Today: Tuesday, September, 25, 2018 Last Update: 06:05 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

امریکی علم فلکیات کی پیشین گوئی پر غور کرنے کی ضرورت نہیں

 

کلینڈرہی بتا دے گا کب ہو گا گرہن :لکھنؤ یونیورسٹی کی تقسیم انعا م تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ کی وضاحت
لکھنؤ ، 19؍جنوری(آئی این ایس انڈیا )قدیم ہندوستانی سا ئنس کی تعریف کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کی پیشن گوئی کے لئے امریکی فلکیات کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ پڑوس کا کوئی پنڈت ہی اس بارے میں درست معلومات دے دے گا۔راج ناتھ نے لکھنؤ یونیورسٹی کی تقسیم انعا م کی تقریب میں کہا کہ ہمارا میڈیا الجھانے والا ہے۔یہ بتا دیا کہ امریکی علم فلکیا ت کہتا ہے کہ سورج گرہن اورچاند گرہن فلاں تاریخ کو ہو گا۔میں دیکھتا ہوں کہ وہاں سائنس نے کتنی بلندیو ں کو چھوا ہے ۔مت دیکھو امریکی علم فلکیا ت کی طرف۔پڑوس میں کوئی بھی پنڈت جی ہوں گے، کلینڈر کھولیں گے۔سو سال پہلے اور سو سال بعد کے گرہن کے با رے میں بتا دیں گے۔قدیم ہندوستانی علوم کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے رشیو ں نے بتا دیا ہے کہ 1.96ارب سال پہلے ہماری زمین بن گئی تھی۔پہلے سائنس نے اسے نہیں مانا تھا لیکن بعد میں اسے ماننا پڑا۔جو انہوں نے بتایا وہ ہمارے چینلوں پر چلتا ہے ۔ارے پنڈت جی سے ہی پوچھ لیتے۔راج ناتھ نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس وہ علم نہیں، جو ہندوستان کے پاس ہے۔چاہے وہ علم مثلث ، الجبرا یا دیگر کوئی نظریہ ہو، کوئی دوسرا ملک ہمارے علم کے مساوی علم نہیں رکھتا۔انہوں نے طالب علموں کی روحانی ترقی اور ان میں اقدار کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالم سے متعلق قدیم ہندوستانی سائنس جدید سائنسی کی ہی طرح ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ نوجوانوں میں دو طرح کے گروہ ہو گئے ہیں۔ایک وہ جو آئی ٹی، میڈیکل اور سائنس میں نام کما رہے ہیں اور دوسرے وہ جن کے پاس ہائی ٹیک ڈگریاں ہیں لیکن وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی میں شامل ہیں۔راج ناتھ نے کہا کہ جس سا ئنس کا اقدار سے تعلق ہو تا ہے، وہ معاشرے کے لئے فلاحی کا ذریعہ ہوتا ہے ۔دو سری جانب جو علم اقدار سے وابستہ نہیں ہو تا، وہ معاشرے کے لئے تباہ کن ہوتا ہے۔جو علوم اپنے اقدار سے کٹ گئے ہوں ، وہ طویل وقت تک قائم نہیں رہ پاتے ہیں ۔ہندوستان ہی ہے جس نے بڑا دل دکھایا اور انسانیت کا پیغام دنیا کو دیا۔انہوں نے ’ ہیلواور’بائی‘کی تہذیب پر اعتراض کرتے ہوئے طالب علموں سے کہا کہ وہ ایسا نہ کریں بلکہ تہذیب پر عمل کر تے ہوئے اپنے والدین اور بزرگو ں کے پیر چھو ئیں ۔راج ناتھ نے کہا کہ بچوں کو بتائے کہ ہیلو اور بائی کا کلچر ختم ہو نا چاہئے ۔بچے ما ں اوربا پ کو ہیلو بولتے ہیں۔یہ کیا ہو گیا ہے۔کیا ماں باپ کا پاؤ ں چھونے سے کوئی چھوٹا ہو جاتا ہے۔جو جھکنا نہیں جانتا، وہ زندگی میں کسی نہ کسی وقت ٹوٹ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ والدین کے قدمو ں کو چھو نا ہندوستانی تہذیب اور روایت کا حصہ ہے۔ہمیں بچوں کو یہ بتانا چا ہئے کہ وہ ہیلو اور بائی چھوڑکر والدین اور بزرگوں کے پاؤ ں چھو ئیں ۔وزیر داخلہ نے ریاضی کے فارمولے کے ذریعہ مثبت اور منفی سوچ میں فرق کو سمجھایا اور طالب علموں کو مشورہ دیا کہ وہ خود کی ترقی کے لئے نہیں بلکہ دوسروں کی ترقی کے لئے بھی کام کریں۔

...


Advertisment

Advertisment