Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 06:24 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

عالمی جنگ کیلئے روایتی حریفوں میں پنجہ آزمائی آج


شاہین کے دھماکے کو روکنے کیلئے اگنی تیار،ٹیم انڈیا تاریخ دوہرانے کے فراق میں،کلنک مٹانے کیلئے گرین شرٹس پرعزم
ایڈیلیڈ14فروری(آئی این ایس انڈیا)زخمی اور کارکردگی کے تسلسل کی کمی سے پریشان ہندوستان کل یہاں آئی سی سی کرکٹ عالمی کپ میں خطاب کے دفاع کی اپنی مہم کا آغاز دیرینہ حریف پاکستان کے خلاف کرے گا تو وہ تاریخ سے سبق لینے کی کوشش کرے گا۔سڈنی میں 1992کے عالمی کپ میں دونوں ٹیموں کے درمیان پہلی بار داؤ پیچ کے بعد سے ہندوستان نے پاکستان کے خلاف 50اوور کے عالمی کپ میں تمام پانچ میچ جیتے ہیں۔مہندر سنگھ دھونی کی قیادت والی ہندوستانی ٹیم اب ’سپر سنڈے‘کو اپنا دبدبہ برقرار رکھنے کے ارادے سے اترے گی۔اس میچ کے دوران اسٹیڈیم کے شائقین سے بھرا رہنے کی امید ہے اور تقریبا 20000ہندوستانی پہلے ہی خاص طور پر اس میچ کے لئے ا یڈیلیڈ پہنچ چکے ہیں۔دونوں ہی ٹیمیں اس میچ کو جیت کر ٹورنامنٹ کی مثبت شروعات کرنے کو لے کر بے تاب ہیں۔آسٹریلیا کے موسم گرما میں لچر کارکردگی کے بعد ہندوستانی ٹیم پہلے ہی میچ میں شکست کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور وہ بھی پاکستان کے ہاتھوں۔نائب کپتان اور اہم بلے باز وراٹ کوہلی کا بڑا اسکور بنانے میں ناکام رہنا،پریکٹس میچ میں افغانستان جیسی ٹیم کے خلاف بھی 10وکٹ چٹکانے میں ناکام رہنے والا بولنگ اٹیک اور کچھ اہم کھلاڑیوں کی فٹنس دھونی کے لئے تشویش کا باعث ہیں۔
پاکستان کے خلاف ہندوستانی ٹیم ہمیشہ اپنی بہترین کارکردگی پیش کرتی ہے چاہے وہ خراب دور سے ہی کیوں نہیں گزر رہی ہو۔سال 1992میں آسٹریلیا اور 1999میں انگلینڈ میں ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ وقت خراب کارکردگی کرنے کے باوجود ہندوستان پاکستان کو آسانی سے شکست دینے میں کامیاب رہا تھا۔ہندوستان کو ہمیشہ سے ہی سچن تندولکر، اجے جڈیجہ یا وینکٹیش پرساد کے طور پر ایسا ایک کھلاڑی ملتا رہا ہے جو ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف ٹیم کی جیت کا محرک بنتا رہا ہے۔موجودہ ٹیم میں کوہلی، اجنکیا رہانے اور کپتان دھونی صرف اپنے دم پر میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔دھونی اعداد و شمار میں زیادہ یقین نہیں رکھتے لیکن ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف 5-0کا ریکارڈ ٹیم کو مثبت توانائی دے گا۔اس کے علاوہ مصباح الحق کی قیادت والی پاکستانی ٹیم بھی کافی اچھی تال میں نہیں ہے جس سے ہندوستان کا پلڑا کچھ بھاری رہ سکتا ہے۔محمد حفیظ جیسے بلے باز اور جنید خان جیسے سوئنگ بالر کو چوٹوں کی وجہ سے گنوانے جبکہ سعید اجمل کے بغیر اترنے کی وجہ سے پاکستان کی صورتحال مثالی نہیں ہے۔اس کے علاوہ ٹیم کو نیوزی لینڈ کے خلاف گزشتہ ون ڈے سیریز میں بھی میزبان ٹیم کے ہاتھوں 0-2سے شکست جھیلنی پڑی تھی۔ پاکستان کی ٹیم میں اگرچہ کسی بھی ٹیم کو شکست دینے کی صلاحیت ہے۔ٹیم کے لئے پریکٹس میچوں میں کارکردگی مثبت رہی جہاں اس نے بنگلہ دیش اور انگلینڈ کے خلاف اپنے دونوں میچ جیتے،انگلینڈ کے خلاف کپتان مصباح نے 91رنز کی اننگز کھیلی تھی۔دوسری طرف ہندوستان کو غیر پریکٹس میچ میں آسٹریلیا کے ہاتھوں کراری شکست جھیلنی پڑی جبکہ اس نے افغانستان کو شکست دی۔عالمی کپ میں ہندوستان کے خلاف گزشتہ پانچوں میچ گنوانے کی وجہ سے اگرچہ پاکستان کچھ دباؤ میں ہوگا۔ہندوستان کی جانب سے اجنکیا رہانے مسلسل رن بنانے میں کامیاب رہے ہیں جبکہ روہت شرما نے افغانستان کے خلاف 150رنز کی اننگز کھیل کر دکھایا کہ وہ فٹ ہیں اور اپنے پہلے عالمی کپ میں رنز کے بھوکے ہیں۔
سہ رخی سیریز کے بعد پریکٹس میچوں میں بھی کوہلی کے زیادہ رنز نہیں بنا پانے سے ہندوستان کا مشکلات بڑھی ہیں۔ہندوستان کے لئے ان کا فارم اہم ہے اور دھونی نہیں چاہیں گے کہ اہم مواقع پر ان کا بہترین بلے باز ناکام رہے۔ہندوستان کی سب سے بڑی فکر اگرچہ اس کی گیند بازی ہے جو گزشتہ ڈھائی ماہ میں کافی خراب رہی ہے۔ایشانت شرما چوٹوں سے پریشان رہے جبکہ بھونیشور کمار بھی ٹخنوں کی چوٹ کے بعد واپسی کرتے ہوئے فارم حاصل کرنے میں ناکام رہے جس سے محمد سمیع اور امیش یادو پر ہندوستان کا انحصار بڑھ گیا ہے۔یہ دونوں تیز گیند بازی کرنے کے قابل ہیں لیکن ڈسپلن کی کمی ہے۔اسٹورٹ بننی نے اب تک ملے مخصوص مواقع میں اپنی بہترین کوشش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن بڑی ٹیموں کے خلاف جیت دلانے کی ان کی صلاحیت پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔اسپنروں میں روندر جڈیجہ اور اکشر پٹیل کی صلاحیت تقریبا اسی طرح کی ہے لیکن بلے بازی میں جڈیجہ کچھ بہتر نظر آتے ہیں۔پاکستان کے لئے مصباح، یونس خان اور شاہد آفریدی کا تجربہ کار مظاہرہ اہم ہوگا جبکہ باصلاحیت عمر اکمل اور فارم میں چل رہے شعیب مقصود بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔پاکستان کے تیز گیند بازی اٹیک کی قیادت وہاب ریاض اور7 فٹ کے محمد عرفان کی تجربہ کار جوڑی کرے گی جو موافق دن کبھی بھی بلے بازی آرڈر کو تباہ کرنے کے قابل ہیں۔ریاض موہالی میں 2011ورلڈ کپ کی طرح ایک بار پھر ہندوسان کے خلاف پانچ وکٹ حاصل کرنے کے ارادے سے اتریں گے۔ٹیمیں اس طرح ہیں،ہندوستان: مہندر سنگھ دھونی(کپتان)،شیکھر دھون، روہت شرما، اجنکیا رہانے، وراٹ کوہلی، امباتی رائیڈو، سریش رینا، اسٹورٹ بننی، بھونیشور کمار، امیش یادو، موہت شرما، روندر جڈیجہ، روی چندرن اشون، اکشر پٹیل اور محمدسمیع۔پاکستان:مصباح الحق(کپتان)، شاہد آفریدی، احمد شہزاد، ناصر جمشید، حارث سہیل،صہیب مقصود، احسان عادل، یونس خان، عمر اکمل، محمد عرفان، وہاب ریاض، یاسر شاہ، سہیل خان، سرفراز احمد اور راحت علی۔

...


Advertisment

Advertisment