Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 02:59 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

فیلڈنگ کے نئے قوانین سے یوراج کی گیند بازی متاثر ہوئی

 

موجودہ صورتحال میں متاثر کن گیند باز نہیں ہوتے یوی:یوراج کے ٹیم انڈیا میں شامل نہ کئے جانے پر پہلی بار کپتان نے کھولی زبان دھونی

روہت اور جڈیجہ پر رکھیں بھروسہ:دھونی

میلبورن، 16 مارچ (یو این آئی) عالمی کپ 2011میں پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کرنے والے یوراج سنگھ ہندستان کی خطابی جیت میں اہم رہے تھے لیکن کپتان مہندر سنگھ دھونی کا کہنا ہے کہ قوانین میں تبدیلی کے بعد یوراج موجودہ ٹورنامنٹ میں زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہو پاتے ۔دھوني نے فیلڈنگ کے نئے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ بائیں ہاتھ کے اسپنر یوراج نے حالیہ فیلڈنگ اصول کے مطابق زیادہ بولنگ نہیں کی ہے جب 30 یارڈ کے گھیرے سے باہر صرف چار ہی فیلڈر کھڑے کئے جا سکتے ہیں۔ہم یہ مانتے ہیں کہ جب ایک بار ضابطے میں تبدیلی ہوتی ہے تو گیند بازوں کو بھی تھوڑی پریشانی ہوتی ہے ۔اگرچہ وہ ٹوئنٹی 20 میں باقاعدہ بولر رہے ہیں۔گزشتہ میچ میں زمبابوے کے خلاف سنچری بنانے والے سریش رینا کی موجودہ عالمی کپ میں یووراج جیسی ذمہ داری سے متعلق پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ یوراج نے نئے ضابطوں کے تحت زیادہ بولنگ نہیں کی ہے اور اس لئے میں مانتا ہوں کہ وہ اب زیادہ متاثر کن نہیں ہوتے ۔ ضابطوں میں تبدیلی کے پہلے ہم نے دیکھا کہ وریندر سہواگ، سچن تندولکر اور یوراج سنگھ نے گیند باز ی کی اور ہم خود ان کی گیند بازی پر انحصار کرتے تھے ۔لیکن وہ تمام پارٹ ٹائم بولر ہیں اور بلے بازی کے لیے موزوں میدان پر وہ کچھ خاص کمال نہیں دکھا پاتے تھے ۔دھونی نے کہاکہ رینا ایک اچھے متبادل ہیں اور انہیں وکٹ پر کچھ مدد مل رہی ہے ۔وہ بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کے سامنے اچھے گیند باز ثابت ہو رہے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ آئرلینڈ کے خلاف مقابلے کے دوران ہمیں ان کی پوری ضرورت تھی۔شکھر دھون اور روہت بھی پارٹ ٹائمر گیندباز ہیں لیکن میں ان کا استعمال تبھی کرتا ہوں کہ جب کنڈیشن ان کیلئے سازگار ہو۔کیپٹن کول نے کہا کہ رینا پانچویں نمبر پر بلے بازی کرنے اترتے ہیں جبکہ یوراج چوتھے نمبر پر بلے بازی کرنے اترتے تھے ۔دونوں کا موازنئ نہیں کیاجا سکتا۔ موجودہ عالمی کپ میں آ ل راؤنڈر کو خاص کمال دکھانے کا موقع ملنے کی امید بہت کم ہے ۔عالمی کپ میں شامل ہونے والی کئی ٹیموں نے اس بارآ ل راؤنڈر کو ٹیم کا حصہ بنانے کا کم ہی موقع دیا ہے ۔جن آ ل راؤنڈر نے اپنی اپنی ٹیموں کے لیے پچھلی بار کمال دکھایا تھا، انہیں بھی کم ہی ٹیموں نے اس بار عالمی کپ کا حصہ بنایا ہے ۔

ہندوستانی ٹیم نے عالمی کپ گروپ مرحلے کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناک آؤٹ میں جگہ بنا لی ہے لیکن کچھ کھلاڑیوں کا فارم میں نہیں رہنا ٹیم کے لیے تشویش کا سبب بنا ہوا ہے ۔روندر جڈیجہ اور روہت شرما نے موجودہ عالمی کپ کے دوران خاص کارکردگی نہیں کی ہے لیکن کپتان مہندر سنگھ دھونی کا کہنا ہے کہ دونوں کرکٹر وقت آنے پر خود کو ثابت کریں گے ۔دھونی نے جڈیجہ کے فارم میں نہیں رہنے پر کہاکہ مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے پہلے بھی شاندار گیند بازی کی ہے ۔وہ مسلسل اپنی کارکردگی کو بہتر کر رہے ہیں اور ٹیم کو ان پر بھروسہ ہے کیونکہ وہ ٹیم کا لازمی حصہ ہیں۔ہم نے گزشتہ ورلڈ کپ کے بعد بہت محنت کی ہے اور ہم تمام چاہتے ہیں کہ وہ شاندار کارکردگی کریں۔انہوں نے کہاکہ عالمی کپ سے پہلے میں نے بھی نہیں سوچا تھا کہ اسپنر آل راؤنڈر کچھ خاص کر سکتے ہیں لیکن جڈیجہ نے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے دو گروپ میچوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے ایک ایک وکٹ بھی لیا اور یہ ثابت کیا کہ آسٹریلیاءي زمین پر اسپنر کمال کر سکتے ہیں۔مجھے آکلینڈ میں زمبابوے کے خلاف ہوئے میچ میں اسپنروں سے خاص امید نہیں تھی کیونکہ یہاں کا میدان چھوٹا ہے اور وہاں روي چندرن اشون نے بھی زیادہ رن لٹایے ۔اوپنر روہت شرما بھی ٹورنامنٹ میں کچھ کمال نہیں دکھا پائے ہیں اور ابھی تک کچھ زیادہ رن بنا پانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔حالانکہ انہوں نے ایسوسی ایٹ ٹیم متحدہ عرب امارات اور آئرلینڈ کے خلاف نصف سنچری لگائی۔ ان کا دفاع کرتے ہوئے دھونی نے کہاکہ یہ محض رن بنانے کا مسئلہ نہیں ہے ۔جو اہم ہے کہ وہ یہ ہے کہ روہت میچ میں شکھر دھون کے ساتھ مل کر کس طرح کی شروعات دیتے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ روہت اچھا کھیل رہے ہیں۔وہ بغیر دباؤ کے اور کھل کر کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہندستان کا ورلڈ کپ کوارٹرفائنل میں مقابلہ بنگلہ دیش کے خلاف 19 مارچ کو ہونا ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment