Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 02:02 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

دھون نے پھر مچایا دھمال ،عالمی کپ میں ٹیم انڈیا نے درج کی ریکارڈ 9ویں جیت

 

شکھرنے جمائی طوفانی سنچری ،روہت بھی چمکے ،عالمی کپ میں گیند بازوں نے لگاتار پانچوں مرتبہ مخالف ٹیم کو کیا آل آؤٹ،آئرلینڈکو دی 8وکٹوں سے شکست

ہیملٹن، 10 مارچ (یو این آئی) آئرلینڈ کے خلاف پہلے ہی ایک طرفہ مانے جا رہے مقابلے کا نتیجہ توقع کے مطابق رہا اور پول بی کی ٹاپ ہندوستانی ٹیم نے منگل کو یہاں ایسوسی ایٹ ملک پر اپنی شاندار آٹھ وکٹ کی جیت کے ساتھ ہی عالمی کپ ٹورنامنٹ میں مسلسل نویں جیت درج کرنے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا ۔دفاعی چمپئن ہندوستان کی جیت کا سلسلہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ورلڈ کپ 2011سے مسلسل چل رہا ہے اور اس نے موجودہ ٹورنامنٹ میں اپنے گزشتہ تمام پانچوں میچ جیتے ہیں۔جیت کے گھوڑے پر سوار ٹیم انڈیا کی یہ موجودہ ٹورنامنٹ میں مسلسل پانچویں اور عالمی کپ ٹورنامنٹ میں مسلسل نوویں جیت ہے ۔اسی کے ساتھ کپتان مہندر سنگھ دھونی نے بھی اپنی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اضافہ کر لیا اور وہ ٹیم کو اپنی قیادت میں عالمی کپ میں سب سے زیادہ جیت دلانے والے ہندوستان کے پہلے کپتان بن گئے ہیں ۔اس سے پہلے مسلسل آٹھ جیت کا ریکارڈ سابق کپتان سورو گنگولی کے نام تھا ۔گنگولی نے یہ ریکارڈ 2003ورلڈ کپ میں بنایا تھا ۔میچ میں آئرلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 49اوورز میں 259رنز بنائے ۔ یہ بھی ایک ریکارڈ ہے کہ ہندستانی ٹیم نے مسلسل پانچویں مرتبہ ٹورنامنٹ میں اپنی مخالف ٹیم کو 50 اوور سے پہلے ہی آل آؤٹ کر دیا ۔اس کے بعد ٹیم انڈیا نے 36.5اوورز میں دو وکٹ کے نقصان پر 260رنز بنا کر جیت اپنے نام کر لی ۔وراٹ کوہلی نے آخری لمحات میں جیت کا چوکا لگا کر چار رن بناکر جیت کی خانہ پری کی۔اوپنر روہت شرما نے 64اور شکھر دھون نے سب سے زیادہ 100رنز کی بہترین اننگز کھیلی ۔ دھون کی ون ڈے میں یہ آٹھویں اور ٹورنامنٹ میں ان کی دوسری سنچری ہے ۔دھون نے جنوبی افریقہ کے خلاف 137رنز کی اننگز کھیلی تھی ۔دھون اور روہت کے آؤٹ ہونے کے بعد جیت کی خانہ پری کو اسٹار بلے باز وراٹ کوہلی اور اجنکیا رہانے نے مکمل کیا ۔تقریبا وقفے وقفے پر چوکے اور چھکے اڑاتے ہوئے وراٹ نے ناٹ آؤٹ 44اور رہانے نے ناٹ آؤٹ 33رن کی بہترین اننگ کھیلی ۔آئرلینڈ کی جانب سے اسٹورٹ تھامپسن کو چھ اوورز میں 45رن پر دو وکٹ ہاتھ لگے ۔اس کے علاوہ کوئی گیند باز ہندوستانی بلے بازوں کو آؤٹ نہ کرسکا۔ہندستانی ٹیم نے میچ میں توقع کے مطابق بہت ہی کنٹرول اور آسانی کے ساتھ کھیلا ۔دنیا کی بہترین ٹیموں کے بہترین بلے بازوں میں شامل ہندستانی بلے بازوں نے 79 گیندوں کے باقی رہتے ہی جیت اپنے کھاتے میں ڈال لی ۔دھون (100)اور روہت (64) نے پہلے وکٹ کے لیے 174رن کی ساجھے داری کی جو عالمی کپ ٹورنامنٹ میں اس وکٹ کے لیے ہندستانی ریکارڈ ہے ۔اس سے پہلے اوپننگ وکٹ کے لیے اجے جڈیجہ اور سچن تندولکر کے نام 163رن کی شراکت کا ریکارڈ تھا جو انہوں نے 1996کے ورلڈ کپ میں کینیا کے خلاف بنایا تھا ۔ہندوستان نے اس جیت کے ساتھ ہی ٹیسٹ درجہ نہ رکھنے والی کسی ٹیم کے خلاف اپنے جیت کے ریکارڈ کو بھی قائم رکھا ۔ٹیم انڈیا کے سنچری میکردھون نے صرف85 گیندوں میں 11چوکے اور پانچ چھکے اڑاتے ہوئے 100 رن بنائے ۔لیکن اس کے فورا بعد وہ بڑا شاٹ کھیلنے کے چکر میں تھامپسن کی گیند پر کپتان ولیم پوٹرفیلڈ کو کیچ کراکر پویلین لوٹ گئے جبکہ روہت شرما کو تھامپسن نے بولڈ کیا ۔روہت نے 66گیندوں میں تین چوکے اور تین چھکے لگائے ۔ہندوستان نے اچھی شروعات کی اور اسے جاری رکھنے کیلئے سلسلہ بنائے رکھا ۔آئرلینڈ کو 190کے اسکور پر جا کر اس کا دوسرا وکٹ ملا ۔اس کے بعد وراٹ اور پھر رہانے نے مورچہ سنبھالا اور ٹیم کو جیت تک پہنچایا ۔وراٹ نے 42 گیندوں میں چار چوکے اور ایک چھکا لگایا جبکہ رہانے نے 28 گیندوں میں چھ چوکے لگا کر ناٹ آؤٹ 33 رن بنائے ۔دونوں بلے بازوں نے تیسرے وکٹ کے لیے 70رنز کی ناٹ آؤٹ ساجھے داری کی۔ روہت کی ون ڈے میں یہ 25ویں نصف سنچری ہے ۔اس سے پہلے مشترکہ میزبان نیوزی لینڈ میں اپنا پہلا مقابلہ کھیل رہی ہندوستانی ٹیم نے اچھی فارم میں چل رہے تیز گیند باز محمد شمي (41 رن پر تین وکٹ) کی بدولت آئرلینڈ کی اننگز کو ایک اوور باقی رہتے 259 رنز پر نمٹا دیا تھا۔ٹیم کے کپتان ولیم پوٹرفیلڈ نے 67اور نیل او برائن نے 75رن کی بہترین اننگ کھیل کر اسکور کو لڑنے کے قابل حالت میں پہنچایا جبکہ پال ا سٹرلنگ نے 42رن جوڑے ۔آئرلینڈ کا لو آرڈر ہندوستانی گیند بازوں کے سامنے مکمل طور پر ناکام رہا اور ابتدائی پانچ بلے بازوں کو چھوڑ کر باقی پانچ بلے باز کیون او برائن (ایک) گیری ولسن (06) اسٹورٹ تھامپسن (دو) جارج ڈوکریل (چھ) ایلیکس کوساک (11) پویلین لوٹ گئے ۔گزشتہ میچ کے مین آف دی میچ شمي نے اس بار بھی کمال کا مظاہرہ کیا اور نو اوورز میں سب سے زیادہ تین وکٹ لیے جبکہ آف اسپنر روی چندرن اشون کو 10اوورز میں 38رن پر دو وکٹ ہاتھ لگے ۔ہندوستانی ٹیم نے موجودہ عالمی کپ میں اب تک کسی بھی ٹیم کو اپنے سامنے 50 اوور پورے کرنے کا موقع نہیں دیا ہے اور اس نے اس میچ میں بھی آئرلینڈ کو 49اوورز میں نمٹاکر اس سلسلے کو جاری رکھا ۔حالانکہ ٹیم کے تیز گیند بازوں نے جہاں آئرش بلے بازوں کو کنٹرول کیا وہیں اسپنروں نے کافی رنز دیے ۔آئرش اننگز میں 180 گیندوں میں 145رنز اسپنروں نے دیے جبکہ تیز گیند بازوں نے 114گیندوں پر 114رنز ہی دیے ۔آئرلینڈ نے اچھی شروعات کی اور ہندستان کے خلاف اپنا سب سے بڑا اسکور بھی بنایا ۔اس ٹورنامنٹ میں ایسوسی ایٹ ممالک میں آئرلینڈ کا مظاہرہ اب تک قابل تعریف رہا ہے ۔کپتان اور اوپنر پوٹرفیلڈ نے ٹیم کو اچھی شروعات دلاتے ہوئے 93گیندوں میں پانچ چوکے اور ایک چھکا لگا کر 67رن بنائے جو ان کی ون ڈے میں 11 ویں نصف سنچری ہے ۔پوٹرفیلڈ نے اسٹرلنگ کے ساتھ مل کر پہلے وکٹ کے لیے 89رن کی ساجھے داری کی جو آئرلینڈ کی ٹاپ آٹھ ٹیموں میں کسی کے خلاف اس وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت بھی ہے ۔ کپتان نے پھر نیل او برائن کے ساتھ تیسرے وکٹ کے لیے 53رنز کی اہم شراکت کی ۔ اسٹرلنگ نے 41گیندوں میں چار چوکے اور دو چھکے لگا کر 42رنز بنائے ۔ٹیم انڈیا کو پھر 89کے اسکور پر اپنی پہلی کامیابی اسٹرلنگ کے طور پر ملی جنہیں اشون نے اجنکیا رہانے کے ہاتھوں کیچ کرایا ۔اس کے بعد دوسرا وکٹ ایڈ جوئس کے طور پر سریش رینا کو ملا ۔لیکن پھر نیل او برائن نے صورتحال کو سنبھالا اور پھر آئرلینڈ کے 200 پار پہنچنے پر ہندستان کو چار وکٹ ہاتھ لگے ۔ ہندوستانی ٹیم نے آئرلینڈ کے خلاف اس سے پہلے صرف دو ون ڈے کھیلے ہیں جن میں دونوں بار ہندستان کو جیت ملی ہے ۔لیکن اوپننگ آرڈر کی کارکردگی نے ایک وقت ہندوستانی گیند بازوں کو سکتے میں ضرور ڈال دیا ۔نیل کریز پر 42 ویں اوور تک ٹکے رہے اور انہوں نے 75گیندوں میں سات چوکے اور تین چھکے لگا کر 75رنز کی اچھی اننگز کھیلی ۔33سالہ نیل کی یہ 14ویں نصف سنچری ہے ۔نیل نے بالبرني کے ساتھ آئرلینڈ کی جانب سے چوتھے وکٹ کے لیے 61نز کی میچ میں دوسری بڑی شراکت کی اور اسکور 200کے پار لے گئے ۔ٹیم انڈیا کے لیے ان کا وکٹ انتہائی اہم ہو گیا تھا جسے آخر کار شمي نے اپنے نام کیا ۔شمي نے نیل کو امیش یادو کی مدد سے کیچ کراکر 226کے اسکور پر ساتویں بلے باز کے طور پر چلتا کیا ۔اس سے پہلے بالبرني نے 24گیندوں میں تین چوکے لگا کر 24رنز کی مفید اننگز کھیلی لیکن وہ اشون کا شکار ہو گئے ۔شمي نے بھاگتے ہوئے بالبرني کا کیچ لپک کر انہیں آؤٹ کیا ۔ٹاپ آرڈر کے پانچ بلے بازوں کے علاوہ اور کوئی رن نہیں بنا سکا اور ہندستان نے آخری اوورز میں کافی وکٹ نکالے ۔آخری نو اوورز میں مسلسل وقفے پر گیند بازوں نے وکٹ نکالے ۔شمي کو سب سے زیادہ تین اور اشون کو دو وکٹ ملے ۔اس کے علاوہ امیش کو 34رنز پر ایک وکٹ، فاسٹ بولر موہت شرما کو 38رن پر ایک، رویندر جڈیجہ کو 45رن پر ایک اور رینا کو 40 رن پر ایک وکٹ ملا۔

 

...


Advertisment

Advertisment