Today: Thursday, November, 15, 2018 Last Update: 03:30 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

عالمی کپ کے پہلے مقابلہ میں نیوزی لینڈ ۔سری لنکاہونگے مدمقابل


اعتماد سے لبریز نیوزی لینڈ کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں ملنگا
ورلڈ کپ سے قبل مکمل طور پر نکھر گئے ہیں نیوزی لینڈ کے کپتان میک کولم
کرائسٹ چرچ13فروری(آئی این ایس انڈیا)اعتماد سے لبریز نیوزی لینڈ اور تال میل کی تلاش میں لگی سابق چمپئن سری لنکا کل یہاں کرکٹ ورلڈ کپ کے ابتدائی میچ میں آمنے سامنے ہوں گے۔آسٹریلیا کے ساتھ ورلڈ کپ کی شریک میزبانی کر رہے نیوزی لینڈ نے اس ٹورنامنٹ سے قبل ون ڈے سیریز میں سری لنکا کے خلاف 4-2سے جیت درج کی تھی جبکہ پریکٹس میچ میں جنوبی افریقہ کو شکست دے کر اس نے اچھی تیاری کا ثبوت پیش کیا۔دوسری طرف نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد سری لنکا کو پریکٹس میچ میں کمزور سمجھے جانے والے زمبابوے کے ہاتھوں بھی شکست جھیلنی پڑی لیکن ان تمام میچوں میں وہ اپنے بڑے فاسٹ بولر لستھ ملنگا کے بغیراترا۔سری لنکا کے کپتان انجیلو میتھیوز کے مطابق ملنگا کا’ایکس فیکٹر‘ فرق پیدا کرے گا۔نیوزی لینڈ کے سینئر بلے بازراس ٹیلر نے ملنگا کو کرکٹ کا سب سے بہترین آخری اوورز کا گیندباز قرار دیا ہے۔ٹخنوں کی چوٹ کی وجہ سے6 ماہ بعدواپسی کر رہے ملنگا کی موجودگی کے باوجود نیوزی لینڈ کو کل کے میچ میں مضبوط دعویدار مانا جا رہا ہے۔گزشتہ ایک سال میں نیوزی لینڈ کافی متوازن ٹیم بن گئی ہے اور مارٹن گپٹل اور میک کولم کی سلامی جوڑی کی مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرنے کے باوجود ٹیم فکر مند نہیں ہے۔کوچ مائیک ہیسن کا خیال ہے کہ اگر یہ ناکام رہتے ہیں تو یہ نچلے آرڈر میں کسی اور بلے باز کے لئے موقع ہوگا۔تیسرے اور چوتھے نمبر پر بلے بازی کرنے والے کین ولیمسن اور ٹیلر شاندار فارم میں ہیں جبکہ لیوک روچی نے سری لنکا کے خلاف ناٹ 170رن کی اننگ کھیلی تھی۔اس کے علاوہ آل راؤنڈر کوری اینڈرسن اور گرانٹ ایلیٹ بھی تال میں ہیں۔ٹیم کے پاس ٹم ساؤتھی، ٹرینٹ بولٹ، کائل ملز، آدم ملنے اور مشیل میکلیناگھن کے طور پر تیز گیند بازی میں کافی اختیارات موجود ہیں جبکہ ا سپن بولنگ کا دار و مدار ڈینل ویٹوری اور ناتھن میک کولم کے کندھوں پر ہوگا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سری لنکا کو ملنگا کی سخت ضرورت ہے جو اپنی درست بولنگ سے کسی بھی ٹیم کو منہدم کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ سری لنکا کے پاس مہیلا جے وردھنے، کمار سنگاکارا اور تلک رتنے دلشان کے طور پر تجربہ کار بلے باز ہیں۔سال 1996کا فاتح اور 2007اور 2011میں گزشتہ دو ٹورنامنٹوں کا رن اپ سری لنکا جب تال میں ہوتا ہے تو اس کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہوتا لیکن ملنگا کے بغیر ایسا نہیں ہو پا رہا ہے۔میتھیوز ملنگا کو سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے درمیان فرق کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سری لنکا کو سنگاکارا سے ایک بار پھر اچھی کارکردگی کی امید ہوگی جو 2014میں سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز رہے ہیں۔لاہرو تھرمانے، دمتھ کروارتنے اور دنیش چاندیمل سری لنکا کی بلے بازی کو گہرائی فراہم کرتے ہیں لیکن یہ تمام حال میں ایک ساتھ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ملنگا اور اسپنر رنگنا ہیراتھ کپتان میتھیوز کے ساتھ گیند بازی اٹیک کی قیادت کریں گے جبکہ درمیان کے اووروں میں گیند بازی کی ذمہ داری جیون مینڈس، تشارا پریرا اور نوان کلشیکھرا پر ہوگی۔
دوسری جانب نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے خلاف مقابلے کے ساتھ کل سے یہاں شروع ہو رہے کرکٹ عالمی کپ میں میزبان ٹیم کے برینڈن میک کولم کو بلے باز اور کپتان کے طور پر مکمل نکھار کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔گزشتہ 14ماہ میں بلے سے شاندار کارکردگی نے انہیں دنیا کے بہترین بلے بازوں کے درمیان جگہ دلائی ہے۔انہوں نے ون ڈے اور ٹی 20کے علاوہ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی بے مثال مظاہرہ کیا ہے۔وہ 2014میں ٹیسٹ کرکٹ میں تہری سنچری جڑنے والے نیوزی لینڈ کے پہلے بلے باز بنے۔میک کولم نے اس کے علاوہ 2014میں دو ڈبل سنچری بھی بنائی جس سے وہ ایک کیلنڈر سال میں نیوزی لینڈ کی جانب سے سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز بھی بنے۔اتنا ہی نہیں ان کی قیادت میں نیوزی لینڈ نے کئی ریکارڈ بناتے ہوئے ایک سال میں سب سے زیادہ پانچ ٹیسٹ میں جیت بھی درج کی۔ان شاندار کامیابیوں سے کولم کے اندر زیادہ تحمل اور ضبط آیا ہے اور وہ زیادہ خطرناک بلے باز بن گئے ہیں۔سری لنکا کے خلاف میچ کے موقع پر میک کولم سے جب پوچھا گیا کہ 2003میں اپنا پہلا ورلڈ کپ کھیلنے والا برینڈن میک کولم موجودہ برینڈن میک کولم سے کتنا مختلف ہوگا ؟تو انہوں نے کہا کہ امید کرتا ہوں کہ کافی مختلف ہوگا۔میک کولم نے کہا کہ جب میں کافی نوجوان تھا تو میں نے کافی دورے نہیں کئے تھے اور مجھے اپنے کھیل کی سمجھ بھی نہیں تھی،مجھے لگتا ہے کہ میں زیادہ نکھراہوں اور میرے اندر جس ٹیم میں میں کھیل رہا ہوں اس کی زیادہ سمجھ ہوئی ہے،ٹیم میں میری حیثیت اور زندگی میں میری حیثیت کی سمجھ بھی۔انہوں نے کہا کہ 2003میں میں نے باہر بیٹھ کر مقابلے دیکھے تھے اور کل مجھے ٹیم کی قیادت کرنے کا موقع ملے گا جو کافی دلچسپ ہوگا،امید کرتا ہوں کہ اب میں بہتر کرکٹر اور بہتر انسان ہوں۔کلم کو اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان کی انفرادی کامیابی اور حال میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کی کامیابی آپس میں منسلک ہے۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment