Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 11:02 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

کرکٹ کے نظریہ سے ہندوستان کے پاس 25فیصدامکان :کپِل


نئی دہلی،02 فروری (یو این آئی) عالمی کپ فاتح کپتان کپِل دیو کا کہنا ہے کہ اگر جذباتی نظریہ سے دیکھیں تو ہندوستان کے پاس ورلڈ کپ میں خطاب برقرار رکھنے کا 99 فیصد موقع ہے لیکن اگر خالصتا کرکٹ کے نظریہ سے دیکھیں تو ہندوستان کے پاس 25 فیصد ہی موقع ہے ۔کپِل نے پیر کو یہاں یو این ٓئی سے کھا کہ ھر ہندوستانی کی طرح میں بھی امید کرتا ہوں کہ ہندستان 14 فروری سے آسٹریلیا اورنیوزی لینڈ میں شروع ہونے والے ورلڈ کپ میں اپنا خطاب برقرار رکھ سکے گا۔لیکن آپ کو یہ خیال رکھنا ہوگا کہ ہندستانی کھلاڑیوں کو اس عالمی کپ میں اپنی اہمیت خود بنانی ہوگی ۔ 1983 میں ہندوستان کو پہلی بار عالمی چیمپئن بنانے والے کپل نے کھا کہ اس سے کبھی موازنہ نہیں کیا جا سکتا کہ آپ پچھلے عالمی کپ فاتح ٹیموں اور موجودہ ٹیم کا کوئی موازنہ نہیں کر پا تے ۔موجودہ کھلاڑیوں کو اپنا مقام خود تلاش کرنا ہوگا۔ ہندستانی کھلاڑیوں میں یقینی طور پر صلاحیت ہے ۔لیکن آپ کو غلطیاں دہرانے سے بچنا ہوگا ۔ کپِل نے کھا کہ موجودہ آسٹریلیا دورہ میں ٹیم ایک بھی میچ نہیں جیت پائی ہے اور کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ خراب فارم طویل عرصے تک جاری رہتی ہے ۔لیکن اس ٹیم نے اس خراب فارم سے باہر نکلنے اور فاتحانہ مظاہرہ کرنے کی صلاحیت ہے ۔میں مثبت سوچ رکھنے والا شخص ہوں اور میں یہی سمجھتا ہوں کہ اگر آپ اچھا مظاہرہ کریں گے تو خطاب برقرار رکھ پائیں گے ۔ہندستانی امکانات پر کپِل نے دو ٹوک الفاظ میں کھا کہ جذباتی طور پر پوچھیں تو میں کہوں گا 99 فیصد ہندستان خطاب برقرار رکھے گا جبکہ کرکٹ برین سے پوچھیں تو مجھے 25 فیصد موقع ہی نظر آتے ہیں۔لیکن ہمارے پاس پانچ چھ ایسے بلے باز ہیں جو اپنے بل بوتے پر میچ جتا سکتے ہیں ۔ اسٹار بلے باز وراٹ کوہلی کے بلے بازی آرڈر میں تبدیلی کے بارے میں کپِل نے کہا کہ اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ خود وراٹ کو ہی کرنا ہوگا کیونکہ ان سے بہتر کوئی اور نہیں جانتا کہ انہیں کہاں کھیلنا چاہیے ۔ آسٹریلوی دورے میں ٹیم کے ایک بھی میچ نہ جیتنے کے سوال پر سابق کپتان نے کھا کہ اگر ٹیم انڈیا کوئی میچ نہیں جیت پائی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں طاقت نہیں ہے ۔ہندستانی ٹیم کو ایک جیت کی ضرورت ہے جو تمام مساوات بدل دے گی۔جب تک آپ جیتتے نہیں ہیں تو 100 غلطیاں سامنے آتی ہیں لیکن جیتنے پر سب کچھ پیچھے چھوٹ جاتا ہے ۔ ٹیم میں تبدیلی کی بات پر زور دیتے ہوئے کپل نے کہا کہ جب گواسکر کھیلتے تھے تو ہمیں لگتا تھا کہ ان کے بعد کون آئے گا۔لیکن پھر سچن اور دراوڑ آئے ۔سچن کے بعد اب وراٹ آئے ہیں یھي تبدیلی ہے جو ٹیموں میں ہوتی رہتی ہیں۔اگر ایک کھلاڑی کے جانے کے بعد دوسرا اچھا کھلاڑی نہ آئے تو پھر کرکٹ کے معنی کیا رہ جائیں گے ۔ کپتان مہندر سنگھ دھونی کا بھی دفاع کرتے ہوئے کپِل نے کھا کہ دھوني نے ملک کی جو خدمت کی ہے اسے بھلایا نہیں جا سکتا ہے ۔ان کی کپتانی پر کہیں کوئی سوال نہیں ہے ۔عالمی کپ میں ایک اچھی شروعات ہونے سے سب کچھ پٹری پر لوٹ آئے گا ۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment