Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 01:28 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

ہند پاک عالمی کپ میچ کیلئے دونوں ملکوں کے شائقین میں زبردست جوش و خروش

 

نئی دہلی ، 05 فروری (یو این آئی )کہنے کو تو کرکٹ محض ایک کھیل ہے ، لیکن 15 فروری کو عالمی کپ میں ہندپاک مقابلے کے منتظر کھلاڑیوں اور دونوں کے کروڑوں پرستاروں کے لیے یہ صرف کھیل نہیں ہے ۔عالمی کپ 2015ء میں گروپ بی کے اس مقابلے کے تمام ٹکٹ صرف 20 منٹوں میں فروخت ہوگئے اور اب جبکہ مقابلے کے آغاز میں صرف 11 دن رہ گئے ہیں، شاید ہی دنیا میں کوئی اتنے تناؤ کا شکار ہوگا جتنا کہ اس روز ہندستان اور پاکستان کے کھلاڑی اور کروڑوں کرکٹ دیوانے محسوس کریں گے ۔جنوبی ایشیا کے یہ دونوں ممالک جب بھی کرکٹ میدان میں مدمقابل ہوتے ہیں، جذبات عروج پر پہنچ جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ سیاسی نوعیت کی ہے کیونکہ ہندستان اور پاکستان آزادی کے بعد سے اب تک تین مرتبہ جنگ لڑچکے ہیں اور تنازع کشمیر کی وجہ سے ان کے حالات عموماً کشیدہ ہی رہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے اکثر کرکٹ شائقین اس بات کو تو گوارہ کرلیتے ہیں کہ ٹیم عالمی کپ کے اگلے مرحلے تک نہ پہنچے لیکن پڑوسی ملک کے ہاتھوں شکست برداشت نہیں کی جاتی اور اس معاملے میں ہندستان خوش نصیب ہے کہ عالمی کپ کی تاریخ میں جب بھی اس کا مقابلہ پاکستان سے ہوا ہے ، جیت اس کی ہی ہوئی ہے ۔یہ ہند پاک رقابت گویا دنیائے کرکٹ کی سرد جنگ ہے کہ جہاں گولیوں کا تبادلہ تو نہیں ہوتا لیکن حالات بالکل جنگ جیسے ہی نظر آتے ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اپنی تیز رفتاری کے لیے مشہور اورراولپنڈی ایکسپریس کے نام سے معروف گیندباز شعیب اختر نے دہلی میں ایک کرکٹ محفل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اکثریت کے لیے یہ مقابلہ عالمی کپ سے بھی بڑا ہوتا ہے اور ایک ارب سے زیادہ افراد کے ذہنوں سے کرکٹ کے سوا سب کچھ محو ہوجاتا ہے ۔ ہم عالمی کپ مقابلوں میں کبھی ہندستان کو نہیں ہرا پائے ہیں لیکن جلد ہی پاکستان کو جیت نصیب ہوگی۔ہربھجن سنگھ کئی ہند پاک مقابلوں میں ہندستان کی نمائندگی کر چکے ہیں بلکہ 2011ء کے عالمی کپ سیمی فائنل میں پاکستان کے خلاف ہندستان کی تاریخی جیت کا اہم حصہ تھے ۔ بھجی کا کہنا ہے کہ عالمی کپ سے پہلے سخت ذہنی دباؤ کی وجہ سے کئی راتیں نیند نہیں آئی تھیں۔ مقابلے کے دوران ڈریسنگ روم کا ماحول بہت کشیدہ ہوتا ہے ۔ بلکہ میچ سے پہلے ہوٹل کے کمرے میں بھی آپ صرف مقابلے ہی کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں۔پچھلے عالمی کپ میں پاکستان کے خلاف سیمی فائنل سے پہلے میں پوری رات سو نہیں سکا تھا کیونکہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اگر ہم ہار گئے تو کیا ہو گا۔ لیکن خوش قسمتی تھی، ہم جیت گئے اور اس کے بعد خوشی سے ساری رات نیند نہیں آئی۔2011ء کے عالمی کپ کے لیے ہندستان کے دستے میں شامل اسپنر پیوش چاؤلہ نے کہا کہ تناؤ محض ٹیم انتظامیہ کی جانب سے ہی نہیں بلکہ باہر سے بھی آتا ہے حتیٰ کہ ہمارے خاندان کے افراد اور دوست بھی ہمیں یہ یاد دلاتے رہتے ہیں کہ یہ پاکستان کے خلاف مقابلہ ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ باؤنڈری کے پاس فیلڈنگ کرتے وقت آپ کو پیچھے مجمع سے دھمکیاں آ رہی ہوتی ہیں کہ یہ میچ تمہیں ہر حال میں جیتنا ہے ، نہیں تو اسٹیڈیم سے باہر جانا تمہارے لیے آسان نہیں ہو گا۔اب ہندستان اور پاکستان کے کھلاڑی اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ ذہنی برداشت کے بھی امتحان سے گزریں گے اور خوش کن امر یہ ہے کہ دونوں ٹیمیں اپنا پہلا مقابلہ ہی آپس میں کھیل رہی ہیں یعنی جو جیتے گا، اس کے حوصلے بلند ہوجائیں گے اور یہ جیت آئندہ مقابلوں کے لیے محرک ثابت ہوگی۔
 

...


Advertisment

Advertisment