Today: Thursday, November, 15, 2018 Last Update: 04:01 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

ایشیاڈ میں تمغہ جیتنے والوں کو پرانے ریٹ پر انعامات سے نوازا گیا

 

نئی دہلی، 14 اکتوبر(یو این آئی) مرکزی وزارت کھیل نے انچیون ایشیائی کھیلوں کے تمغوں حاصل کرنے والوں کو یہاں ایک شاندار تقریب میں’’پرانے ریٹ‘‘کے نقد انعامات سے نوازا ۔کھیلوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے پیر کی شام تمغہ جیتنے والے کھلاڑیوں کو نقد انعام دیئے۔ ہندوستان نے انچیون ایشیاڈ میں 11سونے، 10 چاندی اور 36 کانسے کے تمغے جیتے تھے۔ طلائی تمغہ فاتح کو 20 لاکھ روپے، چاندی کا تمغہ جیتنے والے کو 10 لاکھ روپے اور کانسے کا تمغہ فاتح کو چھ لاکھ روپے دیئے گئے۔ نئے ریٹ کے حساب سے سونے کا تمغہ جیتنے والے کو30 لاکھ روپے، چاندی کے لئے 20 لاکھ اور کانسے کے لئے 10 لاکھ روپے ملنے چاہئے تھے۔ کھلاڑیوں کو پرانے ریٹ سے نقد انعام دئیے جانے کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر کھیل نے کہا کہ ہر کھلاڑی نے ایشیاڈ میں اپنا بہترین کھیل پیش کیا تھا۔ ہمیں سنجیدگی سے اس بات پر غور کرنا ہے کہ کھلاڑیوں کی انعامی رقم میں کیسے اضافہ کیا جائے۔ہم نے اس معاملے میں اپنے تمام متبادل کھلے رکھے ہیں۔ اس درمیان ایک ایتھلیٹ سے اس کے تعلق سے پوچھے جانے پر اس نے کہاکہ آپ ہی معلوم کریں کہ پرانے ریٹ پر نقد انعام کیوں دئیے جا رہے ہیں ۔ ویسے بھی 20 ، 10 اور چھ لاکھ کا فرق سمجھ سے باہرہے۔ اسے 20، 18 اور چھ لاکھ کیا جا سکتا ہے۔ آخر محنت تمام کھلاڑی کرتے ہیں۔ انعامی رقم میں اتنا بڑا فرق نہیں ہونا چاہئے ۔ اس تقریب میں کھیل شعبہ کے سیکرٹری اجیت موہن شرن ، انڈین اسپورٹس اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل جیجی تھامسن، انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری راجیو مہتہ، رکن پارلیمان راجیہ وردھن سنگھ راٹھوڑ،بی سی سی آئی کے جوائنٹ سکریٹری انوراگ ٹھاکر، ہاکی انڈیا کے نئے صدر نریندر بترا اور کئی دیگر حکام موجود تھے۔ مسٹرسونووال نے اس موقع پر کہا کہ مجھے گلاسگو دولت مشترکہ کھیلوں میں تمغے جیتنے والوں کو اگست میں اعزازسے نوازے جانے کا موقع ملا تھا اور اب اکتوبر میں میں انچیون ایشیاڈ کے تمغہ یافتگان کو اعزاز نواز رہا ہوں۔ یہ میرے لیے دوہری کامیابی ہے ۔ وزیر کھیل نے مزید کہا کہ جن کھلاڑیوں نے طلائی تمغے جیتے ہیں وہ اسے آئندہ بھی برقرار رکھنے کی کوشش کریں اور ریو اولمپکس میں سونے کا تمغہ جیتنے کی کوشش کریں ۔جنہوں نے چاندی یا کانسے کا تمغہ جیتا ہے وہ اس کا رنگ تبدیل کرنے کی کوشش کریں ۔ایشیاڈ میں طلائی تمغہ جیتنے والی مرد ہاکی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے وزیر کھیل سربانند سونووال نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ ہاکی ٹیم ریو اولمپکس میں بھی طلائی تمغہ جیت کر 1980 میں آخری بار اولمپک طلائی جیتنے کی کامیابی کو دو ہرائے گی۔ ویسے ہم 1964میں ٹوکیو اولمپک کی طلائی فاتح ہاکی ٹیم کو جلد اعزاز سے نوازنے والے ہیں۔ ہاکی ٹیم کی کامیابی کا سہرا ہاکی انڈیا کے نئے صدر نریندر بترا کے سر بھی جاتا ہے۔ تمغہ جیتنے والے کھلاڑیوں کا اعزاز سے نوازے جانے کی تقریب ختم ہو چکی تھی کہ اسی وقت زور زور کی آوازوں نے سب کی توجہ اسٹیج کے سامنے اپنی جانب مبذول کرالی جہاں مسٹر بترا اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (سائی) کے ایک افسر پر غصہ کر رہے تھے۔ اچانک ہونے والے اس واقعہ سے تمام لوگ حیرت زدہ تھے۔ وزیر کھیل اور دوسرے افسر ہال میں ہی موجود تھے۔ مسٹر بترا نے دوتین مرتبہ اس افسر کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایشیائی کھیلوں کے لئے ان کا نام کٹوا دیا۔ بات کافی بڑھ چکی تھی اسی وقت مسٹر انوراگ ٹھاکر نے مداخلت کی اور مسٹر بترا کو ہال سے باہر لے گئے۔ مسٹر بترا نے پہلے ہی سائی اور کھیل سیکرٹری کے خلاف مہم چھیڑ رکھی تھی جس کا نتیجہ آج کایہ واقعہ ہے۔مسٹر بترا کے جانے کے بعد سکون تو ہو گیا لیکن پھر کافی دیر تک اس واقعہ کا ذکر حکام کے درمیان چلتا رہا کہ کیا ہوا اور کیوں ہوا۔

 

...


Advertisment

Advertisment