Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 10:57 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

بی سی سی آئی کی کمان پھرڈالمیا کے ہاتھوں میں


چنئی، 02 مارچ (یو این آئی )جگموہن ڈالمیا کو پیرکو یہاں سالانہ عام اجلاس (سالانہ عام اجلاس) میں ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کا بلا مقابلہ نیا صدر منتخب کرکے تقریبا ایک دہائی بعد پھر سے ملک میں کرکٹ کی سب سے بڑی تنظیم کی باگ ڈور سونپ دی گئی ۔74سالہ بنگال کرکٹ ایسوسی ایشن (کیب) کے سربراہ ڈالمیا اس عہدے کے لیے نامزدگی بھرنے والے اکیلے امیدوار تھے ۔عہدے کے لیے نامزدگی بھرنے کی آخری تاریخ اتوار کی شام تھی ۔ڈالمیا پہلے بھی بی سی سی آئی کے اعلی عہدے پر رہ چکے ہیں ۔اس کے علاوہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) کے بھی صدر بھی رہ چکے ہیں ۔چنئی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں بی سی سی آئی کے صدر اور دیگر عہدوں پر افسر مقرر کرنے کے لیے منعقدہ سالانہ عام اجلاس میں ڈالمیا کا انتخاب کیا گیا ۔اس میٹنگ کی صدارت بورڈ کے عبوری صدر اور حیدرآباد کرکٹ ایسو سی ایشن کے سربراہ شولال یادو نے کی ۔ڈالمیا کے علاوہ بورڈ کے سیکرٹری کا عہدہ سابق بی سی سی آئی کے صدر شرد پوار کے قریبی مانے جانے والے انوراگ ٹھاکر صرف ایک ووٹ کے فرق سے اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے ۔ انہوں نے 15۔14 کے فرق سے سنجے پٹیل کو شکست دی ۔بورڈ کے سربراہ کے عہدے پر رہ چکے ڈالمیا کو معتوب صدر این شری نواسن کا قریبی سمجھا جاتا ہے اور ان کا اس عہدے پر منتخب کیا جانا طے تھا ۔دلچسپ یہ بھی ہے کہ سابق صدر شرد پوار حامی گروپ نے بھی ڈالمیا کے منتخب ہونے پر خوشی ظاہر کی ہے ۔بورڈ کے اعلی عہدے پر اس بار ایسٹ زون سے نامزدگی ہونی تھی اور بہترین حکمت عملی ساز مانے جانے والے ڈالمیا نے اس زون سے چھ میں سے دو (بنگال کرکٹ ایسوسی ایشن اور نیشنل کرکٹ کلب) کے ووٹ حاصل کر لیے ۔قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے آئی پی ایل چھ اسپاٹ فکسنگ کیس میں شری نواسن کو صدر کے عہدے یا پھر آئی پی ایل میں مالکانہ حق والی ٹیم چنئی سپرکنگس فرنچائزی کو لے کر مفادات کے ٹکراؤ کا مسئلہ ہونے پرہٹایا تھا اور ان میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کے لئے کہا تھا ۔ شری نواسن وقت کرکٹ کی عالمی تنظیم (آئی سی سی) کے صدر ہیں۔لیکن ہماچل پردیش کرکٹ ایسوسی ایشن اور موجودہ نائب صدر انوراگ ٹھاکر نے سیکرٹری کے عہدے کیلئے سنجے پٹیل کو ایک ووٹ کے فرق سے ہرا کر ضرور سیکرٹری کے عہدے کے لیے قریبی جیت درج کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ۔بی سی سی آئی کے بے حد اہم ان انتخابات میں شری نواسن حمایت یافتہ گروہ تقریبا تمام عہدوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہا ۔انہوں نے بورڈ کے صدر، نائب صدر جوائنٹ سکریٹری اور خزانچی کے دیگر عہدوں پر بھی بازی مار لی ۔
سالانہ عام اجلاس میں دیگر عہدوں پر منتخب کئے گئے افسر اس طرح ہیں :نائب صدر: جی گنگارام راجو (جنوبی زون ) ٹی سی میتھیو (مغرب) سی کے کھنہ (سینٹرل) گوتم رائے (ایسٹ) اور ایم ایل نہرو (نارتھ) سیکرٹری: انوراگ ٹھاکر،جوائنٹ سکریٹری: امیتابھ چودھری،خزانچی: انرودھ چودھری۔
