحلے میں اس کا مظاہرہ چیمپئن جیسا نہیں رہا تھا اور اسے ہندستان اور پاکستان دونوں سے شکست کھانی پڑی تھی۔جنوبی افریقہ عالمی کپ میں کبھی بھی ناک آؤٹ مقابلہ نہیں جیت پایا ہے اور اس کے پاس یہ سب سے سنہری موقع ہے کہ وہ خود پر لگے چوکرس کا ٹھپہ ہٹانے کی پوری کوشش کرے ۔دوسری طرف سری لنکا کی ٹیم اپنے بلے بازوں کے دم پر جنوبی افریقہ کا شکار کرنے کی اہلیت رکھتی ہے ۔مسلسل چار سنچری بنانے کا عالمی ریکارڈ بنا نے والے سابق کپتان سنگاکارا کا بیٹ کوارٹرفائنل میں بھی چل گیا تو وہ اپنی ٹیم کو سیمی فائنل میں پہنچا دیں گے ۔اس مقابلے میں سب کی نگاہیں جنوبی افریقی کپتان ڈیولیرس اور سنگاکارا کی جنگ پر لگی رہے گی۔ان کی جنگ ہی میچ کا فیصلہ کرے گی۔ڈیولیرس نے سڈنی کے اسی میدان پر ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے تاریخ کے سب سے تیز رفتار 150 رن بنائے تھے ۔انہوں نے 66 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 162 رن بنائے تھے ۔اس مقابلے میں ڈیولیرس اور سنگاکارا کے علاوہ دونوں ٹیموں کے دو بہترین اوپنر جنوبی افریقہ کے ہاشم آملہ اور سری لنکا کے تلک رتنے دلشان کی بھی اہم ذمہ داری رہے گی کہ وہ اپنی ٹیم کو کیسی شروعات دیتے ہیں۔ان دونوں اوپنر کے علاوہ جنوبی افریقہ کے اصل ہتھیار ڈیل اسٹین اور سری لنکا کے یارکر مین لست ملنگا کی تیزی بھی میچ میں فیصلہ کن ثابت ہو گی۔موجودہ عالمی کپ میں اب تک کھیلے گئے چھ میچوں میں سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے بازوں میں سری لنکا کے سنگاکارا 496 رنز بنا کر ٹاپ پر قابض ہیں جس میں انھوں نے مسلسل چار میچوں میں چار سنچری بنائی ہیں۔اس کے علاوہ دو سنچری اور ایک نصف سنچری لگانے والے ٹیم کے اوپنر دلشان بھی چوتھے نمبر پر ہیں۔وہیں جنوبی افریقی کپتان اور بلے باز ڈیولیرس ایک سنچری اور دو نصف سنچریوں کے ساتھ 417 رنز بنا کر تیسرے نمبر پر ہیں۔وہ متحدہ عرب امارات کے خلاف ہوئے گزشتہ میچ میں اپنی سنچری سے صرف ایک رن سے چوک گئے تھے ۔
جنوبی افریقہ کے اوپنر ہاشم آملہ بھی گروپ مرحلے کے دوران ایک سنچری اور ایک نصف سنچری لگاکر چھ میچوں میں کل 307 رن بنا کر دسویں نمبر پر ہیں۔اگرچہ ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ وکٹ لینے والے گیند بازوں کی فہرست میں جنوبی افریقہ کے کرشمائی گیندباز مورن مورکل 13 وکٹ لے کر آٹھویں نمبر پر ہیں جبکہ عمران طاہر 11 وکٹ لے کر 11 ویں نمبر پر ہیں۔
وہیں یارکر مین کے نام سے مشہور سری لنکا کے لست ملنگا نے بھی 11 وکٹ لئے ہیں اور وہ ٹاپ گیندبازوں کی فہرست میں 13 ویں نمبر پر ہیں۔جنوبی افریقہ کے طوفانی گیند باز ڈیل اسٹین نے نو اور کائل ایبوٹ نے تین میچوں میں آٹھ وکٹ اپنے نام کئے ہیں۔ورنامنٹ میں سب سے زیادہ رن بنانے وانے بلے بازوں میں اے بی ڈیولیرس تیسرے مقام پر ہیں جنہوں نے سڈنی کے میدان پر ہی 66 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 162 رن بنائے تھے ۔اس کے بعد ٹیم کے اوپنر ہاشم آملہ پانچویں نمبر پر ہیں جنھون آئرلینڈ کے خلاف کمال دکھاتے ہوئے 128 گیندوں میں 159 رنز بنائے ۔وہیں زمبابوے کے خلاف سنچری لگانے والے ڈیوڈ ملر 138 رنز کے ساتھ آٹھویں نمبر پر ہیں۔سری لنکا کے ا سٹار تلک رتنے دلشان چوتھے مقام پر ہیں جنہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف 146 گیندوں میں 161 رنز بنائے تھے جبکہ انگلینڈ کے خلاف سنچری بنانے والے لاھرو ترمانے اپنے ناٹ آؤٹ 139 رنز کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہیں۔مسلسل چار سنچری بناکر عالمی ریکارڈ بنانے والے سابق کپتان کمار سنگاکارا سکاٹ لینڈ کے خلاف 124 رن کے اپنے اسکور کے ساتھ 15 ویں نمبر پر ہیں۔ایسے میں سنگاکارا جہاں اپنے سنچری کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے وہیں گیند بازوں کی بااثر کارکردگی بھی اہم کردار نبھائے گی ۔
عالمی کپ کے بعد ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کا فیصلہ کر چکے سنگاکارا اپنے آخری عالمی کپ کے دوران ٹیم کو چمپئن بنانے اور عالمی کپ خطاب تک لے جانے کی پوری کوشش کریں گے ۔اس کے لیے وہ سخت محنت اور مشق کر رہے ہیں۔اگرچہ ان کی ٹیم کے چیف سلیکٹر اور سابق کرکٹر سنت جے سوریہ نے کوارٹرفائنل مقابلے میں سری لنکا سے ہونے والی جنگ کے پہلے ہی اپنی ٹیم کو پوری طرح تیار بتایا تھا لیکن انہوں نے سنگاکارا سے اپنا کھیل جاری رکھنے کی بھی بات کہی تھی۔جے سوریہ نے کہاکہ میں بہت خوش ہوں لیکن سلیکٹر ہونے کے ناطے میں یہی چاہتا ہوں کہ وہ ٹیم کے لیے آگے بھی کھیلیں اور اپنی شاندار کارکردگی کو برقرار رکھیں۔سری لنکا نے عالمی کپ کوارٹرفائنل میں جگہ بنائی ہے اور اس میں سنگاکارا کی کارکردگی کا اہم کردار رہا ہے ۔موجودہ عالمی کپ کے دوران سری لنکا کی ٹیم ابھی تک مشترکہ میزبان اور چار بار کی عالمی کپ فاتح آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے اپنے مقابلے ہاری ہے جبکہ جنوبی افریقہ کو گزشتہ چمپئن ہندستان اور 1992 ورلڈ کپ فاتح پاکستان سے شکست ہوئی ہے ۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment