Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 08:54 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

سنیل نرائن عالمی کپ سے دستبردار


بار بڈوس ، 28 جنوری (یو این آئی) ڈیون برائیو، کیرون پولاٹ جیسے سرکردہ اور تجربہ کار کھلاڑیوں کو باہر رکھے جانے کے بعد ویسٹ انڈیز کو اپنے سرکردہ اسپنر سنیل نارائن کی عالمی کپ میں خدمات سے محروم ہونا پڑا ہے ۔ماضی کے مقابلے میں اسپن بالنگ کا کردار اب بہت زیادہ اہم ہے یہی وجہ ہے کہ ہر طرز کی کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں اسپن گیندبازوں کا راج دکھائی دیتا ہے لیکن عالمی کپ 2015ء میں ہمیں ایک روزہ کرکٹ کے دو بہترین گیندباز نظر نہیں آئیں گے کیونکہ پاکستان کے سعید اجمل معطل ہیں اور اب ویسٹ انڈیز کے سنیل نرائن بھی عالمی کپ سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ماضی کی عظیم کرکٹ طاقت ویسٹ انڈیز کے عالمی کپ کے کوارٹر فائنل تک پہنچنے کے امکانات تو اب بھی کم نہیں ہوئے لیکن ڈیوین براوو، کیرون پولارڈ اور اب سنیل نرائن کے باہر ہوجانے کے بعد اس کی مہم کو بڑا دھچکا ضرور پہنچا ہے ۔سنیل نرائن کو گزشتہ سال چیمپئنز لیگ ٹی 20 کے دوران دو بار مشکوک بالنگ ایکشن کی وجہ سے رپورٹ کیا گیا تھا جس کے بعد وہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی طرف سے ٹورنامنٹ کا فائنل بھی نہیں کھیل پائے تھے ۔ اب گو کہ عالمی کپ سے پہلے وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیل چکے ہیں اور بہترین کارکردگی بھی پیش کی ہے لیکن کہتے ہیں کہ انہیں اس وقت خود پر 100 فیصد یقین اور اعتماد نہیں ہے اور جب تک ان کا اعتماد بحال نہیں ہوگا، وہ بین الاقوامی کرکٹ میں قدم نہیں رکھیں گے ۔سنیل نرائن اپنے بل بوتے پر بالنگ ایکشن کی بحالی کا کام کررہے ہیں، جس میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز ان کے ساتھ ہے اور وہ اب تک کی پیش رفت سے مطمئن بھی ہیں لیکن تشویش اب بھی برقرار ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ میں اپنے مقام اور ذمہ داری سے بخوبی آگاہ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اعتماد کی کمی کے ساتھ انہیں ٹیم پر بوجھ نہیں بننا چاہیے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے اور ویسٹ انڈیز کرکٹ کے مفاد کے لیے بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کو موخر کررہا ہوں اور عالمی کپ سے دستبردار ہو رہا ہوں۔ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ جلد ہی سنیل نرائن کے متبادل کا نام ظاہر کرے گا جو عالمی کپ میں ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرے گا۔عالمی کپ 1992ء میں شریک تمام 9 ٹیموں کو ایک دوسرے کے خلاف کم از کم ایک مقابلہ ضرور کھیلنا تھا۔ 18 مارچ 1992ء کو پہلے مرحلے کا آخری دن تھا اور اس روز تین مقابلے کھیلے گئے جن میں سے دو کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔ پاکستان کو سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات زندہ رکھنے کے لیے نیوزی لینڈ کی اس ٹیم کو شکست دینا تھی، جو اب تک ٹورنامنٹ میں ایک میچ بھی نہیں ہاری تھی اور پھر آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے میچ کا بھی انتظار کرنا تھا کہ جہاں ویسٹ انڈیز کی شکست پاکستان کو سیمی فائنل تک پہنچاتی۔نتائج تو پاکستان کے حق میں آئے لیکن اسی روز کھیلا گیا تیسرا مقابلہ پس منظر میں چلا گیا جو ملبورن کے 350 کلومیٹر دور شمال مشرق میں واقع ایک چھوٹے سے قصبے البری میں کھیلا گیاتھا۔یہاں اس چھوٹے سے میدان میں ایک طرف پہلے مرحلے میں سوائے ایک کے تمام مقابلوں میں فتوحات حاصل کرنے والا انگلینڈ تھا تو دوسری جانب سب ہی مقابلوں میں شکست سے دوچار ہونے والا زمبابوے ۔ اس لیے کسی خاص مقابلے کی توقع تو نہیں تھی لیکن کیونکہ یہ البری میں کھیلا گیا عالمی کپ کا واحد، بلکہ اب تک کھیلا گیا اکیلا، ایک روزہ مقابلہ تھا، اس لیے 8 ہزار تماشائی میدان میں موجود تھے ۔زمبابوے کے لیے ٹورنامنٹ اس وقت تک بہت مایوس کن تھا۔ بحیثیت مجموعی بھی اس کی کارکردگی کچھ خاص نہیں تھی۔ 9 سال کے طویل عرصے میں کھیلے گئے مسلسل 18 ایک روزہ مقابلوں میں اسے شکست ہوئی تھی، یہاں تک کہ اسی عالمی کپ کے دوران سری لنکا کے خلاف 132 رنز کا دفاع بھی نہیں کر سکا تھا۔ اس لیے خدشات و توقعات کے مطابق انگلینڈ کی مضبوط گیندبازی کے سامنے وہ صرف 134 رنز پر ڈھیر ہوگیا۔کپتان ڈیو ہاؤٹن کے 29 اور این بوچارٹ کے 24 رنز ہی تھے جو اسے تہرے ہندسے تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے ، ورنہ این بوتھم اور رے النگورتھ کے سامنے زمبابوے کے بلے بازوں کا حال پتلا تھا۔بہرحال، صرف 135 رنز کا ہدف ایسا دکھائی دیتا تھا کہ انگلینڈ آنکھیں بند کرکے بھی حاصل کرلے گا۔ انگلینڈ کے سابق کپتان اور معروف تبصرہ کار جیفری بائیکاٹ اس مقابلے میں موجود تھے ۔ کھانے کے وقفے کے دوران ان کی ملاقات زمبابوے کے کپتان ڈیو ہاؤٹن سے ہوئی۔ اس دوران بائیکاٹ نے کہا کہ نئی ٹیموں کے ساتھ یہی مسئلہ ہے ، ان کے کھلاڑی اسکوربورڈ کو متحرک رکھنا نہیں جانتے ۔ اب وقفے کے بعد دیکھنا کہ کس طرح پروفیشنل کھلاڑی فیلڈرز کے درمیان کھیل کر ایک، دو رنز لیتے ہیں اور باآسانی مقابلہ جیتتے ہیں۔یعنی بائیکاٹ کو انگلینڈ کی جیت کا اتنا ہی یقین تھا، جتنا کہ کسی بھی کرکٹ شائق کو اس مقابلے کی پہلی اننگز دیکھ کر ہوسکتا تھا۔ لیکن ایڈو برینڈس نے بائیکاٹ کی اس بات کو غلط ثابت کرنا تھا۔ جب انگلینڈ کے تجربہ کار گراہم گوچ اور این بوتھم اننگز کے آغاز کے لیے میدان میں اترے تو یہی برینڈسپہلا اوور پھینکنے کے لیے میدان میں آئے ۔پہلی ہی گیند ایک برق رفتار یارکر تھی جو کپتان گوچ کو ایل بی ڈبلیو کرگئی۔ انگلینڈ کو پہلا دھچکا ضرور پہنچا تھا لیکن بظاہر ایسا لگتا تھا کہ وہ سنبھل گیاہے کیونکہ 32 رنز تک اس کا یہی ایک نقصان ہوا تھا۔ اس مرحلے پر زمبابوے کے گیندباز چھا گئے ۔ ایک سرے سے برینڈس نے ایلن لیمب، رابن اسمتھ اور گریم ہک کی قیمتی وکٹیں سمیٹیں تو دوسرے کنارے سے عمر شاہ نے این بوتھم کو ٹھکانے لگا کر محض 43 رنز پر انگلینڈ کے آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں کی تعداد پانچ کردی۔عالمی کپ کی مضبوط ترین ٹیموں میں سے ایک کو بدترین شکست سامنے دکھائی دے رہی تھی، جب نیل فیئر برادر اور ایلک اسٹیورٹ نے انہیں امید کی آخری کرن دکھائی۔ دونوں بلے بازوں نے ایک لواسکورنگ مقابلے میں 52 رنز کی شراکت داری جوڑی اور اسکورکو 95 تک لے گئے ۔زمبابوے کو اندازہ تھا کہ انہیں صرف اسی شراکت داری کا خاتمہ کرنا ہے ، پھر وکٹ سے مدد حاصل کرتے ہوئے وہ بقیہ کھلاڑیوں کو جلد از جلد ٹھکانے لگا سکتے ہیں۔ پھر وہ لمحہ آیا جس نے زمبابوے کی جیت پر مہر تصدیق ثبت کی۔ عمر شاہ نے ایلک اسٹیورٹ کو آؤٹ کردیااور انگلینڈ کی کمر ٹوٹ گئی۔اسٹیورٹ نے 96 گیندوں پر صرف 29 رنز بنائے جبکہ فیئر برادر 77 گیندوں پر 20 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے ، جو ظاہر کرتا ہے کہ اس زمانے میں ایک روزہ کرکٹ پر ٹیسٹ کی چھاپ کتنی گہری تھی۔بہرحال، انگلینڈ کو آخری 3 اووز میں 23 رنز کی ضرورت تھی جو گھٹ کر آخری اوور میں 10 رنز تک رہ گئے لیکن وکٹ صرف ایک باقی تھی جو آخری اوور کی پہلی ہی گیند پر میلکم جاروس کے ہاتھ لگی اور یوں زمبابوے نے انگلینڈ 125 رنز پر آؤٹ کرکے صرف 9 رنز سے یہ مقابلہ جیت لیا۔کپتان ایڈو برینڈس کو 10 اوورز میں صرف 21 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرا ردیا گیا جبکہ عمر شاہ اور بوچارٹ نے دو، دو کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگایا۔برینڈس نے ٹیم کے ساتھ اس جیت کا بھرپور جشن منایا، ہوسکتا ہے وہ بائیکاٹ کو ڈھونڈنا بھول گئے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کارکردگی سے بائیکاٹ کو بہترین جواب دے دیا تھا۔اس یادگار فتح کی بدولت زمبابوے کو چار ماہ بعد ٹیسٹ کھیلنے کا درجہ بھی ملا اور زمبابوے کرکٹ ایک نئے عہد میں داخل ہوگئی۔

...


Advertisment

Advertisment