صدر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کی خواہش ظاہر کرنے والے بی سی سی آئی کے سابق صدر پوار اور ان گروہ کو آخر وقت میں مشرقی زون سے حمایت نہیں ملنے کے بعد اپنا نام واپس لینا پڑا۔ لیکن انہوں نے بعد میں جوائنٹ سکریٹری اور خزانچی کے عہدے کے لیے چیتن دیسائی اور راجیو شکلا کو اتارا ۔اس کے علاوہ مغربی زون سے سورج ساونت، مشرق سے جیوترادتیہ سندھیا اور شمالی زون کے ایم پی پانڈو نائب صدر کے عہدے کے لیے کھڑے تھے جنہیں آخر کار انتخاب میں شکست ہوئی ۔اس درمیان بي سي سي آءي کی میٹنگ میں تھوڑا ڈرامہ بھی دیکھنے کو ملا جب راجستھان کرکٹ ایسوسی ایشن (آرسی اے ) کے نائب صدر محمدعابدی قریب ایک گھنٹے بعد اجلاس سے باہر آئے اور انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ بی سی سی آئی کے رخصت پذیر صدر اور سیکرٹری سنجے پٹیل نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے اور مبینہ طور پر انہیں سالانہ عام اجلاس میں ووٹ ڈالنے کے علاوہ کسی دیگر سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی ۔انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق شری نواسن اور پٹیل صرف میٹنگ میں اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں اور اس کے علاوہ انہیں سالانہ عام اجلاس کی کسی دیگر کارروائی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہو گی ۔عابدی نے کہا کہ یہ براہ راست طور پر عدالت کی توہین کا معاملہ ہے ۔اگرچہ بنگال کرکٹ میں سب سے مضبوط افسر کی حیثیت رکھنے والے ڈالمیا کو انتخابات میں معتوب صدر شری نواسن کی پوری حمایت ملی اور سمجھا جاتا ہے اسی وجہ سے پوار نے صدر کے عہدے کی دوڑ سے خود کو الگ کر لیا ۔اس سے پہلے سابق آئی سی سی سربراہ ڈالمیا سال 2013 میں اسپاٹ فکسنگ کیس کے بعد سے شری نواسن کے عہدے سے الگ ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر بورڈ کا کام کاج دیکھ رہے تھے ۔یہ تقریبا ایک دہائی بعد دوسرا موقع ہے جب ڈالمیا کو بورڈ کا سربراہ بنایا گیا ہے ۔طویل عرصے بعد بی سی سی آئی میں واپس لوٹے ڈالمیا سال 2001 میں پہلی بار بورڈ کے صدر بنے تھے ۔بی سی سی آئی کے صدر کے طور پر اپنی معیاد مکمل کرنے کے بعد وہ 2005 میں پوار سے انتخاب ہار گئے ۔اس کے بعد سے انہیں بورڈ کی سرگرمیوں اور اجلاس سے الگ کر دیا گیا تھا ۔اپنے کیریئر میں کئی اتار چڑھاو اور تنازعات میں گھرے رہے ڈالمیا کو سال 2007 میں اس وقت تگڑا جھٹکا لگا جب انہیں سال 1996 عالمی کپ کے دوران مالی بے ظابطگیوں کے الزامات کی وجہ سے کیب کے صدر کے عہدے سے بھی زبردستی ہٹنا پڑا ۔حالانکہ اس کے بعد عدالت میں وہ بے قصور ثابت ہوئے اور کیب سربراہ کے عہدے پر پھر ان کی واپسی ہوئی ۔سال 2013 میں بورڈ کے عبوری صدر کے طور پر وہ ایک بار پھر دنیا کے سب سے امیر بورڈ کے کام کاج سے متعلق اور آخر کار دو سال بعد انہیں اس کا سربراہ منتخب کر لیا گیا ۔ڈالمیا اس سے پہلے 1997میں آئی سی سی کے صدر رہ چکے ہیں ۔لیکن وہ اس عہدے پر صرف تین سال تک1997سے 2000تک ہی رہے ۔کولکتہ کے رہنے والے ڈالمیا کو ملک میں کرکٹ کو نئی بلندیوں کے لیے بھی کافی شناخت ملی اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کرکٹ کو ایک عالمی کھیل کے طور پر شناخت دلانے کا کریڈٹ بھی انہیں جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ 1987 اور 1996 میں برصغیر میں عالمی کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ کو لانے کا کریڈٹ بھی ڈالمیا کے نام ہے ۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment