Today: Wednesday, September, 26, 2018 Last Update: 10:23 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

عامر کھلاڑیوں کیلئے ایک مثال:آئی سی سی

 

محمد عامر کی کرکٹ میں واپسی کے خلاف عدالت میں عذرداری
دوبئی،3 فروری (یو این آئی)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کہا ہے کہ پاکستانی بالر محمد عامر کو اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں سزا کے بعد واپسی کی اجازت سے بد عنوان کھلاڑیوں کے اندر خود کو شفاف بنانے اور کھیل کے اصولوں پر عملدرآمد کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ محمد عامر سمیت سلمان بٹ اور محمد آصف پر 2010 میں پاکستان کے دورہ انگلینڈ کے موقع پر اسپاٹ فکسنگ کیس سامنے آنے کے بعد پابندی لگا دی گئی تھی۔ ان تینوں کو برطانیہ میں جیل بھی کاٹنا پڑی اور آئی سی سی ٹربیونل نے کھیل کے میدان میں ان کی واپسی پر کم از کم پانچ سال تک پابندی لگا دی تھی۔ محمد عامر کی پانچ سالہ پابندی رواں برس دو ستمبر کو ختم ہو رہی ہے مگر آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ (اے سی ایس یو) کے چیئرمین رونی فلینگن نے اپنے فیصلے میں نرمی لاتے ہوئے پاکستانی کرکٹر کو ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کی اجازت دے دی جس کا اطلاق جمعرات سے شروع ہو رہا ہے ۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ رچرڈسن نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ کھیل کی ساکھ بگاڑنے والے کھلاڑیوں کی واپسی کے لیے ایک سہولت رکھی گئی ہے اور یہ مت بھولیں کہ عامر بین الاقوامی کرکٹ سے پانچ سال تک دور رہے جو کہ کسی کے آدھے کیرئیر کے برابر عرصہ ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر کھلاڑی پانچ سال کی پابندی کے بعد بین الاقوامی سطح پر کھیلنے کے قابل نہیں رہتے ۔ اپنے آغاز میں محمد عامر کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے مستقبل کے لیے بہترین بالر مانا جا رہا تھا اور صرف اٹھارہ سال کی عمر میں وہ لارڈز کے متنازع ٹیسٹ میچ کے دوران پچاس وکٹیں لینے والے نوجوان بالر بن گئے تھے ۔ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ میں نظر ثانی کے بعد اب پابندی کے شکار کھلاڑی اپنا عرصہ ختم ہونے سے پہلے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے لیے اپیل کر سکتے ہیں۔ ڈیوڈ رچرڈسن کا کہنا تھا کہ عامر کے کیس میں اس نے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کو تسلیم کیا اور اس کے بعد ہر وہ کوشش کی جس سے وہ تمام چیزوں کو بیان کر سکے تاکہ اے سی ایس یو کو پاکستانی کرکٹر کے ایجوکیشن پروگرام میں مدد مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں عامر نے ایسے کھلاڑیوں کے لیے اچھی مثال قائم کی ہے جو ماضی میں اس طرح کے معاملات میں ملوث رہنے پر پچھتا رہے ہیں اور یہ ان کی کرکٹ میدانوں میں واپسی کا راستہ بھی ہے ۔
دوسری جانب اسپاٹ فکسنگ کے جرم میں سزا یافتہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر پر تاحیات پابندی عائد کرنے کے حوالے سے پاکستان کی ایک اعلیٰ عدالت سے رجوع کر لیا گیا ہے ۔سندھ ہائی کورٹ میں پیر دو فروری کے روز ایک درخواست جمع کرائی گئی ہے ، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان اور کرکٹ کی ساکھ کو تباہ کرنے والے اس بائیس سالہ بولر پر تاحیات پابندی لگائی جائے ۔درخواست گزار وکیل رانا فیض اللہ حسن نے کہا کہ عامر نے پاکستان کی عزت پر دھبہ لگایا ہے ۔ اس پر فکسنگ کے الزامات ثابت ہوئے ہیں اور اگر اسے دوبارہ کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی گئی تو وہ پھر یہی کام کرے گا۔سندھ ہائی کورٹ نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے نائب اٹارنی جنرل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور اس کیس کی پہلی باقاعدہ سماعت سولہ فروری کو کی جائے گی۔محمد عامر، سابق ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولر محمد آصف اسپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے یہ امر اہم ہے کہ ابھی گزشتہ ہفتے ہی بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے انسداد بدعنوانی یونٹ نے محمد عامر کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی تھی۔ اس قدم کو محمد عامر کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کا پہلا اور اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے ۔تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق محمد عامر کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کا انحصار نہ صرف اس کی کارکردگی پر ہو گا بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ میدان سے باہر اس کا رویہ کیسا ہے ۔محمد عامر ان تین پاکستانی کھلاڑیوں میں سے ایک تھے ، جنہیں اسپاٹ فکسنگ کے الزامات ثابت ہو جانے پر نہ صرف جیل کاٹنا پڑی تھی بلکہ ان کے کرکٹ کھیلنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ دیگر دو کھلاڑی سابق ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولر محمد آصف تھے ۔ان تینوں کو 2011ء میں برطانیہ کی ایک عدالت نے سزائے قید سنائی تھی۔محمد عامر پر پانچ سال کے لیے پابندی لگائی گئی تھی، جو رواں برس دو ستمبر کو ختم ہو رہی ہے ۔ تاہم محمد عامر کے تعاون اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوششوں کی وجہ سے بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے انہیں اس پابندی کے ختم ہونے سے قبل ہی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی۔محمد عامر نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی وجہ سے کرکٹ اور پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے لیکن وہ دنیائے کرکٹ میں واپسی کے بعد اپنی کارکردگی کے باعث ناراض شائقین اور مداحوں کو منا لیں گے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس غلطی سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے اور اب وہ دوبارہ کبھی کوئی ایسا کام نہیں کریں گے ، جس سے کرکٹ بدنام ہو۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment