Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 10:23 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

سلامی بلے بازوں پر منحصر ہوگا یہ ورلڈ کپ:عامر سہیل

 

نئی دہلی11فروری(آئی این ایس انڈیا)پاکستان کے عظیم سلامی بلے باز اور چیف سلیکٹر عامر سہیل کا خیال ہے کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں اس ہفتے شروع ہو رہا ورلڈ کپ کافی حد تک سلامی بلے بازوں پر انحصار کرے گا اور نئے قوانین کے تحت وہاں کی پچوں پر کھیلنا چیلنج ہوگا۔پاکستان کی عالمی کپ 1992میں خطابی جیت کے ہیرو میں رہے سہیل نے 10میچوں میں 326رنز بنائے تھے۔سعید انور کے ساتھ پاکستان کی بہترین سلامی جوڑی کا حصہ رہے سہیل نے کہا کہ بلے بازی میں اچھی شروعات کرنے والی ٹیم ٹورنامنٹ میں آگے تک جائے گی۔انہوں نے کراچی سے انٹرویو میں کہا کہ یہ ورلڈ کپ بہت حد تک سلامی بلے بازوں پر منحصر ہوگا جنہیں ٹیم کی کارکردگی کی سمت طے کرنی ہوگی۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی پچوں پر دو نئی گیند کا سامنا کرنا کافی چیلنج ہو گا اور یہ صحیح معنوں میں ان کا امتحان ہو گا۔یہ پوچھنے پر کہ کس ٹیم کے پاس بہترین سلامی بلے باز ہیں؟ انہوں نے آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کا نام لیا۔انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ بہترین فارم میں ہیں اور ان کے پاس بہترین سلامی جوڑی بھی ہے۔آسٹریلیا کیلئے اننگز کا آغاز شاندار فارم میں چل رہے ڈیوڈ وارنر اور آرون فنچ کریں گے جبکہ جنوبی افریقہ کے پاس ہاشم آملہ اور کٹون ڈکاک کے طور پر قابل اعتماد سلامی جوڑی ہے۔سہیل نے یہ بھی کہا کہ برصغیر سے کسی ٹیم کا سیمی فائنل میں پہنچنا انہیں اس بار مشکل لگ رہا ہے اور ہندوستان کی راہ میں رکاوٹ اس کی کمزور بولنگ ہوگی۔سہیل نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کا سیمی فائنل میں پہنچنا طے لگ رہا ہے،چوتھی ٹیم انگلینڈ ہو سکتی ہے۔ہندوستان کے پاس بھی موقع ہو سکتا ہے بشرطیکہ اس کے گیند باز بہتر کارکردگی کریں کیونکہ بولنگ ہندوستان کی سب سے کمزور کڑی ہے۔سہیل نے کہا کہ بائیں ہاتھ کی دو اسپنروں کو لے کر عالمی کپ کھیلنے کا ہندوستانی ٹیم مینجمنٹ کا فیصلہ ان کی سمجھ سے باہر ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ بائیں ہاتھ کے دو اسپنروں کو لے کر آسٹریلوی پچوں پر فائدہ ملے گا،انہیں ایک دائیں ہاتھ کا لیگ اسپنر منتخب کرنا چاہیے تھا۔انہوں نے پاکستان کے فٹنس مسائل پر تشویش ظاہر کی لیکن کہا کہ اس کے باوجود اس کی مضبوط بولنگ کے دم پر ٹیم آخری چار تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔تیز گیند باز جنید خان کے بعد آل راؤنڈر محمد حفیظ بھی چوٹ کی وجہ سے ورلڈ کپ سے باہر ہو گئے جبکہ فاسٹ بولر سہیل خان بنگلہ دیش کے خلاف پریکٹس میچ میں زخمی ہو گئے۔سہیل نے کہا کہ پاکستان سنگین فٹنس مسائل کا شکار ہے لیکن اس کے باوجود بالنگ میں کافی گہرائی ہے اور مخالف ٹیم کو سستے میں آؤٹ کرکے ٹیم اپنا مقام طے کر سکتی ہے۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 15فروری کو ہونے والے پہلے میچ کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ اس میچ میں سابقہ ریکارڈ معنی نہیں رکھے گا اور مہندر سنگھ دھونی کی ٹیم پر مزید دباؤ ہو گا۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان زیادہ دباؤ میں رہے گا کیونکہ وہ دفاعی چمپئن ہے جبکہ پاکستان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے۔گزشتہ سال ایشیا کپ میں بھی ہندوستان کو مضبوط دعویدار مانا جا رہا تھا لیکن پاکستان نے اسے شکست دی تھی۔ گزشتہ سال دو مارچ کو ایشیا کپ کے اہم میچ میں پاکستان نے ہندوستان کو ایک وکٹ سے شکست دی تھی۔انہوں نے کہا کہ ٹورنامنٹ میں مثبت سوچ کامیابی کی کلید ہوگی اور کپتانوں کو مسلسل اپنے گیند بازوں کی ہوصلہ افزائی کرنی ہوگی تاکہ وہ وکٹ لے سکیں،وکٹ لینے سے ہی میچ جیتے جائیں گے۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment