Today: Tuesday, September, 25, 2018 Last Update: 07:19 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

ورلڈ کپ :لیگ مرحلے میں ہی بن گیا سنچریوں، چھکوں اور سب سے زیادہ ا سکور کا نیا ریکارڈ

 

نئی دہلی16مارچ(آئی این ایس انڈیا)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی)نے بھلے ہی عالمی کپ 2015سے پہلے بلے اور گیند کے درمیان توازن پورا کرنے کی بات کی تھی لیکن ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے میں بلے بازوں کی ہی طوطی بولی اور عالم یہ رہا کہ پہلے دور میں 300سے زیادہ رن کے اسکور، سب سے زیادہ سنچریوں اور سب سے زیادہ چھکوں کا نیا ریکارڈ بن گیا،یہیں نہیں کسی ایک ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ بھی طے ہے کہ کوارٹر فائنل میں ٹوٹ جائے گا،یہ ریکارڈ بھی اب محض 1186رنز دور ہے۔ورلڈ کپ 2007اور 2011میں 21333رنز بنے تھے جبکہ موجودہ ٹورنامنٹ میں اب تک کل 20147رنز بن چکے ہیں،ان میں سے 19122رنز تو بلے بازوں نے بنائے ہیں جبکہ کسی ایک ورلڈ کپ میں بلے سے نکلے رنز کا ریکارڈ 19986ہے جو 2011میں برصغیر میں بنا تھا،اس بار ابھی تک صرف 41میچ کھیلے گئے ہیں جبکہ ورلڈ کپ 2011میں 49اور 2007میں 51میچ کھیلے گئے تھے۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلے جا رہے ورلڈ کپ میں اب تک بلے بازوں نے کل 35سنچریاں لگائی ہیں جو اس ٹورنامنٹ کا نیا ریکارڈ ہے۔اس سے پہلے ہندوستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں 2011میں کھیلے گئے ورلڈ کپ میں کل 24سنچری لگی تھی۔ورلڈ کپ کا آغاز 1975میں ہوا تھا اور اس پہلے ٹورنامنٹ صرف6 سنچری لگی جبکہ اس کے چار سال بعد 1979میں صرف دو سنچری ہی بن پائی تھی،اس کے علاوہ 1983اور 1992میں8۔8، 1987اور 1999میں 11.11سنچری لگی تھی۔اس درمیان جب 1996میں برصغیر نے ورلڈ کپ کی میزبانی کی تو تب 16سنچریاں بنیں لیکن 2003میں یہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔تب 21سنچری لگی جو 2011تک قائم رہا۔اس درمیان ویسٹ انڈیز میں 2007میں کھیلے گئے ورلڈ کپ میں 20سنچریاں بنی تھیں۔
سری لنکا کے ہی تلک رتنے دلشان، ہندوستان کے شیکھر دھون، بنگلہ دیش کے محموداللہ اور زمبابوے کے برینڈن ٹیلر نے بھی موجودہ عالمی کپ میں دو دو سنچری لگا چکے ہیں۔سنگاکارا کی نگاہ عالمی کپ میں سب سے زیادہ سنچری لگانے کے سچن تندولکر کے ریکارڈ پر ٹکی ہوگی۔تندولکر 1992سے 2011تک6 عالمی کپ میں کھیلے اور انہوں نے اس دوران6 سنچری لگائی۔ سنگاکارا کے نام پر اب کل5 سنچری درج ہیں اور وہ آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ کے ساتھ مل کر دوسرے نمبر پر ہیں۔سری لنکا کے ہی تلک رتنے دلشان اور جنوبی افریقہ کے کپتان اے بی ڈویلیرس کی نگاہ بھی تندولکر کے ریکارڈ تک پہنچنے یا اس سے آگے نکلنے پر لگی ہوگی،ان دونوں کے نام پر عالمی کپ میں ابھی تک 4.4 سنچری درج ہیں۔سری لنکا کے مہیلا جے وردھنے نے بھی چار سنچری لگائی ہیں اور وہ بھی اپنے آخری ورلڈ کپ کو یادگار بنانے کی کوشش کریں گے،اگر چھکوں کی بات کریں تو موجودہ عالمی کپ میں اب تک کل 388چھکے لگ چکے ہیں جو ٹورنامنٹ کا نیا ریکارڈ ہے۔اس سے پہلے کا ریکارڈ ورلڈ کپ 2007میں بنا تھا،تب 373چھکے لگے تھے،پہلے ورلڈ کپ میں صرف 28چھکے لگائے گئے تھے جبکہ برصغیر میں کھیلے گئے گزشتہ ورلڈ کپ میں 258چھکے پڑے تھے،اس سے زیادہ چھکے(266)تو ورلڈ کپ 2003میں لگ گئے تھے۔عالمی کپ میں پہلے دور میں ہی300سے زیادہ رن کے25اسکور بن گئے ہیں جو کہ نیا ریکارڈ ہے۔اس سے پہلے 2011میں 17بار ٹیموں نے 300رنز کے ہندسے کو چھو یا تھا جبکہ 2007میں یہ تعداد 16 تھی۔ورلڈ کپ 1975میں چار مرتبہ ٹیموں نے 300سے زیادہ رن بنائے تھے جبکہ اس کے چار سال بعد 1979میں تو کوئی بھی ٹیم اس مقام پر نہیں پہنچ پائی تھی،تب سب سے زیادہ ا سکور ویسٹ انڈیز(6 وکٹ پر 293رنز)نے بنایا تھا۔آسٹریلیا نے اس بار افغانستان کے خلاف پرتھ میں چھ وکٹ پر 417رن بنا کر عالمی کپ میں نیا ریکارڈ بنایا۔اس نے ہندوستان کے 2007میں برموڈا کے خلاف بنائے گئے پانچ وکٹ پر 413رن کے ریکارڈ کو توڑا۔جنوبی افریقہ اب تک دو بار 400رن کے اعداد و شمار کو پار کر چکا ہے۔ڈویلیرس کی قیادت والی ٹیم نے آئرلینڈ کے خلاف چار وکٹ پر 411اور ویسٹ انڈیز کے خلاف چار وکٹ پر 408رن بنائے۔ویسٹ انڈیز میں 2007میں کھیلے گئے ورلڈ کپ سے پہلے 300رن تک پہنچنا آسان نہیں رہتا تھا۔ اس سے پہلے 1983میں4، 1987میں 1، 1992میں2، 1996میں 5، 1999میں3 اور 2003میں 9 بار 300یا اس سے زیادہ رن کے اسکور بنے تھے۔

 

...


Advertisment

Advertisment