Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 12:38 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

ہندوستانی ٹیم میں تسلسل کا فقدان:وینکٹ راگھون

 

چنئی5فروری(آئی این ایس انڈیا) سابق ہندوستانی کپتان شری نواسن وینکٹ راگھون کا خیال ہے کہ ورلڈ کپ سے پہلے مہندر سنگھ دھونی کی ٹیم مسلسل ایک جیسا مظاہرہ نہیں کر پائی ہے اور اس کے علاوہ انہوں نے کمزور سلامی جوڑی کو لے کر بھی فکر جتائی۔ ہندوستان کا کرکٹ کے عالمی میلے سے پہلے انجام اچھا نہیں رہا اور وہ حال میں آسٹریلوی سرزمین پر ایک بھی میچ جیتنے میں ناکام رہی۔ورلڈ کپ 1975اور 1979میں ہندوستانی ٹیم کے کپتان رہے وینکٹ راگھون نے کہا کہ ہندوستان کی موجودہ ٹیم میں تسلسل کا فقدان ہے،سب سے اہم عنصر ٹاپ یا مڈل آرڈر کی بلے بازی یا گیند بازی ہے،مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا کامیابی کی کلید ہے،ہندوستانی ٹیم میں اس کا فقدان ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ ٹاپ آرڈر میں ہمارے پاس مستحکم مجموعہ نہیں ہے،ون ڈے کرکٹ میں یہ ضروری ہے،مجموعی طور اچھی اور ٹھوس شروعات چاہئے،تسلسل کے فقدان کے بارے میں وینکٹ راگھون نے کہا کہ وہ خود کو مکمل طور پر کھیل میں نہیں جھونک پا رہے ہیں،ان کی ذہنیت میں اس کا فقدان نظرآتا ہے،ان میں ترغیب ہو سکتی ہے،وہ تمام کھیلنے کیلئے پرجوش ہیں لیکن انہیں میدان پر مظاہرہ کرکے دکھانا ہوگا۔
آئی سی سی ایلیٹ پینل کے امپائر رہ چکے اور ایشز اور ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں امپائرنگ کرنے والے وینکٹ راگھون کا خیال ہے کہ ہندوستان چوتھی ٹیم کے طور پر آخری چار میں جگہ بنا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ انگلینڈ کو دوڑ سے باہر نہیں مان سکتے،وہ بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں،اگرچہ وہ بھی ہندوستان کی طرح میچ کا مثبت اختتام نہیں کر پا رہے ہیں،جنوبی افریقی بھی چوکرس ہیں۔وینکٹ راگھون کی قیادت میں ہندوستان 1975اور 1979میں لیگ مرحلہ سے آگے نہیں بڑھ پایا تھا،اسے یہاں تک کہ سری لنکا سے بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ٹیم کے توازن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ورلڈ کپ سے پہلے آسٹریلیا کے طویل دورے کا فائدہ مل سکتا ہے۔وینکٹ راگھون نے کہا کہ یہ کافی ناتجربہ کار ٹیم ہے،اچھی بات یہ ہے کہ انہیں آسٹریلیا میں کھیلنے کا تجربہ مل گیا ہے۔انھوں نے وہاں مختلف مقامات پر تقریبا تمام پچوں پر کھیل لیا ہے لیکن نیوزی لینڈ میں کھیلنا بالکل مختلف بات ہوگی جہاں کے وکٹ آسٹریلیا سے مکمل طور پر مختلف ہیں اس لئے انہیں ان دو ممالک میں حالات سے مصالحت بٹھانا ہوگا،میں اجنکیا رہانے سے کافی متاثر ہوں لیکن افسوس ہے کہ شیکھر دھون توقعات پر کھرا نہیں اتر رہا ہے،ہمارے پاس سریش رینا، روہت شرما اور وراٹ کوہلی ہے۔وراٹ اہم کھلاڑی ہے اور وہ دبدبہ بنا سکتا ہے،اس لئے مڈل آرڈر مضبوط نظر آتا ہے۔وینکٹ راگھون نے دھونی کی بلے بازی اور کپتانی کو لے کر مثبت رویہ اپنایا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کپتان جوشیلا اور تجربہ کار ہے،انہوں نے ہر وقت خود کو ثابت کیا ہے۔اس سابق آف اسپنر کے مطابق ہندوستان کی سب سے بڑی فکر بالنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ بالنگ قابل تشویش ہے،ہمارے درمیانے رفتار کے گیندباز مسلسل اچھی لائن اور لینتھ سے گیند بازی نہیں کر پا رہے ہیں،وہ اچھال اور شارٹ پچ گیندوں پر منحصر ہیں،آسٹریلوی بلے بازوں یا کسی کو بھی ایسی گیندوں سے پریشانی نہیں ہوتی۔وینکٹ راگھون نے کہا کہ ہمیں فیلڈنگ کے ذریعے اپنے گیند بازوں کی مدد کرنی ہوگی،ہمیں اپنے فیلڈنگ میں بہتری کرنا ہوگا،اگر آپ 1983کو یاد کرو تو کپل دیو کے مڈ وکٹ پر لئے گئے ایک شاندار کیچ نے پوری کہانی بدل دی تھی،اس لئے اچھی فیلڈنگ سے یقینی طور پر میچ جیتے جا سکتے ہیں اور اس سے گیند بازوں کو بھی مدد ملے گی۔وینکٹ راگھون کا خیال ہے کہ آسٹریلیا کے بڑے میدانوں پراسپنربھی اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اسپنروں کو آسٹریلیا کے بڑے میدانوں پر اچھا کردار ادا کرناہوگا،پچوں کے حالات کو دیکھتے ہوئے ہم دو اسپنروں کے ساتھ کھیل سکتے ہیں،نیوزی لینڈ میں مختلف طرح کی صورتحال ہوگی،وہاں پچوں پر ہریالی ہوگی اور اس سے مدد ملے گی،ایسے حالات میں بھونیشور کمار اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔وینکٹ راگھون نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس ٹیم میں صلاحیت ہے۔ہندوستان کا سیمی فائنل میں پہنچنے کا اچھاامکان ہے۔روہت شرما اور وراٹ کوہلی کو مسلسل بڑے اسکور بنانے ہوں گے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment