Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 01:35 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

آئرلینڈ نے کالی آندھی کو چٹائی دھول


عالمی کپ میں پہلا بڑا اپ سیٹ،ویسٹ انڈیز کو دی 4وکٹوں سے شکست،پال اسٹرلنگ ،ایڈ جوائس اور نیل اوبرائن کی عمدہ کارکردگی
نیلسن،16فروری(یو این آئی)آئر لینڈ کی غیر متوقع کامیابیاں حاصل کرنے کی روایت برقرار ،دو مرتبہ عالمی چیمپئن کا اعزاز حاصل کرنے والی ٹیم ویسٹ انڈیز کو چار وکٹوں سے ہرایا نیلسن ،نیوزی لینڈ کے شہر نیلسن میں ورلڈ کپ کے پول بی کے ایک میچ میں آئر لینڈ نے غیر متوقع کامیابیاں حاصل کرنے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے دو مرتبہ عالمی چیمپئن کا اعزاز حاصل کرنے والی ٹیم ویسٹ انڈیز کو چار وکٹوں سے شکست دے کر ایک بڑا اپ سیٹ کیا ۔نیلسن کے سیکسٹن اوول میں پیر کے روز کھیلے جانے والے میچ میں ویسٹ انڈیز نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ پچاس اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 304 رنز بنائے ، جو ایک معقول اسکور تھا تاہم ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے بولر اپنے بلے بازوں کی عمدہ کارکردگی کا دفاع نہ کر سکے ۔آئر لینڈکی ٹیم، جسے ورلڈ کپ کا پیر کے روز کھیلا جانے والا یہ واحد میچ جیتنے کے لیے 305 رنز کا ہدف ملا تھا، آسانی سے اپنے اسکور کو دو وکٹوں کے نقصان پر 273 رنز تک لے گئی۔ پھر آئر لینڈ کے یکے بعد دیگرے کئی کھلاڑی آؤٹ ہو گئے ۔291 کے اسکور پر آئر لینڈ کے چھ کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے اور یہ ٹیم کافی مشکل میں نظر آنے لگی تھی تاہم پھر چھیالیس ویں اوور میں چھ ہی وکٹوں کے نقصان پر 307 رنز بناتے ہوئے آئر لینڈ نے ویسٹ انڈیز کو شکست دے دی۔آئر لینڈ کی اس کامیابی میں اُس کے کھلاڑیوں پال اسٹرلنگ اور اَیڈ جوائس نے شاندار کارکردگی دکھائی۔یہ دونوں کھلاڑی اپنی سنچریوں کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن سنچریاں اسکور نہ کرنے کے باوجود اُنہی کی کارکردگی نے ٹیم کو فتح سے ہمکنار کر دیا۔ پال اسٹرلنگ نے بانوے جبکہ جوائس نے چوراسی رنز بنائے ۔ ان دونوں کھلاڑیوں نے اپنی 106 رنز کی عمدہ پارٹنرشپ کے ذریعے آئرش ٹیم کی فتح کا راستہ ہموار کیا۔اب تک کھیلے جانے والے چھ باقاعدہ باہمی میچوں میں ویسٹ انڈیز کے خلاف آئر لینڈ کی یہ پہلی کامیابی تھی۔آئر لینڈ نے اپنی اس کامیابی کے ساتھ ورلڈ کپ میں غیر متوقع کامیابیاں سمیٹنے کی روایت برقرار رکھی ہے ۔2007ء میں آئر لینڈ نے پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کھیلتے ہوئے پاکستان کو شکست سے دوچار کیا تھا جبکہ 2011ء کے ورلڈ کپ میں اُس نے انگلینڈ کو شکست دے کر ایک بڑا اَپ سیٹ کیا تھا۔ویسٹ انڈیز کے خلاف اس فتح کے بعد آئر لینڈ کے لیے یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ وہ اپنے گروپ میں سے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا پائے گی۔اس گروپ میں آئر لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ ساتھ دفاعی چمپئن ہندستان ، پاکستان، جنوبی افریقہ اور زمبابوے بھی ہیں اور متحدہ عرب امارات بھی۔ آئر لینڈ کا اگلا میچ اُنیس فروری کو زمبابوے کے ساتھ ہو گا۔عالمی درجہ بندی میں بارہویں نمبر کی ٹیم آئر لینڈ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل آئی سی سی کا ایسوسی ایٹ یا جونیئر رکن تصور کیا جاتا ہے جبکہ ویسٹ انڈیز مکمل رکنیت کی حامل دَس چوٹی کی ٹیموں میں شمار ہوتی ہے ۔میچ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے آئر لینڈ کے کپتان ولیم پورٹرفیلڈ نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف اُن کی ٹیم کی کامیابی کو اَپ سَیٹ کا نام نہ دیا جائے اور اس فتح کو وہی عزت اور احترام دیا جائے ، جس کی کہ یہ فتح حقدار ہے ۔ آئرش کپتان کا کہنا تھا کہ اُن کی ٹیم اتنی اچھی ہے کہ اُسے باقی ٹیموں کے مساوی سمجھا جانا چاہیے ۔305 رنز کے پہاڑ جیسے ہدف کا پیچھا کرنے والے آئرلینڈ نے یہ ہدف 46 ویں اوور میں ہی پورا کرلیا، اور اس مقام تک پہنچنے میں اہم کردار پال اسٹرلنگ، ایڈ جوائس اور نیال اوبرائن کی اننگز کا تھا کہ جنہوں نے عالمی کپ میں بڑی ٹیموں کو ہرانے کا سلسلہ برقرار رکھا۔آٹھویں اوور میں ویسٹ انڈیز کو پہلا جھٹکا لگا جب اوپنر ڈیوین اسمتھ 18 رنز پر کیچ تھما بیٹھے ۔ اسی اوور کی آخری گیند پر ڈیرن براوو بھی رن آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے ۔ آئرلینڈ کی نپی تلی گیندبازی کے آگے ویسٹ انڈیز کا ٹاپ آرڈر بالکل نہیں ٹک پایا اور کرس گیل اور مارلون سیموئلز کے آؤٹ ہونے کے بعد ویسٹ انڈیز 87 رنز پر 5 وکٹوں سے محروم ہوچکا تھا۔جارج ڈوکریل کی بالنگ نے آئرلینڈ کو بالادست مقام تک پہنچا دیا جب ویسٹ انڈیز کی امیدیں دم توڑ رہی تھیں تو لینڈل سیمنز اور ڈیرن سیمی کی شاندار بیٹنگ نے اننگز کو سنبھالا دیا۔ سیمنز نے اپنی دوسرے ون ڈے سنچری بنائی اے آخری اوور میں جاکر آؤٹ ہوئے ۔ان کی 102 رنز کی اننگز میں 5 چھکے او ر9 چوکے شامل تھے ۔ دوسرے کنارے سے ڈیرن سیمی نے دھواں دار اننگز کھیلی اور 67 گیندوں پر 87 رنز بنائے ۔305 رنز کا تعاقب آئرلینڈ کے لیے بظاہر تو مشکل لگتا تھا لیکن آئرلینڈ عالمی کپ میں 300 سے زیادہ رنز کا ہدف حاصل کرنے کی طویل تاریخ رکھتا ہے ۔ 2011ء میں انگلینڈ اور ہالینڈ کے خلاف فتوحات میں اس نے 300 سے زیادہ کا ہدف ہی کامیابی سے حاصل کیا تھا اور پہلی وکٹ پر ولیم پورٹرفیلڈ اور پال اسٹرلنگ کی 71 رنز کی شراکت داری نے بہترین بنیاد فراہم کی۔ دوسری وکٹ پر اسٹرلنگ اور ایڈ جوائس کے درمیان 92 رنز کی شراکت داری نے ویسٹ انڈیز کو خطرے سے دوچار کردیا اور کاری ضرب جوائس اور نیل اوبرائن کی تیسری وکٹ پر 96 رنز کی پارٹنرشپ نے لگائی۔40 ویں اوور ہی میں آئرلینڈ محض 2 وکٹوں پر 273 رنز تک پہنچ چکا تھا۔جیروم ٹیلر نے تین وکٹیں حاصل کرکے شکست کے مارجن کو کم کیا لیکن ویسٹ انڈیز کے لیے آئرلینڈ کو روکنا ناممکن تھا، جس نے 46 ویں اوور میں ہدف حاصل کر لیا۔آئرش اننگز میں پال اسٹرلنگ 84 گیندوں پر 92 رنز کے ساتھ سب سے نمایاں بلے بازرہے جبکہ 84 رنز ایڈجوائس نے بنائے ۔ نیل اوبرائن نے 60 گیندوں پر 79 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی۔ویسٹ انڈیز کے بہترین گیندبازوں کو آئرلینڈ نے بدترین بنا دیا۔جیروم ٹیلر نے تین وکٹیں ضرور لیں لیکن ان کے 8.5 اوورز میں 71 رنز بنے ۔ کیمار روچ کو 6 اوورز میں 52 رنز کی مار پڑی۔ ویسٹ انڈیز 8 بالرز آزمانے کے باوجود آئرلینڈ کو نہ روک پایا۔

...


Advertisment

Advertisment