Today: Monday, November, 19, 2018 Last Update: 11:39 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

بریلی میں حالات پرامن ، کشیدگی برقرار

 

20سے زائد افراد گرفتار،400لوگوں کے خلاف مقدمہ د رج

بریلی،15جنوری(یو این آئی) اترپردیش میں بریلی کے فتح گنج مغربی علاقے میں ایک مذہبی مقام کے پاس گوشت پائے جانے سے ہوئے تنازعہ کے بعد شہر میں پرامن کشیدگی ہے ۔ اس سلسلے میں پولیس نے اب تک 20سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا ہے ۔ اس سلسلے میں قریب 400لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ سینئر ایس پی دھرمویر سنگھ یادو نے آج یہاں بتایا کہ فتح گنج مغربی قصبے میں حالات اب پوری طرح معمول پر ہیں۔حساس مقامات پر احتیاطاً پولیس فورس تعینات ہے ۔ شہر میں دفعہ 144کا سختی سے نفاذ کرایا جارہا ہے ۔انھوں نے بتایا کہ فیس بک یا دیگر سوشل نیٹ ورکنگ میڈیا پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے ۔ فسادیوں پر نظر رکھی جارہی ہے ۔ افسران بھی گشت کر رہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ دو دن پہلے ایک مذہبی مقام پر گوشت کا ٹکڑا پھینکے جانے کے بعد قصبے میں تشدد بھڑک اٹھا تھا ۔ اس معاملے میں کل بازار بندکروا رہے لوگوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہوئی جھڑپ میں 15لوگ زخمی ہو گئے تھے ۔ غصے سے بھری بھیڑ نے پولیس کی تین گاڑیوں کو نقصان پہونچایا تھا۔ بھیڑ پر قابو پانے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور ہوا میں گولیاں چلائیں نیز آنسو گیس کے گولے داغے ۔دریں اثنا اسمبلی کے سابق نائب صدر اور ایم ایل اے راجیش اگروال انتظامیہ پر آگ بگولا ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ سینئر ایس پی یک طرفہ کارروائی کروا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بدایوں ، مرادآباد اور متھرا میں دھرمویر سنگھ یادو کے پولیس کپتان رہتے ہوئے بھی اختلاف بھڑک چکا ہے ۔ اب وہ بریلی کا سکون درہم برہم کرنے آگئے ہیں۔مسٹر اگروال نے آج یو این آئی سے کہا کہ بریلی میں فساد کروانے کی تین کوششیں ہو چکی ہیں اور یہ تینوں ہی مسٹر یادو کے یہاں تعینات ہونے کے بعد ہو ئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ پہلے واقعہ میں مورتی برباد کی گئی تھی۔ دوسرے میں ایک مذہبی مقام کے پاس کتے مارکر پھینکے گئے تھے جبکہ دو دن پہلے مذہبی مقام کے پاس گوشت پھینکا گیا۔ان واقعات کے لیے پولیس ایک ہی فرقے کے لوگوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے ۔ پولیس کپتان نے کل ایک بی جے پی کارکن کو سرعام پیروں سے مارا۔انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کا یہی رویہ برقرار رہا تو بی جے پی تحریک چھیڑنے پر مجبور ہوگی۔

...


Advertisment

Advertisment