Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 12:46 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

عالمی کپ میں پہلی بارنظر آیاپاکستانی تیز گیندبازی کا جلوہ

 

جنوبی افریقہ پر29رنوں کی زبردست جیت سے کوارٹر فائنل کی امیدیں قائم ،مصباح اورسرفراز کی شاندار بلے بازی کے بعد گیندبازوں نے 202رنوں پر افریقہ کا پلندہ باندھا

آکلینڈ 7 مارچ (یو این آئی) پاکستان نے آج جنوبی افریقہ کو ایک اہم مقابلے میں 29 رن سے ہرا دیا ۔ اس جیت کے ساتھ پاکستان نے کرکٹ کے عالمی کپ اپنا سفر جاری رکھنے کی امید برقرار رکھی ہے ۔آج پہلے بلے بازی کرتے ہوئے پاکستان نے 222 رن بنائے تھے لیکن بارش سے متاثر میچ کے تعلق سے ڈک ورتھ لوئس ضابطے کے تحت جنوبی افریقہ کے لئے 232 رن کا نشانہ مقرر کیا گیا ۔پاکستان کی طرف سے ورلڈ کپ میں پہلا میچ کھیلنے والے وکٹ کیپر سرفراز احمد کو 49 رنز بنانے اور وکٹ کے پیچھے چھ کیچ پکڑنے پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ جنوبی افریقہ کی جوابی اننگ اگرچہ 202 رن پر ہی سمٹ گئی لیکن میچ یکطرفہ نہیں تھا کیونکہ ہاشم آملہ نے جارحانہ بیٹنگ کی اور 26گیندوں میں نو چوکوں کی مدد سے 38 رنز بنائے ۔اے بی ڈی ویلیئرز نے ، جس نے ہندستان کے سچن ٹنڈولکر کا ورلڈ کپ میچوں میں 1000رنز کا ریکارڈ صرف بیس میچوں میں برابر کردیا ہے پاکستان کو پریشان کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ پاکستان کی طرف سے محمد عرفان، راحت علی اور وہاب ریاض نے تین تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ سہیل خان نے ایک مگر ڈی ویلیئرز کی اہم وکٹ حاصل کی۔ محمد عرفان نے دوسری گیند ہی پر ڈی کوک کو آؤٹ کیا۔ ڈی کوک اس ورلڈ کپ میں اب تک اچھی بیٹنگ نہیں کر پائے ہیں۔ پاکستان کو ایک اہم کامیابی 67 کے مجموعی سکور پر ملی جب راحت علی نے ڈو پلیسی کو 27کے انفرادی سکور پر آؤٹ کیا۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے سٹین نے دس اوورز میں 30رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کو جلد ہی ایک اور وکٹ ملی جب وہاب ریاض نے روسو کو صرف چھ رنز پر آؤٹ کیا۔ راحت علی نے ملر کو صفر پر ایل بی ڈبلیو کیا۔ جنوبی افریقہ کو ایک اور نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب محمد عرفان کی گیند پر ڈومینی کیچ آؤٹ ہوئے۔ ان کا کیچ وہاب ریاض نے پکڑا۔ محمد عرفان نے تیسری وکٹ اس وقت حاصل کی جب سٹین 16 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے ۔ایبٹ جو پراعتماد بیٹنگ کر رہے تھے کو راحت علی نے 12 رنز پر آؤٹ کیا۔ یونس خان نے سلِپ میں شاندار کیچ پکڑا۔ ڈی ویلیئرز نے سات چوکوں اور پانچ چھکوں کی مدد سے 58 گیندوں میں 77 رنز بنائے ۔ ان کو سہیل خان نے آؤٹ کیا۔اس سے قبل جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔ قبل ازیں پاکستان 47 ویں اوور میں 222 رنز بنا کر پوری ٹیم آؤٹ ہو گئی۔ پہلے 37ویں اوور اور پھر 41 ویں اوور میں میں بارش کے باعث میچ روکا گیا۔ جس کے باعث میچ 47 اوورز کا کر دیا گیا۔ شاہد آفریدی نے ایک روزہ میچوں میں اپنے آٹھ ہزار رنز مکمل کر لیے۔ مصباح الحق نے ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں اپنے 5000 روز مکمل کر لیے ہیں۔ مصباح نے 73 گیندوں میں چار چوکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کر لی ہے۔ جنوبی افریقہ کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب فاسٹ بولر ڈیل سٹین نے احمد شہزاد کو آؤٹ کر دیا۔ اس وقت پاکستان کا مجموعی سکور 30 رنز تھا جو موجودہ ورلڈ کپ میں پاکستان کی بہترین اوپننگ پارٹنرشپ تھے ۔ اس سے پہلے پاکستان کی سب سے بہترین اوپننگ پارٹنرشپ 11 رنز کی تھی۔جنوبی افریقہ نے ابتدائی اوروں میں کامیابی نہ ملنے دو اطراف سے فاسٹ بولروں کو ہٹا کر اپنے دونوں سپنروں، عمران طاہر اور جے پی ڈومنی کو بولنگ کے لیے بلایا ہے۔ پاکستانی بیٹسمینوں سپنروں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کھل کر شاٹس کھیلے ۔ سرفراز احمد نے جے پی ڈومنی کے ایک اوور میں تین چھکے لگائے ۔ سرفراز احمد ایک تیز رن لیتے ہوئے رنز آؤٹ ہو گئے ۔پاکستان نے اپنی تیسری وکٹ 27ویں اوور میں اس وقت گنوائی جب یونس خان 37 رنز بنا کر آوٹ ہوگئے ۔صہیب اچھا نہ کھیل سکے اور 16 گیندوں میں آٹھ رنز سکور کر کے ایبٹ کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے ۔عمر اکمل پاور پلے کے دوران 20 گیندوں میں صرف 13 رنز بنا کر مورکل کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے ۔شاہد آفریدی نے 15 گیندوں میں 22 رنز سکور کیے اور اس کے ساتھ انھوں نے ایک روزہ میچوں میں اپنے آٹھ ہزار رنز بھی مکمل کیے ۔وہاب ریاض پہلی گیند ہی پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے ۔ ان کو عمران طاہر نے آؤٹ کیا۔مصباح الحق نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کی اور 85 گیندوں میں 56 رنز سکور کیے ۔ ان کو سٹین نے آؤٹ کیا۔راحت علی صرف ایک رن بنا کر سٹین کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ سہیل خان تین رنز بنا کر مورکل کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے سٹین نے تین جبکہ ایبٹ اور مورکل نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان نے ٹیم میں دو تبدیلیاں کی ہیں۔ ناصر جمشید کو ڈراپ کر کے وکٹ کیپر سرفراز احمد کو بطور اوپنر کھیلانے کا فیصلہ کیاگیا۔ اس کے علاوہ حارث سہیل ان فٹ ہونے کی وجہ یونس خان کو ٹیم میں شامل کیاگیا ہے۔ جنوبی افریقہ نے ٹیم میں ایک تبدیلی کی ہے اور بہاردین کی جے پی ڈومنی کو ٹیم میں دوبارہ جگہ دی ہے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment