Today: Thursday, September, 20, 2018 Last Update: 02:02 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

ٹیم انڈیا نے متحدہ عرب امارات کوپڑھایا کرکٹ کا پاٹھ


جیت کی ہیٹرک کے ساتھ ہندوستان کوارٹرفائنل میں،اشون نے لئے چار وکٹ ،یواے ای کی نو وکٹوں سے شکست
پرتھ، 28 فروری (یو این آئی ) آف اسپنر روی چندرن اشون کی بہترین بولنگ (25 رن پر چار وکٹ) اور روہت شرما (ناٹ آؤٹ 57) اور وراٹ کوہلی (ناٹ آؤٹ 33) کے درمیان دوسرے وکٹ کے لیے 75 رنز کی ناٹ آؤٹ ساجھے داری کی بدولت دفاعی چمپئن ہندوستان نے ایسوسی ایٹ ملک متحدہ عرب امارات کو کرکٹ کا سبق پڑھاتے ہوئے 187 گیندوں کے باقی رہتے نو وکٹ سے ہراکر پول بی سے عالمی کپ کے کوارٹرفائنل میں داخلہ حاصل کر لیا ۔ہندستانی ٹیم نے متحدہ عرب امارات کو گیند بازی اور بلے بازی دونوں ہی شعبوں میں کھیل کا سبق پڑھایا اور یک طرفہ انداز میں گیندیں بچی رہنے کے لحاظ سے اپنی دوسری سب سے بڑی جیت درج کی ۔متحدہ عرب امارات کے کپتان محمد توقیر نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا لیکن ہندوستانی گیندبازوں کے سامنے غیر تجربہ کار ٹیم 31.3 اوورز میں 102 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی ۔آسان ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ہندوستان نے پھر 18.5 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 104 رن بنا کر جیت اپنے نام کر لی ۔گیندوں کے لحاظ سے ہندوستان کی ون ڈے میں یہ دوسری سب سے بڑی جیت بھی ہے ۔آخری بار ہندوستان نے کینیا کے خلاف 2001 میں 231 گیندیں باقی رہتے ہوئے 11.3 اوور میں 10 وکٹ سے سب سے بڑی جیت درج کی تھی ۔موجودہ عالمی کپ میں ہندستان کی یہ مسلسل تیسری جیت ہے اور وہ تین میچوں میں چھ پوائنٹس کے ساتھ اپنے پول بی میں سب سے اوپر بنی ہوئی ہے جبکہ متحدہ عرب امارات اب تک جیت کا کھاتہ نہیں کھول سکی ہے اور گزشتہ تینوں میچ ہار کر آخری مقام پر کھسک گئی ہے ۔دونوں ٹیموں کے درمیان پہلے ہی اس میچ کو یکطرفہ خیال کیا جا رہا تھا لیکن اس مقابلے سے اس کے کئی اہم کھلاڑیوں روہت شرما اور گیند باز بھونیشور کمار کو فارم میں واپس آنے کا موقع مل گیا۔گزشتہ دونوں میچوں میں خراب کارکردگی کی وجہ سے تنقید کا شکار بنے اوپنر روہت نے میچ میں سب سے زیادہ 57رن کی اننگ کھیلی جبکہ اسٹار بلے باز وراٹ نے ناٹ آؤٹ 33 رن بنا کر جیت کی خانہ پری کو پورا کیا ۔اس سے پہلے ہندوستانی گیند بازوں نے کمال کا مظاہرہ کیا ۔تجربہ کار آف اسپنر اشون نے ون ڈے کا بہترین مظاہرہ کیا اور چار وکٹ لئے ۔ اس سے پہلے ان کا سب سے بہترین مظاہرہ 24 رن پر تین وکٹ تھا ۔عالمی کپ ٹورنامنٹ کی تاریخ میں ہندستانی اسپنروں میں اشون کی یہ کارکردگی مجموعی تیسری سب سے بہترین کارکردگی ہے ۔اس معاملے میں یوراج سنگھ پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں جنہوں نے 2011 کے ورلڈ کپ میں آئرلینڈ کے خلاف پانچ وکٹ اور 2003 ورلڈ کپ میں نامیبیا کے خلاف چار وکٹ لئے تھے ۔فارم میں لوٹتے ہوئے اوپنر روہت نے 55 گیندوں میں دس چوکے اور ایک چھکا لگا کر ناٹ آؤٹ 57 رن کی اننگز کھیلی جبکہ تیسرے نمبر کے بلے باز وراٹ نے 41 گیندوں میں پانچ چوکے لگا کر ناٹ آؤٹ 33 رن کی اننگ کھیلی ۔دونوں بلے بازوں نے دوسرے وکٹ کے لیے 75 رن کی ناٹ آؤٹ ساجھے داری کی ۔اگرچہ ہندوستان کے لیے گزشتہ دونوں اہم میچوں میں سنچری اور نصف سنچری لگانے والے شکھر دھون سستے میں آؤٹ ہو گئے ۔دھون نے 17 گیندوں میں تین چوکے لگا کر 14 رن جوڑے ۔انہیں محمد نوید نے روہن مصطفی کے ہاتھوں کیچ کراکر سستے میں پویلین بھیج دیا ۔حالانکہ اس کے بعد کریز پر ڈٹے دونوں بلے بازوں روہت اور وراٹ نے جیت دلا کر ہی میدان چھوڑا ۔متحدہ عرب امارات کی جانب سے اکیلے محمد نوید پانچ اوور میں 35 رن پر ایک وکٹ کی کامیابی حاصل کر سکے ۔اس کے علاوہ کسی دوسرے گیندباز کو کوئی وکٹ نہیں ملا ۔اس سے قبل روی چندرن اشون کی ون ڈے کیریر کی بہترین گیند بازی (25رن پر چار وکٹ) کی بدولت دفاعی چیمپئن ٹیم انڈیا نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی کمزور سمجھی جانے والی ٹیم کو کوئی ڈھیل نہ دیتے ہوئے پوری ٹیم کو محض 31.3اووروں میں 102رن پر سمیٹ دیا تھا۔ایک وقت پر یو اے ای کی ٹیم 52رن پر اپنے چھ وکٹ گنوا چکی تھی لیکن ٹیم کے اہم بلے باز میں سے ایک شومن انور نے سب سے زیادہ 35رنوں کی اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو ہندستان کے خلاف سب سے کم اسکور آوٹ ہونے سے بچا لیا۔انہوں نے 49گیندوں میں چھ چوکے لگاکر ٹیم کے اسکور کو کم از کم 100رن سے اوپر لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔ہندوستان کے خلاف بنگلہ دیش کی ٹیم سب سے کم اسکور پر آوٹ ہونے والی ٹیم ہے ۔ 2014میں ٹیم انڈیا نے بنگلہ دیش کو ڈھاکہ میں 17.4اووروں میں صرف 58رن کے اسکور پر آوٹ کردیا تھا۔ یو اے ای کا یہ اسکور ہندوستان کے خلاف کسی ٹیم کا دسواں سب سے کم سے کم اسکور ہے ۔29سالہ اشون نے عمدہ گیندبازی کرتے ہوئے 10اوور میں 4چار وکٹ اپنے نام کئے جبکہ رویندر جڈیجہ نے پانچ اووروں میں 23رن دیکر دو وکٹ حاصل کئے ۔ اس کے علاوہ تیز گیند باز بھونیشور کمار نے پانچ اووروں میں 19رن پر ایک وکٹ اور امیش یادو نے 6.3اورو میں 15رن دیکر دوکٹ حاصل کئے ۔ موہت شرما کو پانچ اوور میں 16 رن پر ایک وکٹ ملا۔تیز گیند باز محمد شمی کے زخمی ہونے کی و جہ سے یو اے ای کے خلاف کپتان مہندر سنگھ دھونی نے بھونیشور کمار کو کھیلنے کا موقع دیا جو اچھے فارم میں نظر آ ے اور ایک وکٹ اپنے نام کیا۔ پہلے سے ہی ایک طرفہ سمجھے جانے والے اس مقابلے میں یو اے ای کی ناتجربہ کار ٹیم ذہنی دباؤ میں نظر آئی اور اس کے چوٹی کے تین بلے باز دو ہندسوں تک بھی نہیں پہنچ سکے ۔سلامی بلے باز امجد علی (4) ، اینڈی بورینگر (4)اورکرشن چندرن (4) رن بناکر آوٹ ہوئے ۔ امیش نے بورینگر کو صرف سات رن پر کپتان دھونی کے ہاتھوں کیچ آوٹ کراکے یو اے ای کو پہلا جھٹکا دیا۔اس جھٹکے سے ابھی ٹیم سنبھلی بھی نہیں تھی کہ دھونی نے امجد کا کیچ لیکر اس کا دوسرا وکٹ گرا دیا۔کرشنا 27گینددں میں محض چار رن ہی بنا سکے انہیں اشون نے سریش رینا کے ہاتھوں کیچ کراکر میچ میں اپنا پہلا وکٹ لیا جس کے ساتھ چوٹی کے تین بلے باز پویلین لوٹ چکے تھے ۔یو اے ای کے بلے بازوں کی خراب کارکردگی اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے آٹھ بلے باز دہائی تک بھی نہیں پہنچ سکے ۔ ٹیم کے سب سے عمردراز کھلاڑی خرم خان نے 28گیندوں میں ایک چوکا لگاکر 14رن بنائے جبکہ آخری گیندوں میں رن بنانے کی کوشش کرتے ہوئے منجولا گروگے 16گیندوں میں ایک چوکا لگاکر 10 رن پر ناٹ آوٹ رہے ۔ شومن نے دسویں وکٹ کے لئے منجولا کے ساتھ 31رن کی سب سے بڑی شراکت بھی کی۔ہندوستان نے یو اے ای کو 100رن کے اندر ہی آوٹ کرلیا ہوتا لیکن آخری بلے باز شومن نے 35رنوں کی اہم اننگز کھیل کر ہندوستانی گیندبازوں سے تھوڑی محنت کرائی۔ شومن کو آخر کار یادو نے بولڈ کرکے آخری بلے باز کے طورپر آوٹ کیا۔ اس طرح یو اے ای کی پوری ٹیم 31.2اوور میں 102رن پر سمٹ گئی۔میچ میں سب سے اچھی گیند بازی کرنے والے 29سالہ ہندوستانی آف اسپنر اشون نے کرشنا (4)، خرم (14) ، سوپنل پاٹل (7) اور محمد نوید(6) کے وکٹ لئے ۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment