Today: Wednesday, September, 26, 2018 Last Update: 09:52 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

پشاور پینتھرس نے لاہور لائنز کو 7 وکٹ سے ہراکر خطاب جیتا

 

لاہور، 29 ستمبر (یو این آئی)غیر معروف اور اسٹار کھلاڑیوں سے مکمل طور پر محروم پیشاور پینتھرس نے فائنل مقابلے میں لاہور لائنز کو سات وکٹ سے شکست دے کر پاکستان کی قومی ٹی۔20 چمپئنز شپ کا خطاب جیت لیا ہے۔ انہوں نے گروپ مرحلے میں فیصل آباد وولفز، اسلام آباد لیپرڈز اور لاہور ایگلز جیسے بڑے حریفوں کو شکست دی اور تمام مقابلے جیتنے کے بعد سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی جہاں اس نے سنسنی خیز میچ کے بعد سیالکوٹ اسٹالینز کو شکست دی اور پھر فائنل میں جامع کارکردگی پیش کرکے لاہور لائنز کو بھی پچھاڑ دیا۔ لاہور لائنز اپنی دوسرے درجے کی ٹیم کے ساتھ ٹورنامنٹ کھیلا کیونکہ اس کے تمام اہم کھلاڑی اس وقت ہندستان میں جاری چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی میں شریک ہیں۔کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے فائنل میں لاہور نے ٹاس جیت کر پہلے خود بلے بازی کا فیصلہ کیا اور تاج ولی کے ایک ہی اوور میں کامران اکمل اور عابد علی کے آؤٹ ہونے کے بعد اس کی اننگز کو ابتداء میں سخت دھچکا پہنچا۔ نوجوان امام الحق نے 41 گیندوں پر 52 رنز کے ساتھ اپنی پوری کوشش کی کہ معاملے کو سنبھالیں لیکن دوسرے اینڈ سے انہیں کسی کا ساتھ میسر نہ آیا۔ کپتان اظہر علی صرف 16 اور تنزیل الطاف 11 رنز کے ساتھ محض دہرے ہندسے میں داخل ہو سکے جبکہ کامران اکمل، فہد الحق، اخلاق بٹ، محمد عرفان، محمد آفتاب اور عماد علی تو اس شرف سے بھی محروم رہے۔ ٹیم مقررہ 20 اوورز میں صرف 133 رنز جمع کرسکی جو پشاور کی گزشتہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ہر گز دفاع کے قابل اسکور نہیں تھا۔ پشاور کی جانب سے تاج ولی نے تین جبکہ عمران خان جونیئر نے دو اور افتخار احمد نے ایک وکٹ حاصل کی۔ 134 رنز کے آسان ہدف کے تعاقب میں پشاور پینتھرز کا آغاز جاندار تھا۔ صرف 4 اوورز میں اوپنرز رفعت اللہ مہمند اور اسرار اللہ نے 43 رنز داغ دیے اور لاہور کی رہی سہی امیدوں کا چراغ بھی گل کردیا۔ دونوں اوپنرز چار گیندوں کے وقفے سے آؤٹ ہوگئے لیکن افتخار احمد اور عادل امین نے معاملات کو سنبھال لیا۔ رفعت اللہ 13 گیندوں پر 26 اور اسرار اللہ 14 گیندوں پر 20 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ افتخار اور عادل نے تیسری وکٹ پر 82 رنز کی فتح گر شراکت داری بنائی یہاں تک کہ عادل 33 رنز بنانے کے بعد انیسویں اوور میں آؤٹ ہوگئے۔ بعد ازاں افتخار نے آخری اوور کی دوسری گیند پر اظہر علی کو چوکا رسید کرکے اپنی نصف سنچری بھی مکمل کی اور پشاور کو پہلی بار قومی سطح کا کوئی ٹی ٹوئنٹی اعزاز بھی جتوا دیا۔ افتخار 44 گیندوں پر 50 رنز کے ساتھ ناقابل شکست میدان سے لوٹے اور پشاور کے کھلاڑیوں کے ساتھ دیوانہ وار جشن منایا۔بعد ازاں افتخار احمد اور تاج ولی کو مشترکہ طور پر فائنل کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ کراچی ڈولفنز کے اسد شفیق کو سب سے زیادہ 214 رنز بنانے پر ٹورنامنٹ کا بہترین بلے باز اور عمران خان جونیئر کو سب سے زیادہ 12 وکٹیں لینے پر بہترین گیندباز قرار دیا گیا۔

...


Advertisment

Advertisment