Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 05:11 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

افریقہ کو شکست دیکر جیت کا سلسلہ برقرار رکھنا چاہے گی ٹیم انڈیا


میلبورن،21 فروری (یو این آئی) عالمی کپ میں ہندستان نے بھلے ہی کبھی بھی جنوبی افریقہ کے خلاف جیت کا ذائقہ نہ چکھا ہو لیکن پاکستان کو ہرا کرٹورنامنٹ کا زبردست آغاز کرنے والی ٹیم انڈیا پورے جوش میں ہے اور امید ہے کہ اتوار کو وہ مخالف ٹیم کوشکست دے کر یقیناًبڑے اپ سیٹ کے ساتھ اس تعطل کو توڑنے میدان میں اترے گی۔ ہندستان نے پاکستان کو ہرا کر اسکور 6۔0 کیا لیکن اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ دفاعی چمپئن ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کی قیادت میں ایک بار پھر فتح کا پرچم لہرانے کے لئے قدم بڑھا چکا ہے اور جنوبی افریقہ کے خلاف ورلڈ کپ میں گزشتہ کبھی نہ جیت حاصل کرنے کے 0..3 کے مایوس کن ریکارڈ کو توڑنے کے لئے پوری طرح تیار بھی ہے ۔ ٹیم انڈیا کی طاقت اس کا بلے بازی آرڈر ہے جس میں وراٹ کوہلی،اجنکیا رہانے ،روہت شرما، شکھر دھون اور دھونی جیسے کھلاڑی ہیں۔لیکن جنوبی افریقہ ایک آل راؤنڈ ٹیم ہے لیکن اس کا بولنگ آرڈراس کی طاقت ہے جس میں دنیا کے بہترین تیزگیند باز ڈیل اسٹین ہیں۔ماہرین اور خاص طور پر سابق کرکٹرز کی مانیں تو ہندوستانی ٹیم کا بولنگ آرڈر نسبتا کم تجربہ کار ہے ۔امیش یادو،گزشتہ میچ میں چار وکٹ لینے والے محمد شمی،بھونیشور کمار،نوجوان کھلاڑیاکشر پٹیل،موہت شرماکے طور پر ٹیم کے پاس اچھے گیند باز تو ہیں لیکن تجربہ کی کمی یقینی ہی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔
آف اسپنر روی چندرن اشون گیندبازوں میں فی الحال سب سے تجربہ کارچہرہ کہے جا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ سریش رینا اور رویندر جڈیجہ بھی ڈیتھ اوورز میں کئی بار کفایتی ثابت ہوتے ہیں۔میلبورن کرکٹ گراؤنڈ کی وکٹ کی بات کریں تو فی الحال مانا جا رہا ہے کہ ا یڈیلیڈاوول سے الگ یہاں کی پچ کافی تیز ہوگی اور تیز گیند بازوں کواس پر فائدہ ملے گا۔ اگرچہ اس بات کو ذہن سے سوچیں تو اگر ہندوستانی گیند بازاس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو دوسری طرف حریف ٹیم بھی اس پچ پر تباہی مچا سکتی ہے اور ہندوستانی بلے بازوں کو بھاری نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ویسے بھی اگر ہندوستانی گیند باز جنوبی افریقہ کے تیز طرار بلے بازوں اے بی ڈیولیرس، ھاشم آملہ،فاف ڈو پلیسس،کوئنٹن ڈی کاک جیسے کھلاڑیوں کے سامنے ناکامرہے تو بلے بازوں کو اضافی ذمہ داری نبھانا پڑ سکتی ہے ۔ اس صورت حال میں مورن مورکل،اسٹین اور ورنون فلینڈر جیسے بہترین گیند بازوں کے لیے دھونی کو ایک مضبوط حکمت عملی کے ساتھ اترنا ہوگا۔شاید ہر کھلاڑی کے لیے ایک الگ حکمت عملی اور ایک مختلف پلان ہندوستان کے لیے اہم ہو گا۔ اس میچ کو پہلے ہی بلے بازی بمقابلہ گیند بازی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ اگرچہ پاکستان کے خلاف میچ کو چھوڑ دیں تو آسٹریلوی زمین پر گزشتہ تین ماہ میں ٹیم انڈیا کا مظاہرہ گھبراہٹ پیداکرنے والا رہا ہے جس میں نہ تو اسٹار بلے باز وراٹ کوہلی کا بلا چلا تھا اور نہ ہی دھون کامیاب رہے تھے ۔ٹیم کے یہ کھلاڑی فی الحال فارم میں ہیں اور وراٹ نے 107 رنز کی اننگز کھیل کر پاکستان کے خلاف عالمی کپ میں سب سے بڑا اسکور بنانے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیاجبکہ دھونی نے فارم میں لوٹتے ہوئے 73 رن اور رینا نے 74 رن کی زورداربہترین اننگ کھیل کر ضرور بھروسہ بحال کیاہے ۔
جنوبی افریقہ کے تیز گیند بازوں کے شعبے میں اسٹین،مورکل،فلینڈر کے ساتھ کائل ایبوٹ یا وین پارنیل میں سے کسی ایک کواتارا جا سکتا ہے ۔اپنے تیز گیند بازوں میں مزید اعتماد پیدا کرنے والی ٹیم کا نشانہ ہندوستان کے بہترین رنز بنانے والے وراٹ سب سے اوپر ھوں گے ۔اس کے علاوہ ون ڈے میچ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بنانے والے روہت بھی مخالف ٹیم کے نشانے پر رہیں گے ۔دوسری جانب ہندستان موہت اور بھونیشور پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔پاکستان کے خلاف بھونیشور کو نہیں اتارا گیا تھا لیکن میچ سے پہلے جمعہ کو جنکشن اوول میں بھووي نے پورے رن اپ اور پوری رفتار کے ساتھ گیند بازی کی اور امید ہے کہ اتوار کو میچ میں وہ میچ میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہیں گے ۔ہفتے کے شروع میں نیٹ پریکٹس کے دوران زخمی ہوئے اشون بھی نیٹ پریکٹس کے لیے اترے اور ممکنہ آخری الیون میں شامل ہیں ۔مشق کے دوران وراٹ نے اسپنروں کے خلاف بھی بلے بازی کی پریکٹس کی اور اس سے صاف ہے کہ وہ تیز گیند بازوں کے ساتھ اسپنروں کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیاری کر چکے ہیں۔اتنا ہی نہیں پاکستان کے خلاف 76 رنز کی جیت میں ٹیم انڈیا کی جو کمی سامنے آئی تھی وہ اس کا لوور بلے بازی آرڈر تھا اور مشق میں اس کے نچلے آرڈر نے بھی بلے بازی کی مشق کی کیونکہ دھونی جانتے ہیں کہ جنوبی افریقہ کے خلاف جیت کے لیے 300 سے زیادہ کا اسکور ہر حال میں بنانا ہی ہوگا۔ہندستان کے خلاف ورلڈ کپ میں کبھی نہ ہارنے والی مخالف ٹیم بہترین بلے باز آملہ،کپتان ڈیولیرس اور اسٹین جیسے کھلاڑیوں پر بھروسہ کر رہی ھے میچ سے پہلے اسٹین نے بھی گیند بازی کی مشق کی جس میں انہوں نے خاص طور پر باؤنسر اور فل لینتھ گیندبازوں کو کھیلا۔ لیکن ان کی فٹنس ٹیم کے لیے اب بھی کچھ تشویش کا سبب ضرور ہے جو ہندوستان کے لیے سود مند ہو سکتی ہے ۔اس لئے اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ہندوستان نے اس بار اپنے پٹاخے بیکار نہ کرنے کا پورا انتظام کیا ہے اور میچ میں پانسہ کسی بھی طرف پلٹ سکتا ہے ۔


 

...


Advertisment

Advertisment