Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 10:53 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

ہندوستان اب بھی اپنے آخری الیون کا فیصلہ نہیں کر پایا ہے:بیدی

 

خطاب بچانا ہے تو گیند بازوں کو دکھانا ہوگا دم :سریناتھ

نئی دہلی5فروری(آئی این ایس انڈیا)ورلڈ کپ کرکٹ کو شروع ہونے میں اب جبکہ دس دن سے بھی کم وقت بچا ہے تب اپنے زمانے کے بڑے اسپنر بشن سنگھ بیدی کا خیال ہے کہ ہندوستان نے اب بھی اپنی اہم ٹیم کی شناخت نہیں کی اور چوٹوں سے نمٹنے کی کاروائی دیر سے شروع کی۔زخمی روہت شرما، بھونیشور کمار، روندر جڈیجہ اور ایشانت شرما کا7 فروری کو ٹیسٹ ہوگا۔اس کے ایک دن بعد ہی موجودہ چمپئن ٹیم کو آسٹریلیا کے خلاف پریکٹس میچ کھیلنا ہے۔بیدی نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ان چیزوں پر بہت دیر سے غور کیا،بیدی نے کہا کہ ہندوستانی ٹیم گزشتہ ڈھائی ماہ سے آسٹریلیا میں ہے لیکن وہ اب بھی اپنی بنیادی ٹیم کا فیصلہ نہیں کر پائی ہے۔5 یا6 کھلاڑی ٹیم کی بنیاد ہوتے ہیں اور ان کا ہر میچ میں کھیلنا طے ہوتا ہے۔مجموعے میں تبدیلی یا کسی کھلاڑی کو آرام دینے کیلئے ایک یادو تبدیلی ہو سکتی ہے لیکن مجموعی طور6 یا7 کھلاڑیوں کو مسلسل کھیلنا چاہئے اور ایسا ابھی تک نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ کھلاڑیوں کا فٹنس ٹیسٹ اتنی دیر میں کیوں کیا جا رہا ہے۔آپ پریکٹس میچ سے ایک دن پہلے کھلاڑیوں کا فٹنس ٹیسٹ کر رہے ہو،آپ نے بہت دیر کر دی،ایسا کافی پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔اس سابق ہندوستانی کپتان نے کہا کہ ان کی جائز شکایت کچھ کھلاڑیوں کا دیر سے فٹنس ٹیسٹ کرانے کو لے کر ہے۔بیدی نے تسلیم کیا کہ آسٹریلیا میں پہلے ٹیسٹ اور بعد میں سہ رخی سیریز میں لچر کارکردگی کی وجہ سے ٹیم کیلئے واپسی کرنا مشکل ہوگا۔ان کا ماننا ہے کہ ٹیم کو اب خود اعتمادی بڑھانی ہوگی جو کہ ان کے مطابق اب کھلاڑیوں میں بہت کم نظر آرہی ہے۔خود اعتمادی مکمل طور پر انفرادی کوشش ہوتی ہے،خود اعتمادی کا مطلب آپ خود کو اپنی نظروں میں کیسا پاتے ہیں،لوگوں، میڈیا، کوچ یا کپتان کی نظروں میں نہیں۔بیدی نے کہا کہ یہ تبھی ہوگا جب کہ آپ کچھ اچھا کریں گے اور ایسا ابھی تک نہیں ہوا ہے۔ خوداعتمادی کافی کم ہے اور میں اس کو لے کر فکر مند ہوں،عزت نفس بڑھانے کیلئے بڑی نفسیاتی رکاوٹ پار کرنی ہوتی ہے۔ہندوستانی اسپن کوآرٹیٹ کے رکن رہے بیدی نے کہا کہ ہندوستان کو پاکستان کے خلاف اپنے مشہور میچ پر زیادہ توجہ نہیں دینی چاہئے اور اس کے بجائے موجودہ چمپئن کو بڑی سطح پر سوچنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی حال میں کافی کم کامیابی ملی ہے۔ہندوستان کی طرف سے 22ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کرنے والے بیدی نے اس کے ساتھ ہی کہا کہ ورلڈ کپ کھلا ہوا ہے اور فاتح کے بارے میں پیشن گوئی کرنا مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ آخری 4 یا فاتح کی پیشن گوئی کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ کافی کھلا ورلڈ کپ ہے۔یہ ورلڈ کپ کا سب سے زیادہ دلچسپ حصہ ہے کہ یہ کھلا ہوا ہے،کم سے 5 یا6 ٹیمیں دوڑ میں ہیں۔ بیدی نے کہا کہ آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، ہندوستان ، انگلینڈ تمام خطاب کی دوڑ میں ہیں،یہاں تک کہ سری لنکا اور پاکستان کو بھی نہیں انکار کر سکتے ہیں،یہاں تک کہ جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیمیں جنہوں نے اب تک خطاب نہیں جیتا ہے وہ ضرور اسے حاصل کرنے کیلئے زیادہ پرجوش ہوں گی۔
دوسری جانب سابق ہندستانی فاسٹ بولر جواگل سریناتھ نے جمعرات کو کہا کہ اگر دفاعی چمپئن ہندوستانی ٹیم کو خطاب بچانا ہے تو عالمی کپ میں ٹیم کے گیند بازوں کو پورے دم خم کے ساتھ کھیل پیش کرنا ہوگا۔سریناتھ نے یہاں ایک پروگرام میں کھا کہ مجھے لگتا ہے کہ واقعی کھلاڑی اس بار اچھا مظاہرہ کریں گے ۔لیکن ضروری ہے کہ وہ ایک ٹیم کی طرح کھیلیں۔اگر گیندباز اچھا کریں گے تو بلے باز بھی اچھا کر پائیں گے ۔آخر کار بلے بازوں پر بھی بہت ذمہ داری رہتی ہے ۔سابق کرکٹر نے کھا کہ اگر گیندباز اچھا مظاہرہ کریں گے تو ہم خطاب بچانے میں کامیاب رہ سکیں گے ۔ہماری بولنگ ورلڈ کپ میں سب سے اہم ثابت ہوگی۔ہمیں جیتنے کے لیے کم سے کم تین تیز گیند بازوں کی ضرورت ہوگی۔میں امید کر رہا ہوں کہ محمد شمی،بھونیشور کمار، ایشانت شرما اور اسٹورٹ بني ایک ساتھ مل کر ٹیم کیلئے مظاہرہ کریں گے ۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment