Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 05:24 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

SPORTS NEWS   

انگلینڈ کے خلاف فتح کی راہ پر لوٹنا چاہے گی ٹیم انڈیا

 

انگلینڈ بھی واپسی کیلئے تیار،دونوں ٹیموں کو پہلے میچ میں شکست دے چکی ہے میزبان آسٹریلیا

برسبین19جنوری(آئی این ایس انڈیا)آسٹریلیا کے خلاف پہلے میچ میں ملی شکست سے مایوس ٹیم انڈیا اپنی غلطیوں سے سبق لے کر انگلینڈ کے خلاف سہ رخی ون ڈے کرکٹ سیریز کے دوسرے میچ کے ذریعے کل جیت کی راہ پر واپس لوٹنے کے ارادے سے اترے گی۔دونوں ٹیموں کو پہلے میچ میں میزبان آسٹریلیا نے شکست دی لہذا دونوں کا مقصد کل کھاتہ کھولنے کا ہوگا۔آسٹریلیا نے جمعہ کو سڈنی میں انگلینڈ کو تین وکٹوں سے شکست دینے کے بعد کل میلبورن میں ہندوستان کو چار وکٹ سے شکست دی۔پہلے میچ سے بونس پوائنٹس لینے کے بعد آسٹریلیا کے دو میچوں میں نو پوائنٹس ہے۔ہندوستان کے خلاف اس کا مقابلہ قریبی رہا۔ہندوستان کیلئے بھونیشور کمار اوراکشر پٹیل نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بلے بازوں کو باندھے رکھا۔ہندوستان کیلئے یہ اچھا اشارہ رہا کیونکہ ٹیسٹ سیریز میں اس کی گیند بازی دوسرے درجے کی تھی۔بھونیشور فٹنس مسائل کی وجہ سے پہلے تین ٹیسٹ نہیں کھیل سکے اور چوتھے میں وہ فارم میں نہیں تھے۔پانچ دن کے آرام اور نیٹ پر محنت کے بعد انہوں نے کل اچھی گیند بازی کی۔پہلی بار آسٹریلیا میں کھیل رہے بائیں ہاتھ کے اسپنراکشر نے بھی متاثر کیا۔کپتان مہندر سنگھ دھونی نے ان پر بھروسہ کر کے آخری اوورز میں انہیں گیند سونپی۔بعد میں دھونی نے آخری اوورز میں پٹیل کو پہلی پسند بنانے کے امکان پر بھی بات کی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کیلئے انہیں مسلسل اچھی گیند بازی کرنی ہوگی،کل کے میچ میں بھی سب کی نظریں بھونیشور اور پٹیل پر ہوں گی،دونوں سے ایک بار پھر عمدہ کارکردگی کی امیدیں ہوں گی اور اگر وہ ایسا کر پاتے ہیں تو ان کے اور ٹیم کیلئے یہ اچھا ہو گا چونکہ آر اشون میلبورن میں فارم میں نہیں تھے۔
دھونی کو گزشتہ میچ میں سنچری لگانے والے ر وہت شرما سے ایک بار پھر بڑی اننگز کی توقع ہو گی،وکٹوں کے لگے پت جھر کے درمیان شرما نے صبرو ضبط نہیں کھویا اور اچھی شروعات کو بڑی اننگ میں بدلا۔وہ وکٹوں کے درمیان تیز دوڑ بھی رہے تھے اور اسٹرائک بھی تبدیل کر رہے تھے۔ خوش قسمت رہے جو گزشتہ سال غیر ملکی سرزمین پر کھیلے گئے ون ڈے میچوں میں اچھا نہیں کر پا رہے تھے،اگر ان کا فارم برقرار رہتا ہے تو ہندوستان کی سلامی جوڑی کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔دوسرے سرے پر اگرچہ شیکھر دھون مسلسل خراب فارم میں ہیں،اجنکیا رہانے کو تیسرے اور وراٹ کوہلی کو چوتھے نمبر پر رنز بنانے ہوں گے تاکہ مڈل آرڈر پر دباؤ نہ بنے۔روندر جڈیجہ کی غیر موجودگی میں آخری اوورز میں تیزی سے رن بنانے کا دباؤ دھونی پر ہوگا،ابتدائی وکٹ جلدی گنوانے سے ان پر دباؤ بنے گا اور پانچ گیند بازوں کی حکمت عملی بھی کارگر ثابت نہیں ہوگی۔گزشتہ چند سال میں انگلینڈ کے خلاف ہندوستان کا ون ڈے ریکارڈ اچھا رہا ہے۔ہندوستان نے 2011کے دورہ پر ایک بھی میچ نہیں جیتا تھا لیکن اس کے بعد 15میں سے 12میچ جیتے جن میں سے چار انگلینڈ میں کھیلے گئے۔دوسری طرف الیسٹر کک کی جگہ نئے کپتان ایون مورگن کے ساتھ کھیل رہی انگلینڈ ٹیم کے پاس نئی حکمت عملی اپنانے اوران پر عمل کرنے کا وقت نہیں بچا ہے۔نیٹ پریکٹس کے دوران انگلینڈ نے اپنے سابق ا سٹار آل راؤنڈر اینڈریو فلنٹاف کی خدمات لی جس سے ٹیم کا اعتماد بڑھا ہوگا۔فلنٹاف یہاں بگ بیش لیگ کھیل رہے ہیں جبکہ کیون پیٹرسن بھی اس ٹورنامنٹ کیلئے آسٹریلیا میں ہیں لیکن ان سے مدد نہیں لی گئی ہے۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment